WE News:
2026-07-24@11:49:27 GMT

بھولا ہوا ستارہ: ظہور احمد راجہ کا سفر

اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT

بھولا ہوا ستارہ: ظہور احمد راجہ کا سفر

ظہور احمد راجہ، ایک ایسا نام جو کبھی ہندوستانی اور پاکستانی سنیما کی دنیا میں گونجتا تھا، مگر رفتہ رفتہ دھندلا گیا ہے۔ تاہم فلم انڈسٹری میں ان کی خدمات بے مثال رہیں۔

وہ ایک اداکار، ہدایت کار، گلوکار اور پروڈکشن ہیڈ تھے۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ فوج میں جائیں لیکن وہ بمبئی فلم انڈسٹری کی طرف بھاگے۔ وہ نہ صرف راجہ عباسی تھے، بلکہ بالی ووڈ فلم انڈسٹری کے راجہ جانی تھے۔

 ابتدائی زندگی اور تعلیم

 ایبٹ آباد ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں لورہ جو اب تحصیل ہے، میں پیدا ہونے والے ظہور احمد راجہ عباسی قبیلہ سے تعلق رکھنے تھے۔ یہ قبیلہ آج بھی بےحد مقبول ہے۔ ان کے والد پرانے بنی محلہ راولپنڈی میں ایک پولیس انسپکٹر تھے،  وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا ہندوستان کے دہرہ دون میں فوج کی تعلیم حاصل کرے۔ تاہم نوجوان ظہور کی دوسری خواہشات تھیں۔ وہ فلموں میں قسمت آزمانے کے لیے بھاگ کر بمبئی (ممبئی) چلے گئے۔

مشہور سوشل ورکر جواد اللہ کے مطابق اپنے والد کے گھر سے فرار ہونے سے پہلے ظہور راولپنڈی کے مشہور گورڈن کالج کے طالب علم تھے، جہاں انہیں ایک مقبول ڈرامہ اداکار کے طور پر پہچان ملی۔

 ایک کثیر جہتی کیریئر

 ظہور احمد راجہ کی فنون لطیفہ سے محبت نے انہیں مختلف تخلیقی راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا۔ وہ فلم انڈسٹری میں ایک ہمہ جہتی شخصیت بن گئے، جس نے ہندوستانی اور پاکستانی سنیما پر انمٹ نقوش چھوڑے۔  ان کے قابل ذکر کاموں میں شامل ہیں:

 اداکاری

 انہوں نے مختلف فلموں میں اداکاری کی، اکثر ولن کے کردار ادا کیے جو ایک اداکار کے طور پر ان کی استعداد کو ظاہر کرتے تھے۔ ان کی چند قابل ذکر فلموں میں شامل ہیں:

 انمول گھری (1946)، خونی کتار (1931)، فریبی ڈاکو (1931)، اسٹیٹ ایکسپریس (1938) اور چمڑے کا چہرہ عرف فرزند وطن (1939)شامل ہیں۔

 گلوکاری

 راجہ کی گلوکاری کی صلاحیتوں کو ان کی فلموں میں بھی نمایاں کیا گیا، جس سے ان کی فنی حد کو مزید دکھایا گیا۔

 فلم سازی

 انہوں نے فلم سازی کے مختلف پہلوؤں پر نت نئے طریقے آزمائے، جس سے انڈسٹری پر دیرپا اثرات مرتب ہوئے۔ بطور فلمساز ان کی چند قابل ذکر فلموں میں شامل ہیں:

جہاد (1950) اور خیبر میل شامل ہیں۔

 پروڈکشن ہاؤس کا مالک

 راجہ نے فلم انڈسٹری میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرتے ہوئے اور آنے والی نسلوں کے لیے راہ ہموار کرتے ہوئے اپنا پروڈکشن ہاؤس بھی قائم کیا  قائم کیا۔ تاہم اس کی مزید تفصیلات نہیں مل سکیں ۔

 ذاتی زندگی

 بمبئی میں راجہ نے خوبصورت اداکارہ رادھا رانی سے شادی کی۔ تاہم، پاکستان کے قیام کے بعد وہ ہندوستان چھوڑ کر واپس پاکستان آگئے، جب کہ ان کی اہلیہ نے ہندوستان میں رہنے کا انتخاب کیا۔

راجہ کو کراچی، لاہور اور ملتان میں جائیدادوں کی پیشکش کی گئی، لیکن انہوں نے ان کی پرواہ نہیں کی، اور بعد میں ان کے بھتیجے افتخار عباسی کے مطابق حکومت نے الاٹمنٹ منسوخ کر دی۔

راجہ نے بعد میں لاہور میں مینا شوری سے شادی کی، لیکن یہ شادی چند ماہ بعد ہی ختم ہوگئی۔ اس نے فن لینڈ کی ایک خاتون اور بعد میں انگلینڈ کی ایک خاتون سے شادی بھی کی، جن سے اس کے دو بیٹے تھے، جو  انگلینڈ میں ہی رہ رہے ہیں۔

 افتخار عباسی کے مطابق راجہ اکثر لندن پر واقع اپنی رہائش گاہ سے ان کی فیملی  سے ملنےآ جاتے  تھے۔ مگر بعد میں جب وہ اپنے انگریز فیملی کے ساتھ رمز کیٹ رہنے لگے تو رابطے منقطع ہو گئے۔ ایک اور بھتیجے پپو جمیل نے انکشاف کیا کہ راجہ کا انتقال 1993 میں لندن کے اسپتال میں ہوا، مگر اس کی خبر بہت دیر سے ان کے عزیزوں کو ملی۔ پپو کے مطابق آخری وقت وہ اپنی برطانیہ والی فیملی کے ساتھ رہے۔

 میراث

 ظہور احمد راجہ کا شاندار سفر خواہشمند فنکاروں کے لیے ایک تحریک کا کام کرتا ہے۔ ہندوستانی اور پاکستانی سنیما میں ان کی شراکتیں منائی جاتی رہیں، اور ان کی میراث خطے کے بھرپور ثقافتی ورثے کا ایک لازمی حصہ بنی ہوئی ہے۔ ان کے انتقال کے باوجود اس کا کام سامعین کو محظوظ اور متاثر کرتا ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ اس کی میراث آنے والی نسلوں تک برقرار رہے۔

روزنامہ دی نیوز کے ممتاز صحافی سید کوثر نقوی کا کہنا ہے کہ ہم اپنی اہم شخصیات کو ہمیشہ بھول جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اعلیٰ تاریخی سیاسی سماجی مذہبی تلاش کریں اور کم از کم کچھ سڑکوں یا پلوں کو ان کے ناموں سے منسوب کریں، تاکہ نئی نسل کو تاریخی لوگوں کا پتہ چل سکے۔

سید کوثر نقوی نے تحصیل میئر کو مشورہ دیا کہ وہ کسی ایک گلی یا کسی عمارت یا پل کا نام راجہ ظہور عباسی کے نام پر رکھیں۔ تحصیل میئر لورہ افتخار عباسی کا کہنا ہے کہ لورہ تاریخ کے سچے، موتیوں سے بھرا پڑا ہے۔

انہوں نے تمام پرانی تاریخی شخصیات کی تلاش کے لیے مقامی لوگوں کی ایک کمیٹی بنانے کا وعدہ کیا اور ان کی تفصیلات اکٹھی کر سکیں، تاکہ تحصیل کی کچھ عمارتیں یا سڑکیں ان کے ناموں سے رکھ سکیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبید الرحمان عباسی

مصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ظہور احمد راجہ فلم انڈسٹری فلموں میں کے مطابق شامل ہیں انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ

سٹی 42: چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں  نے امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ کیا ۔

 یونیورسٹی آف شکاگو کا دورہ

 چیئرمین رانا مشہود احمد خاں نے کہا وزیراعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور عالمی مواقع سے جوڑنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہا ہے، ڈیجیٹل مہارتوں، قیادت اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ کے لیے عالمی اداروں کے ساتھ تعاون نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے ضروری ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کے لیے مختصر مدتی تربیتی پروگرام، کیریئر تیاری اور جدید مہارتوں کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں،  عالمی جامعات کے ساتھ شراکت داری پاکستان کے نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم اور مواقع فراہم کرے گی، یونیورسٹی آف شکاگو نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے ساتھ نوجوانوں کی ترقی اور تعلیمی تعاون کو فروغ دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا.

آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے

یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو (UIC) کا دورہ

چیئرمین رانا مشہود احمد خاں نے کہا جدید تحقیق، طبی تعلیم اور ڈیجیٹل ہیلتھ کے شعبوں میں عالمی تعاون نوجوانوں کے لیے نئے راستے کھولے گا، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے شعبوں میں تعاون کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکتا ہے، وزیراعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کو جدید علوم اور عالمی معیار کی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے کوشاں ہے، پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی و تحقیقی روابط کو مزید مضبوط بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو (UIC) نے پاکستان کے ساتھ تحقیق، طبی تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا.

آج شام و رات سے 27 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی

ڈی پال یونیورسٹی کا دورہ

 چیئرمین رانا مشہود احمد خاں نے کہا نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں، کاروباری صلاحیتوں اور قائدانہ تربیت سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،پاکستانی طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد دونوں ممالک کے مضبوط تعلیمی تعلقات کی عکاس ہے، بیرونِ ملک زیر تعلیم پاکستانی نوجوان ملک کے بہترین سفیر ہیں،  وزیراعظم یوتھ پروگرام عالمی تعلیمی اداروں کے تعاون سے نوجوانوں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے، ڈی پال یونیورسٹی نے پاکستانی نوجوانوں کے لیے تعلیمی مواقع، ڈیجیٹل مہارتوں اور تربیتی پروگراموں میں تعاون کی خواہش کا اظہار کیا.

لیونل میسی کا بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • رانا ثنا اور امیر مقام کی برطانوی بزنس مین سے ملاقات، راجہ وسیم نے غلاف کعبہ بطور تحفہ پیش کیا
  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر