Express News:
2026-06-03@08:42:29 GMT

وقت وقت کی بات ہے

اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT

گزشتہ دنوں بھارت میں شری رام چندر جی کا جنم دن منایا گیا۔ بی جے پی کے غنڈوں نے اس دن جامے سے باہر ہوکر رقصِ ابلیس کیا اور مسلمانوں کو طیش دلانے کے لیے اشتعال انگیز نعرے لگائے، تاہم مسلمانوں کے علمبردار مولانا محمود احمد مدنی نے مسلمانوں کو پرامن اور پرسکون رہنے کی تلقین کی، تاکہ بی جے پی کے غنڈے موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ جیسا کہ اندیشہ اور خدشہ تھا کہ بی جے پی اگر برسرِ اقتدار آگئی تو ہندوستان کے مسلمانوں کی خیر نہیں، ٹھیک ویسا ہی ہو رہا ہے۔

بھارت کے مسلمانوں کو ہر طرح سے تنگ کیا جارہا ہے اور ان پر مظالم پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔توجہ طلب بات یہ ہے کہ بی جے پی کے قائدین جوکچھ کر رہے ہیں وہ ہندو دھرم کے خلاف کر رہے ہیں جوکہ ہندو دھرم کو بدنام کرنے کے مترادف ہے کیونکہ شری رام چندر جی نے نہ تو تشدد کا درس دیا ہے اور نہ ہی کسی کے دھرم کو بُرا بھلا کہنے کی ترغیب دی ہے۔اصل معاملہ اس کے الٹ ہے۔

ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن جسے والمیکی نے سنسکرت بھاشا میں تحریر کیا تھا اور جس کا ہندی ترجمہ کرنے میں دربارِ اکبری کے اہم رکن اور ہندی کے مہا کوی (شاعر) عبدالرحیم خان خانہ نے تلسی داس کی مالی اعانت کی تھی، اس میں رام چندر جی کا جو چرتر (عظیم) کردار بیان کیا گیا ہے، اس کے مطابق ہندوؤں کے پیشوا رام چندر جی نے انسانوں کو امن و آشتی اور بھائی چارے کی تلقین کی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ بی جے پی اور اس کے غنڈے اپنے پیشوا رام چندر جی کی توہین کر رہے ہیں۔رامائن کے مطابق بھارت کو ایک امن پسند اور صلح جو دیس ہونا چاہیے۔

ہمیں یقین ہے کہ آپ کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہوگی کہ بھارت میں بی جے پی کے ہاتھوں مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد کی شہادت کی کارروائی شری رام چندر جی کے درس کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھارت کے سیکولر آئین کی بھی خلاف ورزی ہے، جو بلا امتیاز بھارت کے تمام شہریوں کو برابرکے حقوق دیتا ہے۔ وہ تو خیر ہوئی کہ بھارت کے حالیہ عام انتخابات میں بی جے پی کو دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہوئی ورنہ وہ بھارت کے آئین میں تبدیلی کر کے سیکولر ازم کا خاتمہ کردیتی۔ یہ بات انتہائی خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے کہ بھارت کے مسلمانوں نے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے کمر کس لی ہے اور جمعیت العلماء ہند کے مرکزی قائد مولانا محمود اسعد مدنی کو اپنا علمبردار منتخب کرلیا ہے۔

مولانا مدنی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ان کے باپ دادا کی عظمت مسلمہ ہے۔ اس کے علاوہ مولانا بذاتِ خود بھی بیشمار خوبیوں کے حامل ہیں۔ دور اندیشی، فہم و فراست، قوتِ فیصلہ سازی کے علاوہ ان میں اور بھی بیشمار خوبیاں موجود ہیں۔ وہ مسلمانوں کو کسی بھی حالت میں مشتعل نہ ہونے کی ہدایت اور ضبط و تحمل سے کام لینے کی تلقین کر رہے ہیں۔

انھیں یقینِ کامل ہے کہ اگر مسلمانوں نے ان کی ہدایات پر عمل کیا تو اِن شاء الہ مکمل کامیابی اُن کے قدم چومے گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں اپنی اپنی جگہ اپنا کردار ادا کرتی رہیں اور کسی بھی حالت میں صبر و استقامت کا دامن اپنے ہاتھوں سے نہ چھوڑیں۔ مولانا محمود اسعد مدنی صبر و استقامت کا کوہِ گراں ہیں۔نریندر مودی جو خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں اپنے پاپوں کا بھگتان بھگتنے والے ہیں اور اِنشاء اللہ ان کے اقتدارکا سورج غروب ہونے والا ہے۔سیاسی نجومیوں کا خیال ہے کہ بھارت کے آیندہ انتخابات میں انھیں منہ کی کھانا پڑے گی۔ ساحرنے کیا خوب کہا ہے:

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

نریندر مودی نے چناؤ سے پہلے بھارتی جنتا کو سہانے خواب دکھائے تھے اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے دورِ اقتدار میں بھارت سورگ بن جائے گا اور غربت اور بیروزگاری ختم ہوجائے گی۔ ووٹروں نے ان کے کہے پر یقین کرلیا اور وہ جھانسے میں آگئے۔ اب نتیجہ سب کے سامنے ہے اور غریبی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگوں کا جینا حرام ہوچکا ہے اور دو وقت کی روٹی کے لیے بھی پریشان ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے امیر امیر تر ہوتے جا رہے ہیں جن میں اڈانی اور امبانی سرِفہرست ہیں۔جھوٹ اور مکاری کی سیاست نے مودی کو چائے والا سے پردھان منتری بنا دیا ہے۔ وقت وقت کی بات ہے اور وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اور وقت ہمیشہ ساتھ نہیں دیتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مسلمانوں کو بی جے پی کے کہ بی جے پی کر رہے ہیں بھارت کے کہ بھارت ہے اور

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی