لاہور (خصوصی نامہ نگار) پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ  صوبہ کے کسان و کاشتکار کی مشکلات ہماری مشکلات ہیں۔ زراعت کے شعبہ کا ترقیاتی بجٹ انتیس ارب روپے سے چونسٹھ ارب تک پہنچایا۔ چار سو ارب روپے ایگری کلچر کے نام پر کسان کو دیاگیا۔ معاون خصوصی برائے پرائس کنٹرول سلمیٰ بٹ نے گندم پر اپنی پالیسی ایوان میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کے فیصلہ کے بعد اس بار صوبائی حکومتیں گندم کی قیمت کا تعین کریں گی نہ خریدیں گی۔ صوبائی وزیر برائے ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ ہمارا کوئی ریگولر ملازمین میں سے کوئی ایک شخص بھی بے روزگار نہیں ہے۔ رورل سنٹر اور بی ایچ یوز کو اس طرح فنکشنل نہ کر سکے جس طرح ہونا چاہیے تھا، 935بیڈ پر مشتمل نوازشریف انسٹیٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ ہسپتال بل، ایسڈ سے متعلقہ بل کثرت رائے سے منظور، مفاد عامہ سے متعلقہ دو قراردادیں بھی منظور۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 25منٹ کی تاخیر سے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس میں محکمہ اوقاف کے بارے میں متعلقہ وزیر چوہدری شافع حسین نے سوالوں کے جوابات دیئے۔ حکومتی رکن راجہ شوکت بھٹی نے ڈکیت سرغنہ شکیل کیانی کی ہلاکت پر پنجاب پولیس کی تعریف کی۔ شکیل کیانی ڈکیت نے جعلی روبکاروں سے ڈکیتوں کو رہا کرایا، راولپنڈی میں ڈکیتی، زیادتی، چوری، راہزنی کے کیسز میں ملوث اور پنجاب کے ماتھے پر کلنک تھا، پولیس افسران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پنجاب کے ناسور سے، انٹرنیشنل ڈکیت سے جان چھڑوائی، لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ سپیکر نے رکن اسمبلی سے استفسار کیا کہ کیا آپ پولیس مقابلہ کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور چوہدری شافع حسین نے جدید دور میں درباروں سے چندہ اکٹھا کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کا اظہار کردیا۔ کہا کہ اب پنجاب کے تمام درباروں پر اے ٹی ایم مشین کی طرز پر پیسوں کے گلے رکھے جائیں گے، پنجاب کے تمام درباروں کیلئے فنڈز کا اجراء کیا ہے، اوقاف کی زمین پر ناجائز قبضہ وگزار کرانے کے لئے ٹیم بنادی ہے۔ وزیر اوقاف و مذہبی امور چوہدری شافع حسین نے محکمہ اوقاف کی زمینوں پر ناجائز قابضین کے خلاف آپریشن کرنے کا اعلان کردیا۔ پنجاب بھر میں بہت سی ایسی جگہ ہیں جہاں قابضین بیٹھے ہیں ان جگہوں کو خالی کروائیں گے، چھوڑیں گے نہیں۔ گذشتہ روز بھی اپوزیشن  پنجاب اسمبلی کے ایوان میں نعرے بازی کرتے ہوئے داخل ہوئی۔ اپوزیشن ارکان نے بانی پی ٹی آئی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور بانی پی ٹی آئی کو رہا کرنے کے نعرے لگائے۔ وزیر اوقاف و مذہبی امور چوہدری شافع حسین نے جوتوں کی دیکھ بھال کیلئے زائد پیسے وصول کرنے والے مافیا کے خلاف ایکشن لینے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ اپوزیشن رکن اسماعیل سیلہ نے بھی اپنے حلقہ میں دربار پر قبضہ کرنے کا انکشاف کیا۔ صوبائی وزیر ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق نے جواب میں کہا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس پر ہم نے کسی بھی قسم کا سختی کا رویہ نہیں اپنایا۔  کے پی آئی کو ڈویلپ کیا گیا ہے۔ جب تک مریضوں کی تکلیف دور نہیں ہوگی پیسے نہیں دیں گے۔ ایچ آئی ایم ایس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا کہیں بھی مریض جائے اس کی ای فائل پہلے ہی ڈاکٹرز کے پاس پہنچ جائے گی۔ سپیکر ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والے کتنے بھی خراب ہوں لیکن دو تین ہفتہ سے سڑک پر بیٹھے ہیں ان کا مسئلہ حل ہونے چاہئے۔ خواجہ عمران نذیر نے کہاکہ بیروزگار نہیں ہوں گے، جو جمہوری طریقہ ہے وہ طریقہ اختیار کریں، اگر ان کی بات چیت پہلے جو احتجاج پر ہیں بات ہوئی تو بتائیں، یہ لوگ اسمبلی گیٹ پر آ گئے ہیں۔ جواب میں خواجہ سلمان رفیق نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ بیس ہزار کمیونٹی انسپکٹرز بھرتی کئے جو گھر گھر جاکر ادویات کی سروسز دیں گے۔ اس موقع پراپوزیشن نے کسانوں کو گندم کی امدادی قیمت کا اعلان نہ کرنے کے خلاف احتجاج شروع کردیا اور پنجاب اسمبلی اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔ ارکان پلے کارڈز اٹھاکر نعرے بازی کررہے تھے۔ جواب میں پارلیمانی سیکرٹری ملک وحید نے کہا کہ پی ٹی آئی والے پہلے اپنے صوبے کے متعلق بتائیں کہ گندم کا کتنا ریٹ ہے، اگر گنڈا پور نے کسان کو کوئی پیکج دیا تو ریٹ پنجاب سے کم ہے تو احتجاج کرتے شرم نہیں آتی، اٹھارہ سو روپے میں کے پی میں گندم فروخت ہو رہی ہے۔ ایوان میں پنجاب اسمبلی میں دی پنجاب ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ ترمیم بل 2025ء، دی امپیریل ٹیوٹرل کالج بل 2025ء ایوان میں پیش کردیا گیا، پنجاب اسمبلی میں دی لاہور کیپیٹل یونیورسٹی بل 2025ء، دی سائوتھ ہل یونیورسٹی بل 2025ء، دی مکبر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی گجرات بل 2025ء، پنجاب اسمبلی میں دی پراونشل موٹر وہیکل ترمیمی بل 2025ء، دی پراونشل اسمبلی آف دی پنجاب پرولیج ترمیمی بل 2025ء، دی ابوہ یونیورسٹی فیصل آباد بل 2025ء، دی لاہور انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ترمیمی بل 2025ء  پیش کردئیے گئے، تمام بلز کو دو ماہ کیلئے متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹیوں کے حوالے کردیا گیا۔ پرائیویٹ ممبر ڈے کے موقع پر مفاد عامہ سے متعلقہ دی پنجاب ایسڈ کنٹرول بل 2025ء منظورکر لیا گیا۔ بل رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ نے پیش کیا۔ دی پنجاب پریونشن اینڈ کنٹرول آف تھیلیسمیا بل 2024ء پنجاب اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور کرلیا، یہ بل حکومتی رکن سید علی حیدر گیلانی نے ایوان میں پیش کیا۔ دی یونیورسٹی آف وائٹ روک بل 2025ء پنجاب اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، بل حکومتی رکن خالد محمود ججہ نے پیش کیا۔ دی نیکسز یونیورسٹی سیالکوٹ بل 2025ء پنجاب اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ یہ بل رکن اسمبلی شازیہ عابد کی عدم موجودگی پر رکن اسمبلی عطیہ افتخار نے پیش کیا۔ دی نیکسٹ انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025ء پنجاب اسمبلی سے کثرت رائیسے منظور کرلیاگیا، بل رکن اسمبلی راحیلہ خادم حسین کی عدم موجودگی پر رکن اسمبلی عطیہ افتخار نے پیش کیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے دی پنجاب آرمز ترمیمی بل 2025ء متعلقہ کمیٹی کے حوالے کردیا۔ ایوان میں مفاد عامہ سے متعلقہ کینسر کی تشخیص کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔ پینل آف چیئرپرسن سمیع اللہ خان نے ایجنڈا مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی سے کثرت چوہدری شافع حسین نے رکن اسمبلی نے پیش کیا ایوان میں پنجاب کے نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔

سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔

رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔

رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

        View this post on Instagram                      

 

نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل

سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔

اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن