پنجاب اسمبلی: گندم کی قیمت کا اعلان نہ ہونے پر اپوزیشن کا احتجاج: چھوٹے کسانوں کو تحفظ دینگے، حکومت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ صوبہ کے کسان و کاشتکار کی مشکلات ہماری مشکلات ہیں۔ زراعت کے شعبہ کا ترقیاتی بجٹ انتیس ارب روپے سے چونسٹھ ارب تک پہنچایا۔ چار سو ارب روپے ایگری کلچر کے نام پر کسان کو دیاگیا۔ معاون خصوصی برائے پرائس کنٹرول سلمیٰ بٹ نے گندم پر اپنی پالیسی ایوان میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کے فیصلہ کے بعد اس بار صوبائی حکومتیں گندم کی قیمت کا تعین کریں گی نہ خریدیں گی۔ صوبائی وزیر برائے ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ ہمارا کوئی ریگولر ملازمین میں سے کوئی ایک شخص بھی بے روزگار نہیں ہے۔ رورل سنٹر اور بی ایچ یوز کو اس طرح فنکشنل نہ کر سکے جس طرح ہونا چاہیے تھا، 935بیڈ پر مشتمل نوازشریف انسٹیٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ ہسپتال بل، ایسڈ سے متعلقہ بل کثرت رائے سے منظور، مفاد عامہ سے متعلقہ دو قراردادیں بھی منظور۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 25منٹ کی تاخیر سے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس میں محکمہ اوقاف کے بارے میں متعلقہ وزیر چوہدری شافع حسین نے سوالوں کے جوابات دیئے۔ حکومتی رکن راجہ شوکت بھٹی نے ڈکیت سرغنہ شکیل کیانی کی ہلاکت پر پنجاب پولیس کی تعریف کی۔ شکیل کیانی ڈکیت نے جعلی روبکاروں سے ڈکیتوں کو رہا کرایا، راولپنڈی میں ڈکیتی، زیادتی، چوری، راہزنی کے کیسز میں ملوث اور پنجاب کے ماتھے پر کلنک تھا، پولیس افسران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پنجاب کے ناسور سے، انٹرنیشنل ڈکیت سے جان چھڑوائی، لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ سپیکر نے رکن اسمبلی سے استفسار کیا کہ کیا آپ پولیس مقابلہ کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور چوہدری شافع حسین نے جدید دور میں درباروں سے چندہ اکٹھا کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کا اظہار کردیا۔ کہا کہ اب پنجاب کے تمام درباروں پر اے ٹی ایم مشین کی طرز پر پیسوں کے گلے رکھے جائیں گے، پنجاب کے تمام درباروں کیلئے فنڈز کا اجراء کیا ہے، اوقاف کی زمین پر ناجائز قبضہ وگزار کرانے کے لئے ٹیم بنادی ہے۔ وزیر اوقاف و مذہبی امور چوہدری شافع حسین نے محکمہ اوقاف کی زمینوں پر ناجائز قابضین کے خلاف آپریشن کرنے کا اعلان کردیا۔ پنجاب بھر میں بہت سی ایسی جگہ ہیں جہاں قابضین بیٹھے ہیں ان جگہوں کو خالی کروائیں گے، چھوڑیں گے نہیں۔ گذشتہ روز بھی اپوزیشن پنجاب اسمبلی کے ایوان میں نعرے بازی کرتے ہوئے داخل ہوئی۔ اپوزیشن ارکان نے بانی پی ٹی آئی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور بانی پی ٹی آئی کو رہا کرنے کے نعرے لگائے۔ وزیر اوقاف و مذہبی امور چوہدری شافع حسین نے جوتوں کی دیکھ بھال کیلئے زائد پیسے وصول کرنے والے مافیا کے خلاف ایکشن لینے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ اپوزیشن رکن اسماعیل سیلہ نے بھی اپنے حلقہ میں دربار پر قبضہ کرنے کا انکشاف کیا۔ صوبائی وزیر ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق نے جواب میں کہا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس پر ہم نے کسی بھی قسم کا سختی کا رویہ نہیں اپنایا۔ کے پی آئی کو ڈویلپ کیا گیا ہے۔ جب تک مریضوں کی تکلیف دور نہیں ہوگی پیسے نہیں دیں گے۔ ایچ آئی ایم ایس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا کہیں بھی مریض جائے اس کی ای فائل پہلے ہی ڈاکٹرز کے پاس پہنچ جائے گی۔ سپیکر ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والے کتنے بھی خراب ہوں لیکن دو تین ہفتہ سے سڑک پر بیٹھے ہیں ان کا مسئلہ حل ہونے چاہئے۔ خواجہ عمران نذیر نے کہاکہ بیروزگار نہیں ہوں گے، جو جمہوری طریقہ ہے وہ طریقہ اختیار کریں، اگر ان کی بات چیت پہلے جو احتجاج پر ہیں بات ہوئی تو بتائیں، یہ لوگ اسمبلی گیٹ پر آ گئے ہیں۔ جواب میں خواجہ سلمان رفیق نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ بیس ہزار کمیونٹی انسپکٹرز بھرتی کئے جو گھر گھر جاکر ادویات کی سروسز دیں گے۔ اس موقع پراپوزیشن نے کسانوں کو گندم کی امدادی قیمت کا اعلان نہ کرنے کے خلاف احتجاج شروع کردیا اور پنجاب اسمبلی اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔ ارکان پلے کارڈز اٹھاکر نعرے بازی کررہے تھے۔ جواب میں پارلیمانی سیکرٹری ملک وحید نے کہا کہ پی ٹی آئی والے پہلے اپنے صوبے کے متعلق بتائیں کہ گندم کا کتنا ریٹ ہے، اگر گنڈا پور نے کسان کو کوئی پیکج دیا تو ریٹ پنجاب سے کم ہے تو احتجاج کرتے شرم نہیں آتی، اٹھارہ سو روپے میں کے پی میں گندم فروخت ہو رہی ہے۔ ایوان میں پنجاب اسمبلی میں دی پنجاب ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ ترمیم بل 2025ء، دی امپیریل ٹیوٹرل کالج بل 2025ء ایوان میں پیش کردیا گیا، پنجاب اسمبلی میں دی لاہور کیپیٹل یونیورسٹی بل 2025ء، دی سائوتھ ہل یونیورسٹی بل 2025ء، دی مکبر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی گجرات بل 2025ء، پنجاب اسمبلی میں دی پراونشل موٹر وہیکل ترمیمی بل 2025ء، دی پراونشل اسمبلی آف دی پنجاب پرولیج ترمیمی بل 2025ء، دی ابوہ یونیورسٹی فیصل آباد بل 2025ء، دی لاہور انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ترمیمی بل 2025ء پیش کردئیے گئے، تمام بلز کو دو ماہ کیلئے متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹیوں کے حوالے کردیا گیا۔ پرائیویٹ ممبر ڈے کے موقع پر مفاد عامہ سے متعلقہ دی پنجاب ایسڈ کنٹرول بل 2025ء منظورکر لیا گیا۔ بل رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ نے پیش کیا۔ دی پنجاب پریونشن اینڈ کنٹرول آف تھیلیسمیا بل 2024ء پنجاب اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور کرلیا، یہ بل حکومتی رکن سید علی حیدر گیلانی نے ایوان میں پیش کیا۔ دی یونیورسٹی آف وائٹ روک بل 2025ء پنجاب اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، بل حکومتی رکن خالد محمود ججہ نے پیش کیا۔ دی نیکسز یونیورسٹی سیالکوٹ بل 2025ء پنجاب اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ یہ بل رکن اسمبلی شازیہ عابد کی عدم موجودگی پر رکن اسمبلی عطیہ افتخار نے پیش کیا۔ دی نیکسٹ انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025ء پنجاب اسمبلی سے کثرت رائیسے منظور کرلیاگیا، بل رکن اسمبلی راحیلہ خادم حسین کی عدم موجودگی پر رکن اسمبلی عطیہ افتخار نے پیش کیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے دی پنجاب آرمز ترمیمی بل 2025ء متعلقہ کمیٹی کے حوالے کردیا۔ ایوان میں مفاد عامہ سے متعلقہ کینسر کی تشخیص کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔ پینل آف چیئرپرسن سمیع اللہ خان نے ایجنڈا مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی سے کثرت چوہدری شافع حسین نے رکن اسمبلی نے پیش کیا ایوان میں پنجاب کے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان
گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔
جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ
یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔
کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔
مزید :