نہریں: پی پی، اپوزیشن کا احتجاج: کثیر پارٹی مشاورت زیر غور، وزیر قانون
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
اسلام آباد؍ کراچی (نوائے وقت رپورٹ+ خبر نگار) سینٹ کے اجلاس میں اپوزیشن کے شور شرابے کی وجہ سے ایوان مچھلی بازار بن گیا۔ کینالز کے معاملے پر اپوزیشن اور حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی نے شدید احتجاج کیا۔ اپوزیشن ارکان نے پیپلزپارٹی کے خلاف منافقانہ سیاست کے نعرے لگائے گئے جبکہ کینالز کے معاملے پر پاکستان پیپلزپارٹی نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ پی پی اور پی ٹی آئی سینیٹرز نے مل کر احتجاج کیا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کینالز کے معاملے پر قانون اور آئین کے مطابق بیٹھ کر بات ہوگی۔ رانا ثناء اللہ وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت سندھ اور پیپلزپارٹی سے رابطے میں ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس سلسلے میں کثیر جماعتی مشاورت کی تجویز بھی زیرغور ہے۔ اس معاملے پر کوئی چیز بلڈوز نہیں ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے اس بابت خصوصی ہدایت کی جس کے بعد رانا ثناء اللہ حکومت سندھ اور پیپلزپارٹی کے ساتھ رابطے میں آئے۔ اس طرح کی طرز سیاست سے معاملہ حل نہیں ہو گا۔ بات کرنا چاہتے ہیں تو کریں، نعرے نہ لگائیں۔ وزیر قانون کو ہیڈ فون لگا کر بات کرنا پڑی۔ وزیر قانون نے کہا کہ وفاقی وزیر آبی وسائل یہاں موجود ہیں اور ہماری کابینہ کے سینئر ارکان بیٹھے ہوئے ہیں، یہ سب سوالوں کے جواب دینے کے لیے یہاں موجود ہیں، اگر یہ طرز سیاست آپ نے رکھنا ہے تو اس سے ملک کی خدمت نہیں ہوگی۔ اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سینٹ میں خیبر پی کے کو اس کے حق سے محروم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے اپوزیشن کو ایک سائیڈ پر کیا جارہا ہے، نہ ان کی قراردادیں ایجنڈے میں شامل کی جاتی ہیں، نہ ان کی تحریکیں شامل کی جاتی ہیں، اور نہ انہیں کوئی وقعت دی جاتی ہے، یہ درست نہیں۔ قانون سازی قانون شکنی کے ذریعے نہیں ہو سکتی، قانون سازی کے لیے آپ کو قانون پر عمل کرنا ہو گا۔ کینالز کے معاملے پر سندھ میں نظام منجمد ہوگیا، عوام سراپا احتجاج ہیں جبکہ کینالز کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا رویہ بڑا منافقانہ ہے، صدر صاحب نے جولائی میں اس منصوبے پر اتفاق کیا اور پھر تقریر میں مخالفت بھی کی۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہا پانی کی قلت ہر شہری کو متاثر کرتی ہے۔ پانی کے مسئلہ کو 8 ماہ سے اٹھا رہے ہیں۔ آپ سندھ سے پانی کھینچیں گے تو کیا ہم بات نہیں کریں گے۔ پانی کا مسئلہ کیوں متنازعہ کیا جا رہا ہے؟۔ جب آپ ہمیں دیوار سے لگائیں گے تو دمادم مست قلندر ہو گا، سینٹ اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹرز متنازعہ کینالز کے مسئلے پر واک آؤٹ کرگئے۔ اپوزیشن کی جماعتوں نے شدید احتجاج اور شور شرابا اور ہنگامہ کیا۔ وفاقی وزیر قانون کی تقریر کے دوران شدید نعرے بازی کی جاتی رہی۔ اپوزیشن نے نکتہ اعتراض پر وقت نہ دینے پر بھی احتجاج کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کی جانب سے پیپلزپارٹی کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور پیپلزپارٹی کی سیاست کو منافقت پر مبنی قرار دینے والے نعرے لگائے گئے۔ چیئرمین سینٹ نے پینل چیئر کے لیے پریزائیڈنگ افسروں کے ناموں کا اعلان کیا۔ سینیٹر شیری رحمن، عرفان صدیقی‘ سلیم مانڈی والا کو نامزد کیا گیا۔ بعدازاں اجلاس 25 اپریل بروز جمعہ تک ملتوی کر دیا گیا۔ دوسری طرف پی پی سینیٹرز احتجاج کیلئے نشستوں سے اٹھ کر چیئرمین ڈائس کے سامنے آ گئے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران پانی چوری نامنظور کے نعرے بھی لگائے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹرز احتجاج کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کر گئے‘ جس کے بعد (ن) لیگی سینیٹرز بھی ایوان سے چلے گئے۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کینال منصوبہ اگر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر احتجاج کیلئے نکلیں گے۔ وزیراعظم کو نتائج کا معلوم ہے، وہ انصاف سے کام لیں۔ کراچی میں کارڈینل ہاؤس جا کر کارڈینل کے ساتھ پوپ جان فرانسس کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے عوام کے مفاد کے خلاف کوئی منصوبہ منظور نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ کسی نے بھی بنایا ہو، لیکن سندھ حکومت نے اسے منظور نہیں ہونے دیا، جولائی کے بعد چولستان کینالز پر کوئی کام نہیں ہوا، سندھ حکومت نے اہم اقدامات کئے، پیپلز پارٹی نے ہر سطح پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انگریز دور میں بھی زیریں علاقوں کے مفاد میں بالائی علاقوں کے کینال منصوبے مسترد کئے گئے تھے، مجھے پوری امید ہے کہ وزیراعظم انصاف پر مبنی فیصلہ کریں گے۔ چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے رولنگ دی ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدارتی خطاب پر بحث کو تین سیشنز میں نمٹایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ثانیہ نشتر کا سینیٹ سے استعفی منظور ہو چکا ہے اور یہ معاملہ الیکشن کمشن کو بھیج دیا گیا ہے۔ سینٹ میں آنجہانی پوپ فرانسس کے انتقال پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے کہا کہ آنجہانی پوپ فرانسس کے انتقال پر دکھ اور افسوس ہوا، انہوں نے فلسطینی مسلمانوں کیلئے آواز اٹھائی، ایوان بالا کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں نے نہری پانی کے معاملہ پر شور شرابا کیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ تھر پارکر کا الیکشن ہار گئے ہیں۔ اس طرز سیاست سے ملک کی خدمت نہیں ہوگی ، پی ٹی آئی ارکان کے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے خلاف نعرے بازی پی ٹی آئی کے بھاگے بھاگے چور بھاگے بھاگو بھاگو چور بھاگو کے نعرے لگائے۔ سینٹ اجلاس میں کینالز کے معاملے پر اپوزیشن ارکان کا احتجاج پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ارکان احتجاج میں شامل ہوئے اورپانی پر ڈاکہ نامنظور کے نعرے لگائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کینالز کے معاملے پر پیپلزپارٹی کے پیپلز پارٹی نعرے لگائے اجلاس میں نے کہا کہ پی ٹی آئی انہوں نے پارٹی کے کے نعرے نہیں ہو کے خلاف اور پی کے بعد
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔