ویب ڈیسک:مقبوضہ کشمیر میں حملے کے بعد بھارتی میڈیا کا پاکستان مخالف شیطانی پروپیگنڈے پر مبنی کھیل ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا۔

 رپورٹ کے مطابق  ذرائع  کا کہنا ہے کہ ہر دہشتگرد حملے کے بعد بھارتی میڈیا کا ایک ہی وطیرہ ہے کہ بغیر ثبوتوں کے پاکستان پر الزام لگاو، سچ چھپاو اور اپنی عوام کو بیوقوف بناو، ہندوستان ٹائمز کے مطابق پہلگام حملہ 3 بجے ہوا، بھارتی خفیہ ایجنسی را سے جڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے 3بجکر 5 منٹ پر پاکستان پر الزام لگا دیا۔

ارشد ندیم کی نیرج چوپڑا کی دعوت پر بھارت جانے سے معذرت

 ذرائع  کے مطابق اس کے بعد حملے کے 30 منٹ بعد بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے #PakSponsoredTerror، ٹوئٹس کا آغاز کر دیا، واقعے کے 30 منٹ سے 60 منٹ میں بی جے پی لیڈران جے پی نڈڈا اور امت شاہ نے ٹوئٹس کر دئیے۔

 ذرائع  کا کہنا ہے کہ واقعے کے 1 سے 3 گھنٹوں بعد جعلی انٹیلیجنس رپورٹس لیک کی جاتی ہیں جس پر آر ایس ایس کے ٹرول اکاؤنٹس ماس ریٹویٹ کرتے ہیں، حیران کن طور پر  پہلگام واقعہ کے پہلے 15 منٹ میں بی جے پی سپورٹر کی جانب سے 500 بھارتی اکاؤنٹس سے ایک جیسے ٹوئٹس کئے جاتے ہیں۔

مناواں: مزدور نوجوان پر چھٹی کرنے پر بہیمانہ تشدد، ویڈیو منظر عام پر

 30 منٹ میں  #PakistanTerrorError ٹاپ ٹرینڈ بن جاتا ہے جس میں جعلی کشمیری ناموں سے ٹوئٹس کئے جاتے ہیں، واقعے کے 1 گھنٹے کے بعد میجر گوینڈا جیسے فوجی اکاؤنٹس رد عمل دیتے ہیں، پرانی ویڈیوز کو تازہ واقعے سے جوڑ کر دکھانا بھارتی میڈیا کا بھونڈا وطیرہ ہے۔

 ذرائع  کے مطابق بھارتی میڈیا شواہد کے بغیر ایسے حملوں کو پاکستان مخالف جذبات بھڑکانے کیلئے استعمال کرتا آیا ہے، حقیقت میں یہ الزامات پہلے سے تیار کئے جا چکے ہوتے ہیں جنہیں پاکستان مخالف زہر اگلنے میں استعمال کیا جاتا ہے، دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں مگر بھارت اسے ہمیشہ مسلمانوں اور پاکستان سے جوڑتا ہے۔

ترکیہ کا دارالحکومت استنبول زلزلے سے لرز اٹھا، شدت 6.

2 ریکارڈ

 دفاعی ماہرین نے پہلگام واقع پر سنجیدہ سوال اٹھا دیے، ان کاکہنا ہے کہ  بھارتی میڈیا نےپہلگام ڈرامے میں ہلاک ہونے والے 27 افراد کی لاشیں کیوں نہیں دکھائیں؟
بھارتی میڈیا پر زمین پر لیٹے ہوئے مرد کے پاس مشکوک طور پر بیٹھی عورت کی صرف ایک فوٹو شاپ تصویر سامنے آئی جس میں خون کا ایک قطرہ یا معمولی زخم بھی نظر نہیں آیا۔

 دفاعی ماہرین نے کہا کہ  بھارتی را سے جڑے اکاؤنٹس نے عین نام نہادحملے کے وقت ہی پاکستان کو سزا دینے کی ٹویٹ کرنا کیوں شروع کر دیں، بھارت دنیا کو ثبوت کا ایک ٹکڑا بھی دکھائے جو اس نام نہاد حملے میں پاکستان کے ملوث ہونا ثابت کرے، گودی میڈیا بغیر ثبوتوں اور زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔

  ہیٹ سٹروک کا خطرہ:جیلوں میں واٹر کولر ، چلرز ، پنکھے درست حالت میں ہوں،سپرنٹنڈنٹس کو مراسلہ جاری

دفاعی ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر حزیمت سے بچنے کیلئے بھارتی میڈیا اپنے جھوٹ کو چھپانے کیلئے ایک نیا جھوٹ سامنے لائے گا، پہلگام ایل او سی سے تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور بھارت  نے کشمیر میں 9 لاکھ فوج جمع کر رکھی ہے، مقبوضہ کشمیر میں اتنی بڑی فوج کے ہوتے ہوئے ایسا حملہ کیسے ممکن ہے؟

 دفاعی ماہرین نے کہا کہ ایسے حملے ہمیشہ اس وقت کیوں ہوتے ہیں جب کوئی مغربی یا امریکی سیاسی قیادت ہندوستان کا دورہ کر رہی ہو یا ہندوستان میں کوئی اہم واقعہ ہو رہا ہو؟   کیا بھارت ماضی کے فالس فلیگ آپریشنز سے کچھ نہیں سیکھا؟

 بھارت کو چاہئے کہ ان سوالات کے جوابات دے تاکہ دنیا ان کی من گھڑت کہانیوں پر یقین کرسکے، دنیا بھر میں سکھوں کو قتل کر کے بین الاقوامی دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا بھارتی مکروہ چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد