قائد اعظم سے ملاقات کر چکا ہوں، فیصل رحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک)سینئر اداکار فیصل رحمٰن نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سے ملاقات کی تھی اور انہیں آج بھی ان سے ملاقات یاد ہے۔
فیصل رحمٰن نے حال ہی میں سنو ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کی، جہاں انہوں نے کیریئر سمیت دیگر معاملات پر کھل کر بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کم عمری میں فلموں سے کیریئر کا آغاز کیا، جوانی میں ہی اسٹار بن گئے تھے۔
ان کے مطابق انہیں سب سے زیادہ اداکارہ شبنم کے ساتھ کام کرنے میں مشکل پیش آئی، کیوں کہ وہ ان سے کچھ زائد العمر تھیں اور ان کے ساتھ انہیں فلم میں رومانس کرنا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت ساری اداکاراؤں کے ساتھ ہیرو آئے، اب ان سے ملتا ہوں تو ان سے کم عمر لگتا ہوں لیکن کبھی کسی نے مذاق میں بھی اپنا بیٹا نہیں کہا۔
فیصل رحمٰن کے مطابق شبنم کے ساتھ کام کرتے وقت یا ملتے وقت ایسا ضرور محسوس ہوتا تھا کہ جیسے میں ان کا بیٹا ہوں۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ ان کے ساتھ ہیروئن کے طور پر فلموں اور ڈراموں میں نظر آنے والی خواتین کا انہیں دیکھ کر اب خون جلتا ہو۔
شادی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں شادی نہ کرنے کا کوئی افسوس نہیں، انہیں آج تک کسی سہارے کی ضرورت نہیں پڑی اور ان کی خواہش ہے کہ انہیں آگے بھی کسی کے سہارے کی ضرورت نہ پڑے۔
ان کے مطابق وہ آزاد پسند انسان تھے، جس وجہ سے انہوں نے شادی نہیں کی، ایسا نہیں ہے کہ انہیں محبت میں دھوکا ملا تو ان کا شادی سے دل اٹھ گیا۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہیں اداکاری کا کوئی شوق نہیں تھا، اتفاق سے اداکار بنے اور پھر انہیں اداکاری میں مزہ آگیا، ابتدائی طور پر وہ بیورو کریٹ بننا چاہتے تھے۔
فیصل رحمٰن کا کہنا تھا کہ انہیں سینٹرل سپیریئر سروس (سی ایس ایس) کا امتحان پاس کرکے فارن سروس میں ملازمت کا شوق تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا، تاہم ابھی تک ان کی دلچسپی عالمی سیاست اور واقعات میں ہی ہے۔
فٹنیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیصل رحمٰن کا کہنا تھا کہ وہ صحت مند غذا کھانے سمیت ورزش کرتے ہیں جب کہ قدرتی طور پر ان کے خاندان کے سب لوگ فٹ ہیں جو اپنی عمر سے 10 سال کم نظر آتے ہیں۔
انہوں نے اپنی عمر بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ مداحوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ بچپن میں قائد اعظم سے بھی مل چکے ہیں، اب وہ خود ان کی عمر کا اندازہ لگا لیں۔
ان کی جانب سے قائد اعظم سے ملاقات کے انکشاف کے بعد ٹی وی میزبان نے انہیں کہا کہ کیا وہ 80 سال کے ہیں، اس پر اداکار نے کہا کہ اس سے کم عمر ہوں۔
فیصل رحمٰن نے مزید بتایا کہ جب وہ قائد اعظم سے ملے، تب وہ دو سال سے زائد العمر تھے، انہیں بانی پاکستان سے ملاقات مکمل طور پر یاد تو نہیں لیکن خواب کی طرح انہیں یاد ہے کہ وہ محمد علی جناح سے ملے تھے۔
خیال رہے کہ بانی پاکستان 11 ستمبر 1948 کو فانی دنیا سے کوچ کر گئے تھے اور اگر فیصل رحمٰن نے ان سے 4 سال کی عمر 1948 میں ہی ملاقات کی تھی تو بھی اداکار کی عمر 81 برس ہوئی۔
مزیدپڑھیں:گاڑیوں کی ڈیلیوری میں تاخیر کیوں، لکی موٹرز نے وجہ بتادی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: فیصل رحم ن نے سے ملاقات کہ انہیں ہے کہ ان انہیں ا کے ساتھ تھا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔