پہلگام حملہ: لواحقین مودی سرکار پر برس پڑے، سانحہ فالس فلیگ آپریشن قرار
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
مقبوضہ جموں و کشمیر کے معروف سیاحتی مقام پہلگام میں فائرنگ کے المناک واقعے کے بعد نہ صرف ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے بلکہ جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین نے مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور سانحے کو حکومت کا فالس فلیگ آپریشن قرار دیدیا ہے۔
پہلگام میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 26 سیاح ہلاک اور 12 زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد جاں بحق افراد کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں میں پہنچائی گئیں تو سوگ کا ماحول غصے میں تبدیل ہو گیا۔
وی آئی پی کی زندگی اہم، ٹیکس دینے والے بے حیثیت، بیوہ کا غصہ
گجرات سے تعلق رکھنے والے مقتول بینکار کی لاش جب سورت پہنچی تو ان کی بیوہ نے تعزیت کے لیے آنے والے یونین منسٹر سی آر پاٹل کو کھری کھری سنا دیں۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس تو وی آئی پی گاڑیاں ہیں، تمہاری زندگی اہم ہے مگر ٹیکس دینے والوں کی کوئی فکر نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پہلگام جیسے حساس مقام پر سیکیورٹی اہلکار اور میڈیکل یونٹ کیوں موجود نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: پہلگام حملہ انٹیلی جنس کی ناکامی کا نتیجہ، مودی حکومت ذمہ دار ہے: کانگریس
30 منٹ تک فائرنگ ہوتی رہی، کوئی مدد کو نہ آیا
مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والی ایک سیاح پارس جین نے بتایا کہ حملے کے دوران 25 سے 30 منٹ تک فائرنگ جاری رہی، مگر سیکیورٹی کا کوئی اہلکار مدد کو نہ آیا۔ ان بیانات نے سیکیورٹی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
فالس فلیگ آپریشن کا الزام
مقامی کشمیری عوام نے حملے کو فالس فلیگ آپریشن قرار دیتے ہوئے بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام وہ مقام ہے جہاں عام گاڑی بھی نہیں جا سکتی اور جگہ جگہ چیک پوائنٹس ہیں، ایسے میں دہشتگردوں کی موجودگی سوالیہ نشان ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کشمیریوں کے درمیان باہمی بھائی چارے کو ختم کرنا چاہتی ہے، اور آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھی امن قائم کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی ڈراما پھر فلاپ، پہلگام واقعے میں مردہ قرار دیا گیا نیول آفیسر سامنے آگیا
حکومت نے سارا ملبہ ہوٹل مالکان پر ڈال دیا
بھارتی حکومت نے اس واقعے کی ذمہ داری مقامی ہوٹل مالکان پر ڈال دی ہے، اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ نے پولیس سے اجازت لیے بغیر سیاحوں کو لے جاکر ٹھہرایا۔
وزیر داخلہ کا ناکامی کا اعتراف اور کریک ڈاؤن
بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے تسلیم کیا ہے کہ واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا، اور یہ اعتراف کیا کہ علاقے میں سیکیورٹی کی کمی تھی۔ پہلگام حملے کے بعد بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، جس میں اب تک 1500 سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ پہلگام حملہ فالس فلیگ آپریشن مقبوضہ جموں و کشمیر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ پہلگام حملہ فالس فلیگ ا پریشن فالس فلیگ کے بعد
پڑھیں:
سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
کراچی:سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں تفتیشی افسر نے 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ کر لیے۔
سٹی کورٹ نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے تفتیشی افسر کو 7 دن کی مہلت دے دی۔
تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر ورک نے عدالت سے کہا کہ بیانات مکمل نہیں ہوئے لہٰذا تفتیش مکمل کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔ ایس ایس پی ٹریفک، فائربریگیڈ، سول ڈیفنس اور کے ایم سی افسران کے بیان ریکارڈ کر لیے ہیں۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کی درخواست مسترد
سانحہ گل پلازہ کیس: سرکاری اداروں نے تعاون نہیں کیا، تفتیشی افسر نے پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرادی
تفتیشی افسر کے مطابق فائر بریگیڈ کے اس فائر آفیسر کا بیان ریکارڈ کیا ہے، جو پہلی گاڑی کے ساتھ گل پلازہ پہنچا تھا۔ تنویر پاستا، عمار اسماعیل، امین، رمضان، نعمت اللہ اور 11 سالہ حذیفہ کا بیان پہلے ہی ریکارڈ ہوچکا ہے۔
ڈی ایس پی عامر ورک نے 8 سرکاری اداروں کے سربراہوں کو خطوط لکھے ہیں۔