بالی ووڈ کی سینئر اداکارہ کا بدتمیزی کرنے والے سپر اسٹارز کو تھپڑ مارنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
بالی ووڈ کی سینئر اداکارہ موشومی چٹرجی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے فلم انڈسٹری کے بڑے بڑے سپر اسٹارز کو ان کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر تھپڑ رسید کیے۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلموں میں کردار کھو دیے لیکن اپنی عزت پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔
موشومی چٹرجی نے بتایا کہ وہ ایسے اداکاروں کو برداشت نہیں کرتیں جو صنفی تعصب رکھتے ہیں اور ہیروئنز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کے اس رویے کے خلاف کھڑی ہوئیں اور انہیں سبق سکھایا۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنی عزت کو ہمیشہ مقدم رکھا، چاہے اس کے لیے انہیں فلموں میں کرداروں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ گلزار کی فلم 'کوشش' میں ان کی جگہ جیا بچن نے کام کیا کیونکہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی عزت پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
موشومی چٹرجی نے 1967 کی فلم 'بالیکا بدھو' سے بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے 70 کی دہائی میں امیتابھ بچن، ونود کھنہ، راجیش کھنہ جیسے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا، جبکہ ونود مہرا کے ساتھ ان کی جوڑی خاصی مقبول ہوئی۔ 1985 کے بعد وہ مرکزی کرداروں کے بجائے معاون کرداروں میں نظر آئیں۔ حال ہی میں وہ 2025 کے اوائل میں ریلیز ہونے والی بنگالی فلم 'آری' میں جلوہ گر ہوئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔