عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے بہنوں، رہنماؤں اور وکلا کی ملاقات آج بھی نہ ہوسکی
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملنے ان کی بہنیں اور متعدد رہنما و وکلا پہنچے مگر عدالتی حکم کے باوجود انہیں پولیس ناکے پر روک دیا گیا، ملاقات نہ ہوسکی۔
تفصیلات کے مطابق آج بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کا دن ہے،۔ ان سے ملنے کے لیے بشری بی بی کے فوکل پرسن رائے سلمان احمد کھرل ایڈووکیٹ، بانی پی ٹی آئی کے وکلاء چوہدری ظہیر عباس، عثمان ریاض گل، بشری بی بی کی بھابی مہر النساء، بانی پی ٹی آئی کے ترجمان نیاز اللہ نیازی، راجہ یاسر، نعیم پنجوتھہ، وکیل ابوذر سلیمان نیازی پہنچے، سید اقبال شاہ، سردار زین العابدین، عبد الحکیم زرین، محب اللہ کاکڑ پر مشتمل بلوچستان وکلا کا وفد بھی اڈیالہ جیل پہنچا۔
بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمی خان اور کزن قاسم خان کو پولیس نے گورکھپور ناکے پر روک دیا، اڈیالہ جیل کے باہر پہنچنے والے وکلا کو پولیس نے جیل کے داخلی دروازے سے ہٹا دیا، پولیس نے وکلاء کی گاڑیاں بھی جیل کے داخلی دروازے سے ہٹادیں جس پر پولیس اور وکلا کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔عمران خان کی بہنوں نے گورکھ پور ناکے سے جیل تک مارچ شروع کردیا۔ علیمہ خان، عظمی خان، نورین خان اور قاسم خان اڈیالہ روڈ پر پیدل چلتے رہے۔
فیملی نے اڈیالہ جیل گیٹ نمبر پانچ جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے نجی فارما سوٹیکل کمپنی کے سامنے قائم ناکہ پر انہیں روک دیا، خاتون پولیس اہلکار سے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی دھکم پیل بھی ہوئی۔بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کو بھی پولیس بے داہگل ناکے پر روک دیا۔ چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کو داہگل ناکے پر روک لیا گیا۔
بیرسٹر گوہر خان نے میڈیا ٹاک میں کہا کہ ملاقاتوں میں رکاوٹ ڈالنا غیر مناسب ہے، عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے، لارجر بنچ اور سنگل بینچز کے آرڈر موجود ہیں، ابھی تک ایک بھی عدالتی آرڈر پر عمل نہیں ہوا، جب ہم انڈیا کے خلاف متحد ہوکر جنگ لڑنے کی بات کرتے ہیں تو ایسے میں رکاوٹیں ڈالنا نامناسب عمل ہے، بانی پی ٹی آئی پاکستان کے مقبول لیڈر ہیں ان سے ایسے حالات میں مشاورت ضروری ہے چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات میں انہیں بتایا کہ آپ اپنے احکامات پر عمل درآمد کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملاقات ہوئی تو بانی پی ٹی آئی سے انڈیا کے ساتھ تناؤ پر بات کریں گے، بانی پی ٹی آئی نے پہلے بھی کہا تھا سوچیں گے نہیں جواب دیں گے، انڈیا میں پاکستانی نیوز چینلز پر پابندی کی مذمت کرتا ہوں، پاکستانی میڈیا پر پابندی سے انڈیا کے سیکولرازم کا پردہ چاک ہوگیا ہے، انڈیا اپنے غلط بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کررہا ہے، پی ٹی آئی نے واضح کہا ہے انڈیا کے اقدامات کا بھر پور جواب دیا جائے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انڈیا کیلئے فضائی حدود بند کرنا بہترین اقدام ہے، ہم نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اعلامیے کی حمایت کی ہے، انڈیا کے اقدامات کے مقابلے میں پاکستان نے جو بھی فیصلے کیے ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔
فیصل جاوید اور فیصل فرید چوہدری ایڈووکیٹ اڈیالہ جیل پہنچے۔ پی ٹی آئی رہنما سینیٹر علی ظفر بھی اڈیالہ جیل پہنچے جنہیں پولیس نے داہگل ناکے پر روک دیا۔
بشری بی بی کی بھابھی مہر النساء احمد ملاقات کے لئے گیٹ 5سے جیل کے اندر روانہ ہوگئیں جن کی ملاقات کرادی گئی۔ فیصل فرید چوہدری، شائستہ کھوسہ جیل کے گیٹ نمبر پانچ پہنچ گئے۔ وکلاء ظہیر عباس چوہدری، مبشر مقصود اعوان بھی جیل گیٹ نمبر پانچ پہنچ گئے۔ ہارون نواز پنجھوتھہ اور محمود اشرف جوئیہ بھی گیٹ پانچ پہنچ گئے۔ بلال عمر بودلہ ایڈووکیٹ بھی گیٹ نمبر پانچ پہنچ گئے۔
پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج پاکستان کیلئے ہم نے بانی سے ملاقات کرنی تھی، آج بہت ضروری ہے ملاقات دی جائے، بانی نے کلیئر ہدایت دی تھی لسٹ کو چھوڑیں جسے ملنے دیا جائے ملنے دیں، ہم بانی پی ٹی آئی کے سپاہی ہیں ملاقات نہ کرانے کا مقصد بانی کو قید تنہائی میں رکھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی سے ملاقات نہ کرانے کا مقصد یہ بھی ہے کہ پارٹی منتشر رہے، انڈیا کے ساتھ تناؤ سیاست کا ایشو نہیں ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، بانی نے پہلے بھی کہا تھا ہم بہادر قوم ہیں جواب دینے کا سوچیں گے نہیں جواب دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی کے ناکے پر روک دیا پانچ پہنچ گئے اڈیالہ جیل سے ملاقات انڈیا کے پولیس نے جیل کے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
کراچی:شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مبینہ مقابلوں کے دوران چار ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا جبکہ ایک فرار ہونے والے مبینہ ڈاکو کو شہریوں نے پکڑ کر تشدد کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس اور چھیپا حکام کے مطابق اورنگی ٹاؤن تھانے کی حدود میں سیکٹر 8، اللہ والا کالج کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک مبینہ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
زخمی ملزم کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت سبیل کے نام سے ہوئی۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا۔
ادھر بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں کلفٹن، عبداللہ شاہ غازی مزار پل کے قریب مبینہ مقابلے کے دوران ایک مبینہ ڈاکو پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہو گیا، جس کی شناخت مانی کے نام سے ہوئی۔
اسے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس دوران فرار ہونے کی کوشش کرنے والے دوسرے مبینہ ملزم کو شہریوں نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ زخمی ملزم کی شناخت سکندر کے نام سے کی گئی۔
دوسری جانب شرافی گوٹھ پولیس نے کورنگی سنگر چورنگی کے قریب راڈو بیکری کے علاقے میں مبینہ مقابلے کے بعد ایک مبینہ ڈاکو اویس کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔ ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد ہوا۔
اسی طرح قائدآباد تھانے کی حدود میں لانڈھی شیر پاؤ کالونی، مولیٰ مدد قبرستان کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک اور مبینہ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت وارث خان کے نام سے ہوئی۔