دریائے چناب کے کنارے پاکستانیوں کا مودی کی کھوکھلی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اسلام آباد:
دریائے چناب کے کنارے پاکستانیوں نے مودی کی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دے دیا۔
مودی کی ہر سازش ناکام ہوگئی اور دریائے چناب کا پانی پہلے سے بھی زیادہ روانی سے جاری ہے۔ دریائے چناب کے کنارے کھڑے ہو کر پاکستانیوں نے بھارت اور مودی کی دھمکیوں کو سخت الفاظ میں رد کرتے ہوئے بھرپور جواب دیا۔
گجرات کے رہائشی سید طلحہ حسین نے اپنے پیغام میں کہا کہ پہلگام کی ناکامی چھپانے کو بھارت نے پاکستان پر الزامات اور پانی کی دھمکی دی مگر بری طرح ناکام رہا۔ مودی تو کیا مودی کی سات نسلیں بھی پاکستان کا پانی بند نہیں کر سکتیں۔
کھاریاں سے تعلق رکھنے والے عامر قیوم بھٹی نے کہا کہ اس دھرتی کے بیٹے راجہ پورس نے سکندر اعظم کو ناکوں چنے چبوائے تھے۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت کی دھمکیاں بے اثر ہیں۔ چناب ہمیشہ بہتا رہے گا۔ پاکستان کا پانی روکنا تو دور، بھارت کی اوقات ایک قطرے پر بھی نہیں۔
گوجرانوالہ کی ایک شہری خاتون نے دریائے چناب کے کنارے کھڑے ہو کر کہا کہ پوری دنیا دیکھ لے، دریائے چناب کا پانی پہلے کی طرح بہہ رہا ہے۔ دریائے چناب کا بہنا اللہ کا کرم ہے، مودی اسے نہیں روک سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دریائے چناب کے کنارے مودی کی کا پانی
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔