جعلی حکومت عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کے جھوٹے مقدمات کو ختم کرے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 02 مئی 2025ء) مشیراطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ جعلی حکومت عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کے جھوٹے مقدمات کو ختم کرے، موجودہ سکیورٹی صورتحال میں قومی یگانگت اور اتحاد کیلئے بانی کی رہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں نریندر مودی نے بھارت میں آمریت نافذ کر دی ہے، جو بھی فالس فلیگ آپریشن پر اعتراض کرتا ہے، اسے نشانِ عبرت بنایا جاتا ہے، جمہوریت کے دعویدار ملک میں آزادی اظہارِ رائے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، انسانی حقوق کی پامالیوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، فالس فلیگ آپریشن کے دفاع میں نریندر مودی فسطائیت پر اُتر آیا ہے،مودی نے آر ایس ایس کے نظریے کے پرچار میں پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے، کوئی بھی فالس فلیگ آپریشن کو حقیقت ماننے کے لیے تیار نہیں ہے، فالس فلیگ ڈرامے کی ناکامی پر نریندر مودی حواس باختہ ہو چکے ہیں، قومی یگانگت اور اتحاد کے لئے عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی ضروری ہے، عمران خان موجودہ وقت میں سب سے مقبول لیڈر ہے،جعلی حکومت عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کے خلاف جعلی مقدمات کا خاتمہ کریں۔
(جاری ہے)
انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کی پامالیوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، فالز فلیگ آپریشن کے دفاع میں نریندر مودی فسطائیت پر اٴْتر آیا ہے، مودی نے آر ایس ایس کے نظریے کے پرچارمیں پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔صوبائی مشیر اطلاعات نے کہاکہ کوئی بھی فالز فلیگ آپریشن کو حقیقت ماننے کیلئے تیار نہیں، فالز فلیگ ڈرامے کی ناکامی پر نریندر مودی حواس باختہ ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر 2024 مقدمات کے 82 گرفتار ملزمان کو اعتراف جرم پر 4، 4 ماہ قید کی سزا دی،عدالت نے 24 مقدمات میں تمام حاضر ملزمان پر فرد جرم بھی عائد کر دی،عدالت نے اعتراف جرم کرنے والے ملزمان کو پندرہ، پندرہ ہزار روپے جرمانے کی سزابھی سنائی،عدالت نے رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے 26 نومبر کے 24 مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ سنایا، پولیس نے 124 گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جبکہ ضمانت پر موجود 362 ملزمان بھی پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران احتجاج کرنے کا اقبال جرم کرنے والے 82 ملزمان کو عرصہ حوالات کی سزائیں سنائی گئیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ اقبال جرم کرنے والے 82 کارکنوں نے جتنی جیل کاٹی وہی عرصہ قید سزا ہوگی۔ عرصہ حوالات سزائیں ایک ماہ سے 3 ماہ تک قید دنوں کی شمار ہوں گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں فالس فلیگ آپریشن ملزمان کو دی عدالت عدالت نے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔