ہم نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں ہوگا ، خواجہ آصف کا بھارت کو دو ٹوک پیغام
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت اور مودی سرکار کو دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ اگر ہم نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں ہوگا اور ہماری سلامتی کو خطرہ ہوا تو پوری جارحیت سے مقابلہ کریں گے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تقسیم نہ ہونے پر سیاستدانوں کو عوام کا شکر گزار ہونا چاہیے، بھارت میں تقسیم ہے لیکن ہمارے یہاں تقسیم نہیں اور یہ خوش قسمتی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ہم قومی مسئلے پر بیٹھنے کو تیار ہیں لیکن پی ٹی آئی ہر چیز کو مشروط کر رہی ہے، پی ٹی آئی گزشتہ روز بریفنگ میں شریک نہیں ہوئی اور وہ اپنا ذاتی مسئلہ لے کر بیٹھے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت نے بھارتی پائلٹ ابھینندن کو چائے پلا کر راتوں رات بھیج کر ظلم کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکا کے دباؤ میں کئی مواقع گنوا دیئے، افغان جنگ سے ہمارا کیا تعلق تھا؟، آج ہم ماضی کی غلطیوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں، ضیاء الحق ، یحییٰ خان ، پرویز مشرف، ایوب خان کے فیصلوں سے ملک کو نقصان ہوا، ماضی میں کہا جاتا تھا ایوب خان نے پاکستان کا پانی بیچا ہے، میرے نزدیک ایوب خان پاکستان کیلئے کام نہیں کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی بھارت کی پراکسی وار ہے، ہماری سرحدوں کے دونوں طرف دشمن موجود ہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کا مذہب سے تعلق نہیں ، یہ کرائے کے لوگ ہیں، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے بھارت کی پراکسیز ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہادر فوج ہے جس نے ماضی میں قربانیاں دیں اور اب بھی دے رہی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جنگ کے مترادف ہوگی، بھارت نے پانی روکنے کیلئے کوئی اسٹرکچر بنایا تو اسے تباہ کر دیں گے، آئندہ جنگیں پانی پر ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور نیتن یاہو میں کوئی فرق نہیں، مودی نے کوئی غلطی کی تو ایسا جواب دیں گے جو تاریخ میں لکھا جائے گا، نیتن یاہو جیسے اقدامات کئے تو پاکستان ایسا جواب دےگا کہ تاریخ یاد رکھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اندازے ہیں کہ جنگ ایل او سی تک محدود رہے گی لیکن جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، نریندرمودی اس وقت ذاتی انا اور ووٹوں کی جنگ لڑ رہا ہے اور بھارت نے حملہ کیا تو ہمارا جواب اس سے زیادہ سخت ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مئی کے آخر میں ندی نالوں اور نہروں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوتا ہے، اگر اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ بھارت نے پانی کا بہاؤ روکا ہے تو ہم اس مسئلے پر آواز اٹھائیں گے ،2 مئی تک پانی کا بہاؤ 87 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا تھا، اگر پانی کے بہاؤ میں کمی آئی تو اس پر حکومتی سطح پر کمیٹی بلانی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ خواجہ ا صف
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔