Daily Mumtaz:
2026-07-24@10:29:44 GMT

بھارتی اداکارہ اپنی سوتیلی بیٹی کی عادت سے پریشان

اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT

بھارتی اداکارہ اپنی سوتیلی بیٹی کی عادت سے پریشان

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ دیا مرزا نے انکشاف کیا کہ ان کی 16 سالہ سوتیلی بیٹی سمیرا روزانہ کئی کئی گھنٹے موبائل استعمال کرتی ہے اور ہم اس کی عادت سے بہت پریشان ہیں۔

دیا مرزا اپنی خوبصورتی، مہارت، اور ماحولیاتی مسائل پر کام کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے مقابلہ حسن جیت کر شوبز میں قدم رکھا، مگر اس کے باوجود انہوں نےہمیشہ چمکدار اور روایتی کرداروں کے بجائے پیچیدہ اور چیلنجنگ کردار ادا کرنا ترجیح دی، جس سے انہوں نے ناصرف اپنے مداحوں کو متاثر کیا بلکہ اپنی اداکاری کی مہارت کو بھی ثابت کیا۔

دو دہائیوں پر محیط اپنے کامیاب اداکاری کے کیریئر کے علاوہ، دیا مرزا ایک شاندار بیوی اور ماں بھی ہیں، جو اپنی ذاتی زندگی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں توازن برقرار رکھتی ہیں۔

دیا مرزا نے حال ہی میں ایک پینل بحث میں بچوں میں اسکرین کی لت کے مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا خاندان اپنی سوتیلی بیٹی کی اسکرین کی لت پر قابو پانے میں مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور وہ اس کے لیے مختلف طریقوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ اس لت کو کم کیا جا سکے اور اسے ایک متوازن زندگی گزارنے کی طرف راغب کیا جا سکے۔

دیا مرزاکاایک چار سال کا بیٹا ایان آزاد ریکھی ہے۔ اس کےعلاوہ ان کا اپنے شوہر ویبھو ریکھی کی بیٹی سمیرا کے ساتھ بھی ایک قریبی تعلق ہے، جو ان کے شوہر کی پہلی شادی سے ہیں۔

اداکارہ نے حال ہی میں جینس سیکیرا کے ”دی ہیلنگ سرکل“ میں ایک نمائش میں شرکت کی، جہاں انہوں نے سمیرا کے بارے میں ایک اہم بات شیئر کی۔

جیسے ہی مہمانوں نے جدید دور میں والدین کے کردار پر گفتگو شروع کی، دیا مرزا نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح بچوں میں اسکرین کی لت ان کے جذباتی اثرات کا سبب بنتی ہے۔

دیا نے اپنی بیٹی سمیرا کی مثال دیتے ہوئے کہا: “وہ (سمیرا) روزانہ آٹھ گھنٹے اپنے فون پر گزارتی تھیں۔ اب ہم اس لت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ ایک انتہائی مشکل سفر ہے۔

اداکارہ نے واضح کیا کہ ان کا پورا خاندان 16 سالہ سمیرا کی اسکرین کی لت سے نمٹنے میں مدد کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔

انہوں نے نوعمروں میں اسکرین کی لت کو مادہ کی عادت سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آہستہ آہستہ بچوں کی جسمانی اور جذباتی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ دیا مرزا کے مطابق، “اسکرین پر موجود مواد، خاص طور پر وہ جو بچوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے، ڈوپامائن کی لت کی طرح ہے۔ یہ کسی بچے کو کوکین دینے کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو اشتعال انگیز مواد یا حالات میں ڈالنا ایک خوفناک عمل ہے۔ بچوں کے استحصال اور بدسلوکی میں اضافہ، جیسے کہ چائلڈ پورنوگرافی، ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ممالک نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔“

دیا مرزا نے بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایک بار شیئر کیا تھا کہ ان کی سوتیلی بیٹی سمیرا انہیں ہمیشہ نام سے پکارتی ہیں، نہ کہ ”ماں“ یا ”ممی“ سے۔

دیا مرزا نے بتایا کہ انہیں اس بات سے کوئی پریشانی نہیں ہے، کیونکہ سمیرا کی اپنی ایک بہترین ماں موجود ہے جسے وہ ”ماں“ یا ”ممی“ کہہ کر پکارتی ہے۔

دیا نے وضاحت کی کہ وہ سمیرا سے کبھی یہ توقع نہیں رکھتی کہ وہ انہیں ”ماں“ کہے، کیونکہ سمیرا کی اپنی ماں ہے جسے وہ اسی انداز میں پکارتی ہے۔ اداکارہ نے مزید کہا کہ سمیرا انہیں ”دیا“ کے نام سے پکارتی ہے، اور اس سے وہ خوش ہیں۔

دیا مرزا نے اس بارے میں مزاحیہ انداز میں یہ بھی بتایا کہ ان کے چھوٹے بیٹے ایان نے بھی سمیرا کی طرح انہیں ”دیا ماں“ کہنا شروع کر دیا ہے۔

دیا مرزا نے 2000 میں مس ایشیا پیسیفک کا ٹائٹل جیتا، جس کے بعد انہیں بھارتی فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے کا موقع ملا۔ 2001 میں ریلیز ہونے والی فلم رہنا ہے تیرے دل میں میں ان کے کردار نے انہیں فوراً شہرت حاصل کی اور یہ فلم بالی ووڈ کی کلٹ کلاسک بن گئی۔

اس کے بعد، دیا نے دس، پرینیتا اور لگے رہو منا بھائی جیسی کامیاب فلموں میں کام کیا۔ حالیہ برسوں میں، دیا مرزا کو نادانیاں میں ابراہیم علی خان اور خوشی کپور کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسکرین کی لت سوتیلی بیٹی دیا مرزا نے بیٹی سمیرا انہوں نے سمیرا کی میں ایک کے لیے

پڑھیں:

بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی

 بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026


بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔

وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔

مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔

مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔

ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت