’بریفنگ سے کام نہیں چلے گا‘ جماعت اسلامی نے بھی آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 06 مئی 2025ء ) پاکستان اور بھارت کی حالیہ کشیدگی کے معاملے پر جماعت اسلامی نے بھی آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مطالبہ کردیا۔ منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بھارت فالس فلیگ آپریشنز کرکے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرتا ہے، پہلگام واقعے کے فوری بعد بھارتی میڈیا نے جنگی جنون بھڑکانا شروع کیا، بھارت اور اسرائیل کے درمیان گٹھ جوڑ صرف دفاعی نوعیت کا نہیں بلکہ نظریاتی ہے، یہ گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھتے ہیں، کشمیر، لداخ اور دیگر علاقوں میں بھارت مقامی آبادی کو اقلیت میں بدلنے کے اقدامات کر رہا ہے اور اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے محض خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، چناب کا پانی روکنے جیسے جارحانہ اقدامات پر فوری طور پر اقوام عالم کو مؤثر انداز میں آگاہ کیا جائے، اس معاملے پر بریفنگ سے کام نہیں چلے گا، پاک بھارت کشیدگی پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے۔
(جاری ہے)
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے آج تک بھارت کی دہشت گردی پر کوئی بیان نہیں دیا، اگر علاج کروا رہے ہیں تو بھارت کے مظالم پر آواز تو اٹھائیں، دلتوں، مسیحیوں اور سکھوں کے خلاف بھارت میں جاری مظالم پر بھی بات کی جائے، پوری قوم کو مجاہد بنانا ہوگا، نیشنل کیڈٹ کور کو فعال کیا جائے، امریکہ، بھارت اور اسرائیل اصل دہشت گرد ہیں جو پاکستان پر الزام لگاتے ہیں وہ دراصل دشمنوں کے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی کہتے ہیں کہ عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجود اسرائیل کی نسل کشی جاری ہے، امریکہ مسلسل اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے، یہ مجرمانہ اقدام ہے، او آئی سی کا کردار مایوس کن ہے جو محض رسمی قراردادوں تک محدود ہے، غزہ میں اسرائیل گھیرائو کرکے جبری قحط سالی کررہا ہے، ایک طرف بمباری تو دوسری طرف بھوک ہے، کوئی بھی آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہے، امریکہ مسلسل اسرائیل کی سپورٹ کررہا ہے، انسانی نسل کشی ہو رہی ہے، اسرائیل نے اپنی کابینہ سے منظوری لی کہ غزہ کومکمل صاف کردیا جائے گا، عالمی عدالت نے اسرائیل کے خلاف فیصلہ دیدیا ہے لیکن کوئی کچھ نہیں کررہا، جس اذیت میں فلسطینوں کو مبتلا کیا ہوا ہے یہ سپورٹ مجرمانہ فعل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ظالمانہ ٹیرف پروفیشنل طبقے کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے، حکومت صرف اشرافیہ کو فائدہ دے رہی ہے، عام کسان کو اس کی گندم کی قیمت بھی پوری نہیں مل رہی، کپاس کی فصل تیار ہے مگر پانی کا بحران ہے، حکومت سہولت دینے کے بجائے بوجھ بڑھا رہی ہے، بلوچستان میں لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے بااختیار کمیشن بنایا جائے، بے گناہوں کو رہا اور مجرموں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جماعت اسلامی رہا ہے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔