مریم نواز کی بھارتی حملے کی شدید مذمت، پنجاب میں ہنگامی حالت نافذ
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
مریم نواز کی بھارتی حملے کی شدید مذمت، پنجاب میں ہنگامی حالت نافذ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 May, 2025 سب نیوز
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھارتی بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر دشمن کا بھرپور مقابلہ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نے مئی کے مہینے میں حملہ کیا، جس کا جواب 28 مئی 1998 کی طرح منہ توڑ انداز میں دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اپنے بیان میں عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کا ہر بچہ اس کڑے وقت میں سرخرو ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کامیابی قوم کا مقدر بنے گی۔
مریم نواز نے پنجاب بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ پنجاب پولیس سمیت تمام سکیورٹی ادارے الرٹ پر ہیں، جبکہ تمام ہسپتالوں کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور فوری طور پر ڈیوٹیاں سنبھالنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
پنجاب کے تمام اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ شہری دفاع، ریسکیو اور دیگر اہم اداروں کے افسران و عملے کو بھی فوری طور پر طلب کر لیا گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک فوج کی جوابی کارروائی بھارت کا برگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ پاک فوج کی جوابی کارروائی بھارت کا برگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے حملہ کو شرمناک قرار دیدیا بھارت نے جس طرح حملہ کیا اسے اس سے بڑھ کر جواب دیں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف پاک فوج کی جوابی کارروائی ، دو بھارتی رافیل طیارے مار گرائے، سرینگر ائیر بیس بھی مکمل تباہی آپریشن سندور میں پاکستان میں 9مقامات کو نشانہ بنایا، میزائل حملوں کے بعد بھارت کا موقف بھی آگیا بھارت نے پاکستان میں تین مقامات پر میزائل داغے، پاکستان کا مؤثر جواب آنے والا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مریم نواز
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔