Daily Ausaf:
2026-06-03@06:28:40 GMT

عصر حاضر کے چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں

اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT

آج صورت حال یہ ہے کہ ہر طرف چیلنج ہی چیلنج ہیں۔ سیاست، معیشت، معاشرت، تعلیم، تہذیب وثقافت، سائنس، ٹیکنالوجی، اخلاقیات اور فکر وفلسفہ کے میدانوں میں مسلمانوں کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر ان کی صرف فہرست بیان کی جائے تو اس کے لیے خاصا وقت درکار ہوگا اور پھر ان کی ترجیحات بھی اپنے اپنے ذوق اور حالات کے مطابق ہر صاحب فکر ودانش کے نزدیک مختلف ہوں گی۔ وقت بہت کم ہے، اس لیے میں اپنی سوچ کے حوالے سے صرف دو تین باتوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ ہو سکتا ہے بعض دیگر دوستوں کے نزدیک ان کی زیادہ اہمیت نہ ہو مگر میں انہیں بنیادی حیثیت دیتا ہوں اور دینی مدارس اور ان کے اساتذہ وطلبہ کے مجموعی ماحول کے تناظر میں درپیش چیلنجز میں میرے نزدیک یہ امور سرفہرست ہیں۔
پہلی بات جسے میں ’’بے خبری کا بحران‘‘ سے تعبیر کرتا ہوں، یہ ہے کہ دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کی غالب اکثریت آج کے عالمی حالات اور ماحول دونوں سے بے خبر ہے۔ ہمیں نہ دنیا کے جغرافیے کا علم ہے اور نہ تاریخ کا۔ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ آج کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے، کون کیا کر رہا ہے، کیسے کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے؟ افراد کی بات نہیں کرتا۔ دوچار فی صد حضرات ضرور اس سے مستثنیٰ ہوں گے لیکن مجموعی صورت حال یہی ہے جو میں نے عرض کی ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال سے صورت حال کا اندازہ کر لیجیے کہ ابھی چند روز قبل تیس چالیس حضرات کی ایک محفل میں، جنہیں آپ علما ہی سمجھ لیجیے، میں کافر اقوام کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات پر گفتگو کر رہا تھا جس کے دوران میں نجران کے عیسائیوں کے ساتھ جناب نبی اکرم ﷺ کے معاہدہ کا تذکرہ بھی ہوا۔ میں نے شرکائے محفل سے سوال کیا کہ نجران کہاں ہے؟ آپ یقین کیجیے کہ شرکا میں سے کوئی صاحب نہ بتا سکے اور بالآخر مجھے ان کو یہ بتانا پڑا کہ یہ جزیرۃ العرب میں ہے اور اس وقت سعودی عرب کا حصہ ہے۔ ہمیں فقہ اور افتا کے اصولوں کی تعلیم وتربیت کے دوران میں عام طور پر یہ بتایا جاتا ہے کہ: من لم یعرف اہل زمانہ فہو جاہل۔ جو شخص اپنے زمانہ کے لوگوں کو نہیں پہچانتا، وہ جاہل ہے، لیکن اس کے مفہوم اور عملی تقاضوں کی طرف ہماری توجہ نہیں ہوتی اور عالمی حالات کے تناظر میں ہم میں سے اکثر لوگ زندگی بھر خود اس کا مصداق بنے رہتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ آج ہم جس جنگ اور کشمکش سے دوچار ہیں، اسے آپ جنگ سے تعبیر کر لیں یا کھیل سمجھ لیں لیکن یہ بات طے ہے کہ جنگ اور کھیل دونوں کے کچھ اصول ہوتے ہیں، کچھ قواعد ہوتے ہیں، کچھ طے شدہ طریقے ہوتے ہیں اور کچھ ہتھیار اور آلات ہوتے ہیں جو حالات کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور جن کی پابندی جنگ اور کھیل کے دونوں فریقوں کے لیے لازمی سمجھی جاتی ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم فکر وفلسفہ، تہذیب وثقافت، تعلیم وتربیت اور دعوت وابلاغ کے محاذوں پر آج کے طریقہ جنگ سے شناسائی نہیں رکھتے، قواعد اور طریقہ کار کی ہمیں کچھ خبر نہیں ہے، آج کے ہتھیاروں اور آلات سے ہمیں آگاہی حاصل نہیں ہے اور دشمن کی قوت کار، دائرۂ عمل، طریق جنگ اور ہتھیاروں کی نوعیت سے ہم اکثر وبیشتر بے خبر ہوتے ہیں۔
میں دینی مدارس کے ماحول کی بات کر رہا ہوں، اساتذہ وطلبہ کی بات کر رہا ہوں۔ اگر آپ حضرات کو میری بات تلخ لگے تو میں معافی چاہتا ہوں لیکن معذرت کے ساتھ یہ عرض کرنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ میں نے زمانہ سے بے خبری اور دشمن کے ہتھیاروں اور طریق جنگ سے ناواقفیت کی جو بات کی ہے، وہ بالکل درست ہے، اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے اور ہمارے اساتذہ اور طلبہ کی اکثریت اسی حال میں مگن ہے۔ اسے بے خبری کا بحران کہہ لیں، ادراک واحساس کے فقدان سے تعبیر کر لیں یا رابطے کے خلا (Communication gap) کا عنوان دے لیں، مگر یہ بحران موجود ہے اور میرے نزدیک دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کے لیے آج کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اس بحران سے نجات حاصل کریں، بے خبری کے اس خلا کو پر کریں اور فکر وعقیدہ اور تہذیب وعقیدہ کی یہ جنگ جذباتی اور سطحی نعروں کے ذریعے سے نہیں بلکہ ادراک واحساس، فہم ودانش اور شعور وباخبری کے ہتھیاروں کے ساتھ لڑیں۔
تیسرے نمبر پر میں ایک اور چیلنج اور بحران کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ امریکہ نے پاکستان کے دینی مدارس کی اصلاح کے لیے اربوں روپے دیے ہیں اور یورپی یونین نے خطیر رقم کی بطور امداد پیش کش کر دی ہے۔ یہ روپیہ آپ کے ماحول میں پھیلے گا اور آپ کے تعلیمی نظام ونصاب کو سبوتاژ کرنے کے لیے صرف ہوگا۔ آپ سے آج کی دنیا کو سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ آپ عقیدہ کی تعلیم دیتے ہیں، کمٹ منٹ کی تعلیم دیتے ہیں۔ آپ تعلیم برائے تعلیم کے بجائے تعلیم برائے عقیدہ اورتعلیم برائے دین کے فلسفہ پر عمل کر رہے ہیں اور عقیدہ وثقافت کی صرف تعلیم ہی نہیں دیتے بلکہ آپ حضرات نے اپنے عملی ماحول کو بھی اس کے مطابق ڈھال رکھا ہے۔ عقیدہ وثقافت کے ساتھ بے لچک کمٹ منٹ اور اس کے مطابق معاشرتی ماحول کا تحفظ یہ دونوں باتیں آج کی دنیا کے لیے اجنبی ہیں، ناقابل قبول ہیں بلکہ ناقابل برداشت ہیں۔ امریکہ اور یورپی یونین کی دی ہوئی دولت اسی کمٹ منٹ کو کمزور کرنے کے لیے استعمال ہوگی اور آپ کے دینی اور ثقافتی ماحول کو تبدیل کرنے کے لیے صرف ہوگی۔ وہ یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اصل بات عقیدہ وثقافت اور اس کے مطابق ماحول کی ہے۔ اگر یہ دونوں تبدیل ہو گئے اور ان میں دراڑ ڈالنے میں کام یابی حاصل ہو گئی تو خالی تعلیم باقی رہ جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر اگر دینی مدارس باقی رہیں تو بھی کوئی نقصان نہیں کیونکہ عقیدہ وثقافت کی کمٹ منٹ اور عملی دینی ماحول کے بغیر بننے والا مولوی یورپ کے اس پادری سے مختلف نہیں ہوگا جو صرف تنخواہ کے لیے ڈیوٹی دیتا ہے اور ڈیوٹی کے علاوہ باقی اوقات میں وہ عام سوسائٹی کے ماحول میں اس طرح گھل مل جاتا ہے کہ جیسے مذہب اور اس کی تعلیمات کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔
دینی مدارس کے منتظمین، اساتذہ اور طلبہ کو اس بارے میں چوکنا رہنا ہوگا اور اپنے عقیدہ وثقافت اور عملی دینی ماحول کو بچانے کے لیے خود داری، حوصلہ، دینی حمیت اور ایثار و قربانی کے ساتھ اس خطرناک چیلنج کا سامنا کرنا ہوگا۔ خدا کرے کہ ہم اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نباہ سکیں، آمین یا رب العالمین۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اساتذہ اور طلبہ دینی مدارس کے عقیدہ وثقافت کے مطابق کی تعلیم ہوتے ہیں یہ ہے کہ کے لیے ا جنگ اور کے ساتھ ہیں اور نہیں ہے اور اس ہے اور رہا ہے کر رہا

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا