آپ اپنے ائیر بیس نہیں بچا سکتے تو جنتا کو کیسے بچائیں گے؟ انڈین چینل کا اپنی ہی حکومت سے سوال WhatsAppFacebookTwitter 0 10 May, 2025 سب نیوز

پاکستان کی جانب سے 10 مئی کی علی الصبح آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کرنے پر بھارتی حکومت سمیت بھارت کا میڈیا بھی بوکھلا گیا۔
بھارتی میڈیا 2 دن پہلے سوشل میڈیا پر اپنی حکومت اور افواج کے گُن گارہا تھا اب پاکستان کی انتقامی کارروائی سے تھر تھر کانپنے لگا ہے اور حکومت کی پالیسیوں پر سوال بھی اٹھا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا پر ایک پروگرام کے دوران خاتون اینکر نے سوال اٹھایا کہ عوام کی گھبراہٹ واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے کیونکہ زیادہ تر ائیر بیسز تباہ ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، آگ کے گولوں میں بدلتے نظر آرہے ہیں۔
خاتون اینکر نے مزید کہا کہ سب سے زیادہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال ہے کہ جب آپ اپنے ائیر بیسز کو نہیں بچا سکے تو عوام کی حفاظت کیسے کریں گے؟

واضح رہے کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے آج صبح ادھم پور، آدم پور اور پٹھان کوٹ ائیر بیسز سمیت کئی ائیر فیلڈز کو تباہ کر دیا جبکہ بھارتی ریاست مہاراشٹرا کی الیکٹرک کمپنی پر سائبر حملہ کر کے بجلی کا نظام مکمل طور پر جام کر دیا اور ملٹری سیٹیلائٹ کو بھی جام کر دیا۔

اس کے علاوہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ریاست گجرات میں پاکستانی ڈرونز کئی گھنٹوں تک پرواز کرتے رہے، پاکستان نے بھارت کی بھٹنڈا ائیر فیلڈ کو بھی تباہ کر دیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک بھارت کشیدگی: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدر آصف علی زرداری سے اہم ملاقات پاک بھارت کشیدگی: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدر آصف علی زرداری سے اہم ملاقات بھارت کی پاکستانی حملے میں اپنے ایک اعلیٰ اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق علیمہ خان کو اشتہاری قراردینے کا فیصلہ منسوخ، ضمانت منظور پاک بھارت کشیدگی: وزیراعظم آج قوم سے خطاب کریں گے بھارت کا رحیم یار خان کے شیخ زاید انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حملہ امریکہ نے ثالثی کی پیشکش کردی، پاکستان کی نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس نہیں ہو رہا،وزیردفاع TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ

​حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔

رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟

جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔

اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔

اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔

زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔

خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔

​نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔

​پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔

قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

​لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔

​یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیدہ سفینہ ملک

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان