اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حال ہی میں سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ بھارتی فضائی اڈے تباہ کرنے والے پاکستانی پائلٹس کی ہیں۔ لیکن سینئر صحافی عمر چیمہ نے ان تصاویر کی حقیقت واضح کر دی ہے۔

خبروں کے مطابق پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے ایک اہم فوجی کارروائی کی، جسے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا نام دیا گیا۔ اس آپریشن میں پاکستان نے بھارت کے اندر کئی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جن میں اُدھم پور، پٹھان کوٹ اور سرسہ کے فضائی اڈے، سورت گڑھ کی ایئرفیلڈ، براہموس میزائل کی ذخیرہ گاہ، اور اڑی کا سپلائی ڈپو شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کل 12 اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

اسی دوران کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں دکھائے گئے پائلٹس کو آپریشن میں حصہ لینے والے ہیرو بتایا جا رہا ہے۔ ایک تصویر میں ایک پائلٹ کو ’کامران مسیح‘ کے نام سے پہچانا جا رہا ہے، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ مسیحی برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کارروائی میں اہم کردار ادا کیا۔

 

 

ایک اور تصویر میں کچھ پائلٹس کو دستخط کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ ہے کہ یہ دستخط شہادت سے پہلے کیے گئے تھے، لیکن یہ پائلٹس بحفاظت واپس آگئے۔

 

 

یہ تصویر اداکارہ دنانیر مبین نے بھی اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کی اور جذباتی انداز میں اپنے والد کی یاد تازہ کی، جو سیاچن میں جنگ پر جانے سے پہلے اپنی وصیت لکھ کر نکلے تھے۔

انہوں نے لکھا کہ ’یہ تصویر دیکھ کر مجھے اپنے والد یاد آگئے، جنہوں نے سیاچن میں جنگ پر جانے سے قبل سر پر کفن باندھ لیا تھا، اپنی وصیت بھی لکھ دی تھی اور اپنے ہتھیار سنبھال کر رات گئے قوم کی حفاظت کیلئے نکل پڑے تھے، اُس وقت میری عمر صرف 3 ماہ تھی، پاک آرمی زندہ باد، پاکستان زندہ باد‘۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان تصاویر کے بارے میں سینئر صحافی عمر چیمہ نے وضاحت پیش کی ہے۔ اپنے ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر دونوں تصاویر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ اگرچہ ان تصاویر کو فیکٹ چیک کرنے کا دل نہیں چاہ رہا ، مگر درست معلومات سامنے لانا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جس نوجوان کو پائلٹ کامران مسیح بتایا جا رہا ہے، وہ دراصل پاکستان ایئر فورس کا رکن ضرور ہے، لیکن وہ لڑاکا طیارے کا پائلٹ نہیں بلکہ کارگو سروس میں تعینات ہے۔ اس تصویر کا تعلق بھی کسی جنگی مشن سے نہیں بلکہ ایک پرانے وقت سے ہے۔

دوسری تصویر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اسے ’بک آؤٹ‘ کہا جاتا ہے، جو کہ پرواز سے پہلے کا ایک معمول کا عمل ہے۔ اس دوران پائلٹس اپنے سامان کی جانچ کرتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام ضروری اشیاء ساتھ ہیں۔
مزیدپڑھیں:اکھنڈ بھارت کا خواب بکھر گیا،راناثناءاللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر کے بارے میں جا رہا ہے انہوں نے

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت