بھارت کی پاکستان کے تین ائیر بیس پر حملے کی کوشش ناکام
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
آپریشن بنیان مرصوص شروع ہونے سے قبل نور خان ایئربیس، مرید بیس اور شورکوٹ کو نشانہ بنایا گیا
بھارت نے فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے، پاک فضائیہ کے تمام اثاثے محفوظ رہے
آپریشن بنیان مرصوس شروع ہونے سے قبل گزشتہ سے پیوستہ رات بھارتی فوج کی جانب سے پاکستان کے تین ائیر بیسز کو نشانہ بنایا گیا ۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے نورخان ایئربیس چکلالہ سمیت تین ایئر بیسز پر حملے کی کوشش ناکام بنادی گئی، ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کے جواب کا انتظار کرے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا بریفنگ میں کہنا ہے کہ نور خان ایئربیس، مرید بیس اور شورکوٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاک فضائیہ کے تمام اثاثے محفوظ ہیں، بھارت نے فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افغانستان پر بھی بھارت نے میزائل داغے ہیں، بھارت پورے خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے ، بھارت پاکستان کے جواب کا انتظار کرے ۔لاہور میں بھی بھارتی ڈرون مار گرایا گیا، لاہور کے نواحی علاقے نارنگ منڈی میں بھارتی ڈرون مار گرایا گیا ہے ، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق لاہور شہر میں کسی ڈرون کی پرواز نہیں ہوئی، کوئی دھماکہ نہیں ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ بعد ازاں پاکستان کی جانب سے
گزشتہ صبح جوابی وار کرتے ہوئے بھارت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پاکستان کے کہنا ہے کہ ایس پی
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ