بھارتی میڈیا بھارت کی بدترین شکست کا اعتراف کرنے لگا،پاک فضائیہ کی تعریف
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
پاکستان کے ہاتھوں بھارت کو عبرتناک شکست کا بھارتی میڈیا بھی اب کھل کر اعتراف کرنے لگا ،بھارتی دفاعی تجزیہ کار پاک فضائیہ کے گھن گانے لگے۔
بھارتی صحافی اور اینکر پرس نیلو ویاس نے لائیو شو میں اعتراف کیا کہ مودی سرکار کو پتہ چل گیا کہ ان کی فضائیہ بیٹھ گئی ہے،اس لیے امریکا سے جنگ بندی کی بھیگ مانگی۔
بھارتی فضائیہ بیٹھ گئی تھی،دفاعی نظام جواب دے گیا تھا،اور فضاؤں میں پاک فضائیہ کا راج تھا،اس لیےنریندرمودی نے امریکا کے ترلےکرکے جنگ بندی کروائی،بھارتی میڈیا بھارت کی بدترین شکست کا اعتراف کرنے لگا۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی کہتے ہیں کہ پاکستان کےطیارےڈرونز،الیکٹرانک ڈیوائسز،سیٹلائٹس اور میزائل سب ایک منظم انداز میں کام کررہے تھے،یہی وجہ ہے کہ بھارت کا دفاعی نظام اورفضائیہ عضو معطل بن کر رہ گئی۔
پاک فضائیہ کی شاندار کامیابیوں پر بھارت کی حیرانی و پریشانی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، مودی سرکار اور بھارتی افواج لاکھ چھپائیں،لیکن میڈیا پر حقائق ایک ایک کرکے سامنے آرہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔