خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف بڑے ایکشن کی تیاریاں، رشتے دار بھی زد میں آئیں گے
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں دہشتگردوں کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے پلان کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کے تحت ان کے رشتہ داروں، دوستوں اور سہولت کاروں کی بھی جائیدادیں منجمد کی جائیں گی۔
خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا فیصلہ صوبائی ایکشن پلان کے تحت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جو چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کی سربراہی میں ہوا۔ محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری مراسلے میں تمام متعلقہ انتظامیہ اور پولیس کو سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں خیبرپختونخوا: سیکیورٹی فورسز نے انتہائی مطلوب دہشتگرد سمیت 6 خوارج کو ہلاک کردیا
محکمہ داخلہ کی جانب سے ارسال مراسلے کی کاپی وی نیوز نے حاصل کرلی، جس میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں سب سے زیادہ اور طویل بات دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی پر ہوئی، اور دہشتگردوں کے تمام نیٹ ورکس کو فوری طور پر ختم کرنے کے فیصلے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کی جائیدادیں منجمد کی جائیں گی۔
دہشتگردوں کے خاندانوں اور دوستوں کی چھان بین کا فیصلہمحکمہ داخلہ کی ہدایات کے مطابق دہشتگردوں کے خاندانوں اور ان کے ساتھ رابطہ میں رہنے والے دوستوں کی بھی چھان بین کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ اس حوالے سے شکوک و شبہات سے بچنے کے لیے تمام تر تفصیلات نادرا سے حاصل کی جائیں گی تاکہ ان کے روابط اور سہولت کاری کے ثبوتوں کی تصدیق کی جا سکے۔ اور روابط ثابت ہونے کی صورت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےگی۔
سرکاری ملازمتوں میں موجود دہشتگردوں کے رشتہ داروں کی جانچ پڑتالمحکمہ داخلہ کے مراسلے میں واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ سرکاری اداروں میں موجود دہشتگردوں کے رشتہ داروں کی بھی مکمل جانچ پڑتال کی جائے، کسی بھی سرکاری محکمے میں دہشتگردوں کے رشتہ داروں کی موجودگی پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ حساس اداروں میں دہشتگرد عناصر کے اثر و رسوخ کا خاتمہ کیا جا سکے۔
ضلعی سطح پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کے احکاماتمحکمہ داخلہ خیبرپختونخوا نے ضلعی سطح پر بھی دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے خصوصی اجلاس منعقد کرانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان اجلاسوں میں ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حساس ادارے مل کر مربوط حکمت عملی تیار کریں گے۔
600 افراد کے اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہدوسری جانب پشاور پولیس نے دہشتگردی اور جرائم کی روک تھام کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے 600 افراد کے اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ایس ایس پی آپریشنز پشاور کے مطابق ان افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج ہیں۔ پہلے مرحلے میں 300 لائسنس منسوخ کرنے کے لیے انتظامیہ کو مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں دہشتگردی روکنے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کا افغانستان سے مذاکرات پر زور
ایس ایس پی مسعود بنگش کا کہنا ہے کہ اسلحے کی کھلے عام نمائش کی حوصلہ شکنی سے جرائم میں کمی آئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آپریشن جائیدادیں ضبط خیبرپختونخوا دہشتگرد دہشتگرد نیٹ ورک رشتے دار صوبائی ایکشن پلان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا دہشتگرد دہشتگرد نیٹ ورک رشتے دار صوبائی ایکشن پلان وی نیوز میں دہشتگردوں کے کے رشتہ داروں سہولت کاروں محکمہ داخلہ میں دہشتگرد اور ان کے کا فیصلہ کیا گیا کے خلاف کرنے کے کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔