کامران مسیح کو ہلالِ جُرات سے نوازا جائے،اکرم گل کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
نیویارک:پاکستان ایئر فورس کے ہیرو اور جنگ کے غازی کامران مسیح کے اعزاز میں نیویارک میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں سابق وفاقی وزیر اکرم مسیح گل نےبطور مہمان خصوصی شرکت کی اور پاک فوج کی تاریخی کامیابی پر قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔تقریب کا اہتمام پاکستان کرسچن ایسوسی ایشن، اوورسیز پاکستانی گلوبل فاؤنڈیشن اور کونسل آن پاک-امریکہ ریلیشنز کے باہمی اشتراک سے کیا گیا، جس کا مقصد
پاک فوج کی جرات مندانہ کارکردگی کو سراہنا اور قوم کی جانب سے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔اکرم مسیح گل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ کے شیر دل پائلٹ کامران مسیح کی بہادری پر اس سپوت کو قوم کی جانب سے خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاک فضائیہ کے شیر دل پائلٹ کامران مسیح نے دفاع وطن میں بہادری کی مثال قائم کی اور دشمن کی صفوں کو تہہ تیغ کرتے ہوئے بخیرو عافیت واپس پہنچے۔انہوں نےحکومت سے مطالبہ کیا کہ پاک فضائیہ کے شاہین کامران مسیح کی بہادری کو پاکستان کے دوسرے بڑے فوجی اعزاز “ہلالِ جُرات” سے نوازاجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ “کامران مسیح کی شجاعت ہمارے لیے باعث فخر ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی چاہیے کہ کامران مسیح کے نام سے ادارے منسوب کریں تاکہ دنیا بھر میں پاک فوج کی بہادری اجاگر کی جا سکے۔”اکرم مسیح گل نے کہا کہ ہماری افواج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے پیشہ ور، دلیر اور باصلاحیت فورس ہیں۔” انہوں نے کہا کہ یہ صرف افواج پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری قوم کی غیرت، خودداری اور اصولوں کی فتح ہے۔ اکرم گل نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کو بہانہ بنا کر پاکستان پر بلا جواز جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی، مگر ہماری بہادر افواج نے نہ صرف تحمل کا مظاہرہ کیا بلکہ دشمن کے ہر وار کا بھرپور اور مؤثر جواب دے کر عسکری تاریخ کا سنہرا باب رقم کیا۔انہوں نے مکمل اور فوری جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا اورامریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جنہوںنے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔اس موقع پرولیم شہزاد، جیمس سپرین،پاسٹر روبن یامین، مشتاق کمبوہ،محمد ظہیر، مسز طاہرہ شریف ودیگر مقررین نے بھی اظہار خیال کیا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کامران مسیح
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔