اسلام آباد:

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے برآمدات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے درآمدی محصولات میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت نیشنل ٹیرف پالیسی کے حوالے سے اہم اجلاس وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وزیر اعظم نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے درآمدی محصولات (ٹیرِف) میں بتدریج مگر نمایاں کمی کی منظوری دے دی ہے۔

اس اقدام کو معاشی بہتری کے حصول کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے جو کہ برآمدات پر مبنی ترقی کو ممکن بنائے گا۔ زیرِ نظر فیصلے سے نہ صرف بے روزگاری پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ مہنگائی کی شرح کو بھی قابو میں رکھا جا سکے گا۔

مزید برآں اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت عوام کو روزگار کی فراہمی اور خاص طور پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باعزت روزگار مہیا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

وزیرِ اعظم نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت مضبوط معیشت کے حصول، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور مہنگائی کے دیرپا اور مکمل خاتمے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔ ملکی و غیر ملکی ماہرینِ معیشت سے سیر حاصل مشاورت کے بعد بنیادی معاشی اصلاحات کے لیے ایک جامع منصوبہ تشکیل دیا جا چکا ہے۔

اجلاس میں وزیر اعظم نے اضافی کسٹمز ڈیوٹی (جو اس وقت 2 فیصد سے 7 فیصد کے درمیان ہے) اور ریگولیٹری ڈیوٹی (جو اس وقت 5 فیصد سے 90 فیصد تک ہے) کو اگلے چار سے پانچ سال میں مکمل طور پر ختم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، وزیراعظم نے کسٹمز ڈیوٹی کو زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک محدود کرنے کے حق میں فیصلہ کیا ہے، جب کہ فی الحال بعض اشیاء پر یہ شرح 100 فیصد سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ کسٹمز ڈیوٹی کی شرحوں (سلیبز) کو چار تک محدود کر دیا گیا ہے، جس سے درآمدات سے متعلق قانونی پیچیدگیوں میں نمایاں کمی آئے گی اور مختلف صنعتوں کو برابر کے مواقع میسر آ سکیں گے۔

وزیر اعظم کے اس تاریخی فیصلے سے معیشت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھلے گی اور ملکی صنعتوں کو خام مال، درمیانی اشیاء اور سرمایہ جاتی سامان بآسانی اور سستے داموں دستیاب ہوگا۔

اس کے علاوہ مسابقت میں اضافے کی وجہ سے مقامی صنعتیں زیادہ مؤثر اور مسابقتی بنیں گی، جو ملک کے لیے برآمدی آمدنی بڑھانے میں مدد دے گا۔ اس طرح مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔

وزیر اعظم نے اس تجویز کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا، ٹیرف میں کمی نہ صرف جاری کھاتے کے خسارے کو مستحکم کرے گی بلکہ کسٹمز ڈیوٹی سے زیادہ محصولات حاصل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

اسی اجلاس میں وزیر اعظم نے ایک عمل درآمد کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ وزیر اعظم نے اعادہ کیا کہ ملک کی معاشی بہتری ان کی اولین ترجیح ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کسٹمز ڈیوٹی سرمایہ کاری نمایاں کمی وفاقی وزیر کے لیے

پڑھیں:

وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔

وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔

(جاری ہے)

وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف