اسلام ٹائمز: اس تنظیم نے انقلاب اسلامی ایران اور اسکے بانی امام خمینی (رض) کی حمایت اسوقت کی، جب انقلاب اسلامی کی جدوجہد میں امام خمینی، فرانس میں جلا وطن تھے۔ پاکستان کے ہمسائے ایران میں امام خمینی رضوان اللہ کی قیادت میں شہنشاہیت کیخلاف تحریک انقلاب زوروں پر تھی تو اس تنظیم کے باشعور اور بلند فکر دور اندیش نوجوانوں نے 1978ء میں انقلاب سے قبل انقلاب اسلامی کے قائد امام خمینیؒ کی حمایت میں لاہور کے مال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور رہبر انقلاب امام خمینی رضوان اللہ، جو فرانس میں جلا وطنی کی زندگی گذار رہے تھے، ان سے یکجہتی کا اظہار و حمایتی خط بھی ارسال کیا، جو اس بات کی شہادت ہے کہ اس دور میں بھی جب ان نوجوانوں نے کسی سے بھی ولایت فقیہ کا درس نہیں لیا تھا، اس کاروان کا ہر فرد ولی فقیہ امام خمینی کی بلند معرفت رکھتا تھا اور انہیں رہبر و رہنما تصور کرتا تھا۔ تحریر: ارشاد حسین ناصر

ستر کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں پاکستان میں مکتب تشیع کے پیروان کی قومی سطح پر ملک گیر جماعت یا پلیٹ فارم نہیں تھا، مدارس کے نظام کی طرف دیکھیں تو یہ بھی مخالفین کے مقابل نہ ہونے کے برابر تھے۔ علماء کرام بھی محدود تعداد میں تھے۔ ظاہر ہے جب مدارس محدود تھے تو علماء نے تو محدود ہونا ہی تھا۔ اس وقت قم المقدسہ کا حوزہ ہمارے لوگوں کا مسکن نہیں ہوتا تھا۔ نجف اشرف میں دینی تعلیم کے حصول کیلئے رجوع کیا جاتا تھا۔ البتہ بعض خطباء کا کافی نام تھا، یہ زمانہ دراصل مناظرانہ سوچ، فکر اور چیلنجز کا دور تھا۔ اس وقت تبلیغات ایسے ہی ہوتی تھیں،  مجالس و محافل میں ایک دوسرے کے مولویوں کو للکارا جاتا تھا، لہذا اہل تشیع کے بھی کچھ نامور مناظر و خطیب قومی سطح پر نام کما چکے تھے۔ البتہ اسی دور میں شیعہ مطالبات کمیٹی کے نام سے ایک تحریک چل رہی تھی، جبکہ قبل ازیں تحریک ختم نبوت، علماء کے بائیس نکات اور کچھ دیگر قومی سطح کے ایشوز میں شیعہ و سنی و دیگر مکاتیب فکر مشترک جدوجہد کرچکے تھے۔

اس دور کی قومی سیاست کے منظرنامہ کو دیکھیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں نظریاتی سیاست کا غلغلہ اور زور تھا، چونکہ یہ دور سویت یونین اور امریکہ کی سخت چپقلش کا دور تھا۔ سویت یونین کمیونزم اور مارکسزم یا سوشلزم کا نظریاتی ملک تھا جبکہ امریکہ کیپٹلزم کا داعی تھا، لہذا دنیا ان دو بلاکوں میں منقسم تھی۔ عمومی طور پر انہیں لیفٹ اور رائیٹ ونگ کہا جاتا تھا۔ اسی تقسیم کے اثرات ہماری قومی سیاست پر بھی نمایاں تھے۔ لہذا اس دور میں کالجز و یونیورسٹیز کے طلباء میں بھی اس نظریاتی سیاست کا رنگ غالب دکھائی دیتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب پاکستان کے سیاسی افق پر طلباء تنظیمیں بھی بہت فعال و متحرک رہتیں اور طلباء کو اپنی جانب لانے کیلئے انقلابی نظریات کیساتھ ساتھ کارکردگی بھی دکھاتی تھیں۔ ایوب خان کیخلاف طلباء بھی تحریک کا حصہ تھے، طلباء بھی دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم کا شکار تھے۔ اس زمانے میں سوشلسٹ نظریات کالجز و یونیورسٹیز میں تیزی سے پھیل گئے تھے۔

یہی وہ زمانہ ہے، جب مکتب تشیع سے تعلق رکھنے والے طلباء جو کہیں شیعہ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے نام سے کام کر رہے تھے تو کسی دوسرے کالج میں امامیہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام سے جدوجہد میں مصروف تھے۔ ان شیعہ طلباء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور باہم جوڑنے کیلئے 22 مئی 1972ء کے دن انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں کاروان امامیہ کا تاسیسی اجلاس ہوا۔ اسی اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا اور طے پا گیا کہ آئندہ شیعہ طلباء مختلف ناموں کے بجائے مشترکہ طور پر جدوجہد کریں گے۔ اس حوالے سے دستور العمل اور اصول و ضوابط طے کرنے کیلئے 11 جون کو میو ہسپتال میں واقع ڈاکٹر ماجد نوروز عابدی کے گھر پر اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس میں بزرگ علماء قبلہ مولانا مرتضیٰ حسین صدرالافاضل، قبلہ آغا علی الموسوی، قبلہ صفدر حسین نجفی، قبلہ صادق علی نجفی بھی شریک ہوئے۔

اس اجلاس میں یہ طے ہوگیا کہ تمام تنظیموں کو ایک ہی نام سے ایک ہی دستور کے تحت کام کرنا ہوگا۔ یہ نام علماء نے استخارہ کے ذریعے منتخب کیا، جو امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان تھا۔ اس اجلاس میں تنظیم کا عبوری سیٹ اپ بھی چنا گیا۔ برادر سید مرغوب حسین زیدی جو کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے طالبعلم تھے، ان کو عبوری مدت کیلئے صدر منتخب کیا گیا۔ (مرغوب حسین زیدی بعد ازاں آرمی کی میڈیکل کور میں بطور بریگیڈیئر خدمات دیتے رہے) جبکہ انجینئرنگ یونیورسٹی کے طالبعلم علی رضا نقوی مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے، جو اس پیش رفت میں بھی پیش پیش تھے۔ یوں اس کاروان الہیٰ نے اپنا رخت سفر باندھا اور پھر "حی علیٰ خیر العمل" کی صدائوں میں آگے ہی بڑھتا رہا۔

لاہور کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے آغاز سفر کرنے والے نوجوانوں نے علماء کی رہنمائی میں خدا کی راہ میں اپنے نصب العین کو سامنے رکھتے ہوئے قدم بڑھائے تو ہر سو پیاسے اور تشنہ دہن اس دریائے اخوت و بھائی چارہ میں غوطہ زن ہوتے گئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ طلباء کی نظریاتی، دینی اور شعور کی بیداری کی تحریک لوگوں کے دلوں میں گھر کرگئی، پھر وہ وقت جلد آگیا کہ وادی مہران سندھ کے امن، محبت اور خلوص کے گیت گانے والے جفاکش مخلصین، صوبہ سرحد (کے پی کے) کے قبائلی و میدانی علاقہ جات میں دشمنانِ دین میں گھِرے موالیان حیدر کرارؑ، بلوچستان کے چٹیل میدانوں میں بسیرا کرنے والے سخت زندگی کے عادی پُرخلوص و باایمان مومنین، جن میں بلوچ و ہزارہ بھی تھے۔ شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان کے بلند و بالا کہساروں کی سرزمین پر ہمالیہ کا عزم رکھنے والے دین و مذہب سے عشق کرنے والے عوام، کشمیر کی سرسبز و شاداب وادیوں میں پیغام اہلبیتؑ کے علمبردار اور پاکستان کے دل پنجاب پر حسینیت کا پرچم لہرانے والے حق کے طرفداروں کی نگاہوں میں جھانک کے دیکھا گیا۔۔

دلوں کو کھنگالا گیا۔۔۔ سوچوں کو پڑھا گیا۔۔ تو ہر ایک کے دل میں آئی ایس او پاکستان کیلئے محبت دکھائی دی، ہر ایک کی آنکھ میں اُمید کی جو کرنیں ابھرتی دکھائی دیں۔۔ انہوں نے ایک ہی نام دیکھا۔۔ وہ آئی ایس او پاکستان تھا۔۔۔۔ لوگوں کی سوچوں پر جو نام حاوی تھا، اسے عرفِ عام میں دنیا آئی ایس او ہی پکارتی ہے۔۔۔۔ لہٰذا یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ آئی ایس او ہی وہ واحد کاروان ہے، جو بلوچستان کے چٹیل میدانوں، کراچی کے ساحلوں، پنجاب کے دشوار گذار علاقوں، کرم ایجنسی پیواڑ کی افغان سرحد، جموں و کشمیر کے سرسبز و شاداب پہاڑوں اور شمالی علاقہ جات گلگت و بلتستان کے بلند و بالا کہساروں اور سنگلاخ چٹانوں کے بسنے والے کربلا کے پیروان کی اُمید اور آرزو یہی الہیٰ کاروان ٹھہرا۔۔ ایک کاروان، ایک نام سنا، پڑھا اور دیکھا گیا، جو اپنا 53واں یوم تاسیس مناتے ہوئے اپنے روشن کردار، تابندہ تاریخ پر فخر کرسکتا ہے۔

یہ ایک طلباء تنظیم ہے، اس کا دستور طلباء تنظیم کا ہے، مگر اس میں جو روایات، اس کا جو کردار، اس کی خدمات کا دائرہ یقیناً ایک قومی پلیٹ فارم بلکہ جتنے بھی پاکستان کے قومی پلیٹ فارم وجود رکھتے ہیں یا ماضی میں فعال رہے ہیں، ان سب سے زیادہ قومی خدمات اسی کاروان کی ہیں۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کا قیام کسی سیاسی و سماجی تنظیم یا تحریک کے زیر سایہ نہیں ہوا، اس لیے کسی بھی جماعت کی دم چھلا کبھی نہیں بنی بلکہ طلباء تنظیم ہوتے ہوئے اس تنظیم نے قومی قیادت کرنے والی جماعتوں کو ہمیشہ اپنے تربیت یافتہ اور مخلص لوگ دیئے ہیں، جنہوں نے ان قومی و ملی پلیٹ فارمز پر بے پناہ خدمات سرانجام دیں اور دے رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ تربیت ماحول سے گذر کے آنے والے روایتی سیاسی جماعتوں کے ماحول میں ایڈجسٹ ہونے میں دقت محسوس کرتے ہیں، چونکہ روایتی سیاسی جماعتوں میں خوشامد اور چاپلوسی کی بنیاد پر لوگ مرکزی قیادتوں کے قریب ہو جاتے ہیں، جبکہ امامیہ برادران کی تربیت اس کے بالکل الٹ ہوئی ہوتی ہے۔

قومی جماعتوں اور پلیٹ فارمز کیساتھ ساتھ پاکستان میں دینی مدارس کے نیٹ ورکس میں بھی انقلابی و و فکری نیز زمانہ حال کے تقاضوں کے مطابق تعلیم دینے والے حوزہ جات کے قیام میں شاندار کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ سینیئرز نے اپنی دنیاوی تعلیم مکمل کرکے حوزہ علمیہ قم المقدسہ میں دینی تعلیم کے حصول کیلئے رجوع کیا۔ یوں پاکستان میں یہ ایک تاریخ اور ریکارڈ بن گیا کہ جہاں آٹھ جماعت یا میٹرک پاس بچے دینی تعلیم کیلئے بھیجے جاتے تھے، وہاں ماسٹر ڈگری و ڈاکٹریٹ کرنے والے دینی تعلیم کیلئے حوزہ میں بھیجے گئے، جن سے آج ہمارا معاشرہ بھرپور مستفید ہو رہا ہے۔ ایسے ہی بہت سے شہروں میں اس تنظیم سے فارغ التحصیل برادران نے اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے، اسکولز و کالجز بنا کر عام معاشرے کو تعلیم و تربیت کے شعبہ میں بہترین خدمات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ بالخصوص وہ شیعہ اکثریتی ایریاز میں اس کے بہت ہی مثبت اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔

طلباء تنظیم ہونے کے ناتے اس تنظیم نے ہمیشہ طالبعلموں کی تعلیمی، فکری اور روحانی تربیت کا ساماں کرنے میں سخت کوششیں کی ہیں۔ تعلیمی حوالے سے اس تنظیم کی خدمات اور کارہائے نمایاں کو دیکھا جائے تو اس تنظیم نے ہر ڈویژنل اور یونٹ سطح پر امتحان سے پہلے امتحان کا خوبصورت آئیڈیا دیا ہے، جس سے طالبعلم امتحانی پیٹرن پر فائنل امتحان سے پہلے ہی اپنی کارکردگی کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ہی وہ پلیٹ فارم ہے، جس کا نیٹ ورک پورے پاکستان میں ہے اور جو پاکستان بھر کے طلباء کی بہبود، فلاح اور مدد میں رہنمائی کیلئے ہمیشہ سرگرم عمل ہے۔ تعلیمی سیمینارز، کیریئر گائیڈنس کیساتھ ساتھ طلباء کو اسکالر شپ اور قرض کا وسیع نیٹ ورک ہے، جس کے تحت ہر ماہ لاکھوں روپے ذہین طلباء کو دیئے جاتے ہیں۔ یوں یہی طلباء اپنی عملی زندگی میں یہ اسکالرشپ اور تعلیمی فلاح قرض، ادارے کو واپس کرتے ہیں اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا پہلا دور جو اپنے قیام 1972ء سے لیکر انقلاب اسلامی کی کامیابی تک ہے، یہ بالکل ایک نوزائیدہ پلیٹ فارم جسے توسیع اور وسعت کی ضرورت تھی، جسے تعارف درکار تھا، اسی میں گذر گیا۔ اس کے باوجود اس تنظیم نے انقلاب اسلامی ایران اور اس کے بانی امام خمینی (رض) کی حمایت اس وقت کی، جب انقلاب اسلامی کی جدوجہد میں امام خمینی، فرانس میں جلا وطن تھے۔ پاکستان کے ہمسائے ایران میں امام خمینی رضوان اللہ کی قیادت میں شہنشاہیت کیخلاف تحریک انقلاب زوروں پر تھی تو اس تنظیم کے باشعور اور بلند فکر دور اندیش نوجوانوں نے 1978ء میں انقلاب سے قبل انقلاب اسلامی کے قائد امام خمینیؒ کی حمایت میں لاہور کے مال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور رہبر انقلاب امام خمینی رضوان اللہ، جو فرانس میں جلا وطنی کی زندگی گذار رہے تھے، ان سے یکجہتی کا اظہار و حمایتی خط بھی ارسال کیا، جو اس بات کی شہادت ہے کہ اس دور میں بھی جب ان نوجوانوں نے کسی سے بھی ولایت فقیہ کا درس نہیں لیا تھا، اس کاروان کا ہر فرد ولی فقیہ امام خمینی کی بلند معرفت رکھتا تھا اور انہیں رہبر و رہنما تصور کرتا تھا۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ہی وہ پلیٹ فارم ہے، جو کئی کالجز و یونیورسٹیز میں مساجد میں اپنے نماز باجماعت کا اہتمام کرتا آرہا ہے، اس کیلئے بہت قربانیاں بھی دی ہیں، جبکہ ایام محرم میں یوم حسین ؑ کے عنوان سے پروگرام بھی کرواتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے بہت سی جگہوں پر سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ یہ بات طے ہے کہ اس کے کارکنان جو ایک نظم کے پابند ہوتے ہیں، ان کو کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ تشدد کے مقابلہ میں تشدد کی راہ اپنائیں۔ جس کے باعث کئی ایک تعلیمی اداروں کا ماحول اس کثافت و آلودگی سے بچ گیا ہے، جس کو کئی دیگر عناصر خراب کرکے اپنا الو سیدھا رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل فخر ہے کہ اس تنظیم کا تعلق طلباء تنظیموں کے اتحاد متحدہ طلباء محاذ سے بھی گہرا ہے، ماضی میں اس کی صدارت بھی اس کارروان کے ایک مرکزی صدر کے پاس رہی ہے، اس محاذ میں آئی ایس او ایک فعال تنظیم کے طور پر موجود ہے۔ متحدہ طلباء محاذ میں موجود تمام طلباء تنظیموں سے برادرانہ تعلقات بہت سے مسائل کے حل میں معاون و مدد گار رہتے ہیں۔

اگرچہ موجودہ مضبوط پرائیویٹ تعلیمی نظام اور امتحانی درجہ بندی کے سسٹم کے باعث طلباء سیاست اور سرگرمیوں میں کافی کمی محسوس ہوتی ہے، مگر اس حوالے سے آئی ایس او یا کسی بھی دیگر نظریاتی طلباء تنظیم کیلئے یہ بات پریشان کن نہیں ہے کہ طالبعلم ان کے پاس نہیں آرہے اور ان میں نئی کھیپ کا اضافہ نہیں ہو رہا۔ نظریاتی تنظیموں کے نظریات اگر جامد نہ ہوں تو یہ فرق نہیں پڑتا۔ آئی ایس او پاکستان ان عالمی اسلامی تحریکوں اور نہضتوں سے مربوط ہے، جنہیں امت مسلمہ کے نوجوان اپنے دل و دماغ میں بسائے ہوئے ہیں، بالخصوص فلسطین کی اسلامی تحریک، لبنان کی مزاحمت اسلامی، انقلاب اسلامی ایران، یمنی اسلامی مقاومت اور مختلف اسلامی ممالک میں اسلام حقیقی کی ترویج و تبلیغ کیلئے کوشاں تحریکوں کی جدوجہد اس کے کارکنان کیلئے نظریاتی کشش کا باعث ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امام خمینی رضوان اللہ ا ئی ایس او پاکستان انقلاب اسلامی فرانس میں جلا نوجوانوں نے طلباء تنظیم پاکستان میں پاکستان کے دینی تعلیم پلیٹ فارم اجلاس میں کرنے والے طلباء کو کی حمایت ہے کہ اس نے والے رہے ہیں میں بھی میں یہ گیا کہ

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد