پاراچنار میں قیامِ امن کیلئے ایم ڈبلیو ایم کا کردار
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اسلام ٹائمز: کرم کے مسئلہ پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے کردار پر روشنی ڈالی جائے تو اس حوالے سے انکی خدمات ناقابل فراموش رہی ہیں۔ انہوں نے بحیثیت سینیٹر ایوان بالا میں ضلع کرم کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا، انہوں نے اس مسئلہ کو فرقہ وارانہ مسئلہ بنانے کی تمام تر کوششوں کا قلع قمع کیا۔ وہ انتہائی مخدوش حالات کے دوران سفیر امن بن کر ایک پارلیمانی وفد لیکر کرم پہنچے، انہوں نے بلاتفریق اہل تشیع کے ساتھ ساتھ مظلوم اہلسنت کے درد کو نہ صرف سنا بلکہ اسے محسوس کرتے ہوئے اپنے ہر قسمی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ خصوصی رپورٹ
ضلع کرم کی سرزمین طویل عرصے سے فرقہ وارانہ کشیدگی، راستوں کی بندش اور سماجی انتشار کی لپیٹ میں رہی ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں خاص طور پر پاراچنار میں امن کے قیام کیلئے شیعہ تنظیموں، قائدین، علمائے کرام اور سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے جس استقامت، حکمت اور بردباری کا مظاہرہ کیا گیا، وہ قابل تحسین ہے۔ اس حوالے سے یہاں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ضلع کرم میں قیام امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ایم ڈبلیو ایم پاکستان کرم کی مقامی قیادت، گرینڈ جرگہ رکن شبیر حسین ساجدی، میئر پاراچنار مولانا مزمل حسین فصیح اور خاص طور پر چیئرمین ایم ڈبلیو ایم سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور رکنِ قومی اسمبلی انجینیئر حمید حسین طوری نے علاقہ میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ مجلس وحدت مسلمین کی مرکزی قیادت نے جہاں اسلام آباد اور دیگر شہروں میں کرم کے مسائل کو اجاگر کیا، وہیں مقامی قیادت نے میدانِ عمل میں عوام کی رہنمائی کی۔
میئر پاراچنار مولانا مزمل حسین فصیح نے مقامی نوجوانوں میں شعور پیدا کیا، خطرات سے خبردار کیا اور ہر اُس کوشش کی قیادت کی، جس سے امن کے امکانات روشن ہوسکتے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں بے گناہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ پاراچنار کے معروف سماجی کارکن، صوبائی جنرل سیکرٹری اور گرینڈ جرگہ رکن شبیر حسین ساجدی نے نہ صرف عوامی پلیٹ فارمز پر پرامن تحریکوں کی حمایت کی، بلکہ دھرنوں، مذاکراتی جرگوں اور امن معاہدوں میں بھرپور حصہ لیا۔ ان کی نرم گفتاری، وسعتِ نظر اور غیر متزلزل جدوجہد نے ہر طبقے کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شبیر ساجدی نے مستقل طور پر اس بات پر زور دیا کہ امن صرف بندوق سے نہیں، بلکہ فہم، مکالمے اور انصاف سے آتا ہے۔ اسی طرح کرم سے منتخب رکن قومی اسمبلی ایم این اے انجینیئر حمید حسین طوری نے نہ صرف پارلیمنٹ کے فورم پر کرم کے مسائل کو اجاگر کیا، بلکہ عملی اقدامات بھی کیے۔ انہوں نے راستے کھلوانے، ترقیاتی فنڈز کی بحالی اور امن کے لیے حکومتی سطح پر دباؤ ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے جرگہ سسٹم کو مضبوط کرنے اور وفاقی اداروں کو مذاکرات کی طرف لانے میں سفارتی کردار ادا کیا، جو ایک نیا رخ ثابت ہوا۔ پاراچنار میں ایم ڈبلیو ایم کے مقامی رہنماوں کی جانب سے شروع ہونے والے دھرنے نے ملک گیر دھرنوں کی شکل اختیار کی، جس سے حکومت مجبور ہوئی کہ امن جرگے قائم کرے اور مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے۔ ان دھرنوں کے نتیجے میں جو معاہدہ طے پایا، وہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ کرم کے مسئلہ پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے کردار پر روشنی ڈالی جائے تو اس حوالے سے ان کی خدمات ناقابل فراموش رہی ہیں۔ انہوں نے بحیثیت سینیٹر ایوان بالا میں ضلع کرم کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا، انہوں نے اس مسئلہ کو فرقہ وارانہ مسئلہ بنانے کی تمام تر کوششوں کا قلع قمع کیا۔ وہ انتہائی مخدوش حالات کے دوران سفیر امن بن کر ایک پارلیمانی وفد لیکر کرم پہنچے، انہوں نے بلاتفریق اہل تشیع کے ساتھ ساتھ مظلوم اہلسنت کے درد کو نہ صرف سنا بلکہ اسے محسوس کرتے ہوئے اپنے ہر قسمی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
علاوہ ازیں ایک ملک گیر مذہبی و سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے ہر دستیاب فورم پر کرم کا مقدمہ پیش کیا۔ ایم ڈبلیو ایم سمیت دیگر سٹیک ہولڈرز کی کوششوں سے گو کہ مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہوئے، تاہم حالات میں قدرے بہتری ضرور آئی ہے، جس میں سرفہرست طے پانے والا امن معاہدہ ہے، اگرچہ اس معاہدے کی بعض شقوں پر مکمل عملدرآمد ابھی باقی ہے، تاہم شیعہ قیادت کی مسلسل کوششیں امید کی کرن ہیں۔ پاراچنار کے عوام اب ایک نئے شعور کے ساتھ اپنے حق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ اگر حکومت خلوصِ نیت سے ان معاہدوں پر عمل کرے تو وہ دن دور نہیں جب پاراچنار ایک پُرامن، خوشحال اور متحد شہر کے طور پر ابھرے۔ مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر انجینیئر حمید حسین طوری، تحصیل چیئرمین مولانا مزمل حسین، شبیر حسین ساجدی اور دیگر کی کرم میں قیام امن کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کردار ادا کیا ایم ڈبلیو ایم انہوں نے امن کی کرم کے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔