خیبرپختونخواحکومت کا سرکاری ملازمین کو 30 مئی تک تنخواہ اور پنشن دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبرپختونخواحکومت نے سرکاری ملازمین کو 30 مئی تک تنخواہ اور پنشن دینے کا فیصلہ کرلیا۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق عید الضحیٰ کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی سہولت کےلئے صوبائی حکومت نے عید سے قبل آخری اتوار سے پہلے تنخواہ ادائیگی کے احکامات جاری کردیئے۔ محکمہ خزانہ نے تمام سرکاری محکموں اور اداروں کو اس حوالے سے مراسلہ بھیج دیا ہے۔
واضح رہے کہ یکم جون کو اتوار کی ہفتہ وار چھٹی ہے اسلئے مہینے کی آخری ورکنگ ڈے کو تنخوا دی جائے گی۔
دوسری جانب بجٹ 2025،26 کی تیاری سے متعلق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات مکمل ہوگئے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں پر ٹیکسوں کی شرح کم کرنے ، ترقیاتی وغیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے سے متعلق تجاویز بھی شیئرکردی ہیں۔
پنجاب؛ یومیہ اجرت پر جنگلوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی ادائیگی کیلیے جدید نظام متعارف
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔