پاکستان کوفیٹف کی گرے لسٹ میں شامل کروانے کی بھارتی سازش بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
پاکستان کوفیٹف کی گرے لسٹ میں شامل کروانے کی بھارتی سازش بے نقاب WhatsAppFacebookTwitter 0 25 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)بھارت کی جانب سے پاکستان کو عالمی سطح پر معاشی طور پر کمزور کرنے کی سازشیں ایک بار پھر بے نقاب ہو گئیں۔ سفارتی ذرائع اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے نہ صرف پاکستان کے خلاف جھوٹا عالمی پروپیگنڈا شروع کیا ہے بلکہ اسے دوبارہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کروانے کی بھرپور کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کو جو ڈوزیئر پیش کیا گیا ہے، وہ بے بنیاد الزامات پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد پاکستان پر عالمی مالیاتی دبا ڈال کر ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ہے، بھارت پاکستان کی اقتصادی بحالی اور ترقی سے خائف ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت نے ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کے لیے منظور کردہ 20 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کی شدید مخالفت کی ہے، جس سے اس کے مذموم عزائم مزید عیاں ہو گئے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان کو مالی امداد سے محروم کر کے ترقیاتی عمل کو روک دیا جائے تاکہ ملک کو اندرونی طور پر عدم استحکام کا شکار کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت خطے میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے، یہ تمام اقدامات سیاسی دشمنی اور پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی خواہش کا مظہر ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ پاکستان مسلسل شفافیت، مالی نظم و ضبط اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔پاکستانی حکام نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں اور خطے میں امن و ترقی کے فروغ کے لیے پاکستان کے مثبت اقدامات کا ادراک کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد، ضلعی انتظامیہ کا شیشہ کیفے کیخلاف کریک ڈاون ، 7کیفے سیل اسلام آباد، ضلعی انتظامیہ کا شیشہ کیفے کیخلاف کریک ڈاون ، 7کیفے سیل آئیسکو ریجن میں بوجہ ضروری سسٹم مینٹیننس26مئی 2025 عارضی بجلی بندش کا شیڈول فوزیہ ناز کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بیٹن آف فیلڈ مارشل ملنے پر مبارکباد چائنا میڈیا گروپ کی جانب سے چائنا میں خریدیں،2025 گریٹر بے ایریا کھپت سیزن کی میڈیا مہم کا آغاز کر دیا گیا چین کے وزیر اعظم اور انڈونیشیا کے صدر کی چائنا- انڈونیشیا بزنس عشایئے میں شرکت چینی صدر کے خصوصی ایلچی ہوائی جن پھنگ کی ایکواڈور کے صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔