پاکستان سے جنگ میں شکست کے بعد امریکی صدر ٹرمپ بھارتی میڈیا کے نشانے پر
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
عالمی سطح پر بھارت کا دوغلا پن بے نقاب ہوگیا، پاکستان کے ہاتھوں 6-0 کی عبرتناک شکست کے بعد بھارتی میڈیا نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانے پر رکھ لیا۔
بھارت کی جنگی شکست اور سفارتی ہزیمت نے نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ بھارت کی جانب سے امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی گئی تاہم اب ماننے سے انکاری ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’پاک بھارت جنگ بندی میں ان کا اہم کردار رہا‘‘ لیکن جب ٹرمپ نے امن کوششوں کا کریڈٹ لیا تو بھارتی میڈیا چیخنے لگا کہ ’’ٹرمپ جھوٹا ہے، غیر ذمہ دار ہے!‘‘
بھارت نے امریکا سے ثالثی کی درخواست کر کے ٹرمپ مخالف مہم چلا دی۔ بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی ڈی جی ایم اوز کے رابطے سے ہوئی۔
بھارتی اینکر ارناب گوسوامی نے ٹرمپ کو ’’غیر سنجیدہ، جھوٹا، توجہ کا بھوکا‘‘ قرار دیا جبکہ یہی ارناب جنگ کے دوران امریکا کو ’’اسٹریٹیجک پارٹنر‘‘ کہہ رہا تھا۔
جنگ میں ناکامی کے بعد بھارت، ٹرمپ پر تنقید، ڈبلیو ٹی او میں امریکا کے خلاف شکایت اور امریکی صحافیوں پر قدغنیں جیسے حربے استعمال کر چکا ہے۔ امریکی صحافی جیکسن ہنکل کو بھارت میں بلاک کر دیا گیا کیونکہ وہ بھارتی فالس فلیگ کو پہچان چکے تھے۔
بھارت ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ امریکی پالیسیوں کو ’’دھوکا‘‘ قرار دے رہا ہے۔ بھارت کا امریکا پر الزامات لگانا، اپنی شکست، کمزوری اور ناکام حکمت عملی کو چھپانے کا ایک طریقہ ہے۔
آج بھارت امریکی ٹیرفس کو ’’غیر منصفانہ‘‘ قرار دے کر واویلا مچا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا، حکومت اور دفاعی تجزیہ کار سب مل کر دنیا کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار کے مطابق بھارت کا مضحکہ خیز مؤقف ہے کہ امریکا اور چین دونوں بھارت کو اقتصادی مقابلہ سمجھتے ہیں، بھارت جنگ میں شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے اس لیے امریکا جیسے ملک کو بھی دشمن کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی کمزوری چھپانے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے، پھر چاہے امریکہ اور ٹرمپ کو دشمن ہی کیوں نہ بنانا پڑے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔