Daily Ausaf:
2026-07-24@12:28:53 GMT

غزہ: جنگ، جبر اور انصاف کی شکست

اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT

غزہ فلسطین کاایک چھوٹاساساحلی علاقہ ہےجس کی سرحدیں اسرائیل،مصراوربحیرہ روم سے ملتی ہیں۔ اس کی آبادی تقریبا23لاکھ ہے اوریہ دنیاکے سب سے گنجان آباداورمحروم علاقوں میں شمارہوتا ہے۔ 2007ء سےغزہ پرحماس کی حکمرانی ہے،جو اسرائیل کے ظلم و ستم کے خلاف جدوجہد آزادی میں مصروف ہے۔
اکتوبر2023ء میں حماس اوراسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے بعدغزہ ایک شدید انسانی بحران کاشکارہوگیا۔اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے مئی2025میں ایک نئی پالیسی کی منظوری دی جس میں غزہ پرقبضہ،حماس کوختم کرنے کیلئے بھرپور کارروائیاں ،اورانسانی امداد پر کنٹرول جیسے نکات شامل تھے۔یہ پالیسی داخلی سیاسی عوامل اوربین الاقوامی سفارتی چیلنجزکے بیچ میں متوازن ہونے کی بجائے تنازع کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ منصوبہ کے مطابق غزہ میں فوجی کارروائیوں میں شدت، علاقے پرکنٹرول حاصل کرنا، حماس کو مکمل طور پر کمزور کرنا اور انسانی امداد کی فراہمی کے راستے بند کرنا شامل ہے۔ اس منصوبے کو دنیا بھر میں سخت تنقید کا سامنا ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور موجودہ سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
2005ء میں اسرائیل نے غزہ سےفوجی انخلاکیاتھالیکن اس کے بعد بھی وہ غزہ کی بری،بحری اورفضائی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔ درآمدات،برآمدات،بجلی اورپانی کی فراہمی پرمکمل اسرائیلی کنٹرول ہے۔پچھلی سات دہائیوں سے زائد اسرائیلی بربریت کے خلاف اکتوبر 2023ء میں حماس کےایک بڑےحملےکے بعداسرائیل نے غزہ پربھرپور فوجی حملے شروع کیے۔اس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہری شہیداورلاکھوں بے گھرہوگئے۔اسرائیلی فوج نے غزہ کے بڑے حصوں پرزمینی حملوں میں درجنوں اسرائیلی شہریوں کویرغمال بنالیا ۔ اب مئی2025ء میں اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے ایک نئی پالیسی کی منظوری دی ہے جس میں غزہ کاطویل المدتی فوجی کنٹرول،حماس کوانسانی امدادسے محروم کرنے کی کوشش اورمکمل فوجی تسلط اورقبضہ شامل ہے۔یہی پالیسی اب بین الاقوامی توجہ اور مخالفت کامرکز بن چکی ہے۔
کیااسرائیل غزہ پرقبضہ کرسکتاہے؟بین الاقوامی قوانین کےمطابق چوتھے جنیواکنونشن (1949) اورہیگ ریگولیشنز(1907)کے مطابق، کسی علاقے پر’’فوجی قبضہ‘‘صرف عارضی ہوسکتا ہے۔ کسی بھی ملک کودوسرے علاقے پرطویل مدتی قبضہ کرنے کی اجازت نہیں ہے، جبتک کہ یہ قبضہ دفاعی نوعیت کانہ ہواورجبری الحاق کاارادہ نہ رکھتاہو، اگرچہ عارضی فوجی کنٹرول ممکن ہے،لیکن غزہ جیسے علاقےپرمستقل قبضہ، جہاں اسرائیل پہلے ہی 2005ء میں فوجی انخلا کا اعلان کرچکاہو،ایک جارحانہ عمل سمجھا جائے گا۔مقامی آبادی کے حقوق کااحترام کرنالازم ہے۔
بین الاقوامی عدالت انصاف نے2004ء میں فلسطینی علاقوں پراسرائیلی قبضے کو “غیرقانونی” قراردیاتھا،جس میں غزہ بھی شامل تھا۔ تاہم، اسرائیل نے2005میں غزہ سے اپنی فوجی موجودگی ختم کردی تھی،جس کے بعدسے اس کے قانونی مؤقف میں تبدیلی آئی۔2007سے غزہ پر حماس کاکنٹرول ہے،جبکہ اسرائیل نے زمینی، بحری،اورفضائی محاصرہ جاری رکھاہواہے۔بین الاقوامی تنظیمیں اسے ’’بلاکڈ‘‘ یا’’محدود خودمختاری والاعلاقہ قرار دیتی ہیں۔اگر اسرائیل دوبارہ غزہ میں فوجی آپریشنزکے ذریعے براہ راست کنٹرول حاصل کرتا ہے،تو یہ بین الاقوامی قانون کے تحت’’غاصبانہ قبضہ‘‘شمارہوسکتاہے،جس کیلئے خاص شرائط اورذمہ داریاں عائدہوتی ہیں۔
شہریوں کواجتماعی سزادیناغیرقانونی ہے۔ خوراک،ادویات اورطبی سہولتوں کو روکنا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔اگراسرائیل مستقل قبضے کی جانب بڑھتاہے تویہ استعماری تسلط کی ایک شکل ہوگی اوراسرائیلی اقدام کی حیثیت غیرقانونی تصورکی جائے گی۔بین الاقوامی فوجداری عدالت اوراقوام متحدہ کی سابقہ رپورٹس میں بھی غزہ میں اسرائیلی اقدامات کوممکنہ ’’جنگی جرائم‘‘ اور ’’اجتماعی سزا‘‘کے زمرے میں رکھاگیاہے۔اقوام متحدہ نے اس سے قبل مغربی کنارے میں بستیوں کوغیرقانونی قراردیاہے۔غزہ میں بھی ایسا قبضہ قانونی طورپر تسلیم نہیں کیاجائے گا۔
جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ پرحملے جاری رکھنانیتن یاہوکی ایک سیاسی وعسکری مکارانہ حکمت عملی کاحصہ ہے۔نیتن یاہوسیاسی دباؤ، کرپشن کے مقدمات،داخلی احتجاج ،دائیں بازوکے دبائو اور عدالتی الزامات کے پس منظر میں سےنمٹنے کیلئےجنگ کوطول دیناچاہتا ہے۔نیتن یاہوگزشتہ کئی برسوں سے سیاسی دباؤ کا سامنا کررہا ہے،جن میں کرپشن کے الزامات، احتجاجی مظاہرے اورداخلی اختلافات شامل ہیں۔ جنگ کوجاری رکھ کراس نے ان مسائل سے توجہ ہٹائی ہے۔اندرونی دبائو سے بچنے کیلئے نیتن یاہو نے جنگ کوسیاسی ڈھال بنالیا ہے۔اس کے حامیوں اوردائیں بازوکے حلقوں میں یہ تاثر پھیلایا جارہاہے کہ جب تک حماس کومکمل طورپر نیست ونابودنہ کیاجائے،امن ممکن نہیں۔
نیتن یاہواپنے انتخابی بیانیے کومضبوط کرنے اورجاری مقدمات سے جان چھڑانے کیلئے اسرائیلی عوام کوحماس کاخطرہ بتاکرقوم کوایک مشترکہ دشمن کے خلاف متحد کرکے احتجاجی تحریکوں کوخاموش کرناچاہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہوکے بیانات میں بار بارایسے الفاظ ملتےہیں جیسے ہماری اولین ترجیح حماس کومکمل ختم کرنا،غزہ کوغیرمسلح کرنا اور اپنے مقاصد کی کامیابی کیلئے ہم فتح تک لڑیں گے۔یہ بیانیہ عوامی جذبات کوابھارنے اور سیاسی حمایت برقراررکھنے کی کوشش ہے،چاہے اس کی عسکری حقیقت کچھ بھی ہو۔ اس کے بیانات اور اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ حماس کی مکمل شکست کواپنی سیاسی بقاسے جوڑچکا ہےاورجنگ کومزیدطویل کرتے ہوئےاسے ممکنہ سیاسی کامیابی کے طور پر دیکھتا ہے۔حماس کے قبضے میں موجود یرغمالی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔
یرغمالیوں کی رہائی اورحماس کی فوجی شکست ۔ تاہم،دونوں مقاصدایک دوسرے سے متصادم ہیں۔حماس یرغمالیوں کی رہائی کو اسرائیلی فوج کے انخلاسے مشروط کرتاہے،جبکہ نیتن یاہوفوجی دبائو بڑھاکرحماس کوکمزورکرناچاہتے ہیں۔ اس کشمکش کانقصان غزہ کے شہریوں کو ہورہا ہے۔اسرائیل کی داخلی سیاست میں نیتن یاہو پر دائیں بازوکے گروہوں کا دباؤ بھی ہے،جوغزہ پر مکمل کنٹرول کے بغیرکوئی سمجھوتہ قبول کرنے کو تیارنہیں۔
ادھردوسری طرف بین الاقوامی دبائو کے تحت امریکی حکومت کی جانب سے ایک نیاامن منصوبہ پیش کیاگیاہے،جس میں غزہ کے بعدازجنگ نظم ونسق کیلئے فلسطینی اتھارٹی کومضبوط کرنےکی بات کی گئی ہے۔امریکاچاہتاہےکہ جنگ کے بعدغزہ کانظم ونسق فلسطینی اتھارٹی کے حوالے ہو۔دوریاستی حل کودوبارہ زندہ کیاجائے لیکن اسرائیل اس منصوبے سے متفق نہیں، تاہم اسرائیلی اقدامات اس منصوبے کی نفی کرتے ہیں،کیونکہ وہ غزہ میں مستقل فوجی موجودگی اورمستقل کنٹرول چاہتے ہیں،جوامریکی تجویز کے برعکس ہے۔
امریکا،یورپی یونین اوراقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کی اپیلوں کے باوجودنیتن یاہوکی حکومت کارویہ سخت گیررہاہے۔اس کی دووجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی وجہ وہ موجودہ جنگ سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کررہاہے،جنگ جاری رکھ کر تنقید کو’’غداری‘‘کےمترادف قراردیکر اسرائیلی عوام کواپنے حق میں برانگیختہ کرکے ان کی حمائت حاصل کرنے کی کوششیں کررہا ہے، لیکن اس میں کامیابی نظر نہیں آرہی۔دوسراوہ فوجی برتری کے یقین سے سمجھتاہے کہ عسکری دباؤسے حماس کوگھٹنے ٹیکنے پرمجبورکیاجا سکتا ہے لیکن یاد رکھیں:
یہ حکمت عملی وقتی طورپرمفیدہوسکتی ہے،لیکن یہ اسرائیل کوعالمی سطح پر تنہا کر رہی ہے۔ جہاں انسانی بحران کوشدت بخش رہی ہے وہاں نیتن یاہوکی موجودہ پالیسیوں سے یرغمالیوں کی واپسی کو مشکل تربنارہی ہے۔تقریبا100کے قریب اسرائیلی یرغمالی ابھی بھی حماس کے قبضے میں ہیں۔ اسرائیلی عوام میں انکی واپسی کا دباؤ شدید ہے۔
(جاری ہے )

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بین الاقوامی اسرائیل نے کرنے کی حماس کو

پڑھیں:

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ

اسرائیلی قابض جنگی طیاروں نے وسطی غزہ کی پٹی میں بوریج کیمپ میں ایک مسجد اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو فضائی حملے میں تباہ کردیا ہے۔

صفا نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے بوریج پناہ گزین کیمپ کے جنوب مشرق میں بلاک 9 میں مسجد النور اور اس کے آس پاس کے علاقے کو تباہ کر دیا۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے جبالیہ پناہ گزین کیمپ پولیس اسٹیشن کے قریب ایک مکان کو بھی نشانہ بنایا۔

مقامی میڈیا نمائندے نے کہا کہ اسرائیلی جنگی طیارے غزہ کی پٹی کے متعدد علاقوں پر کم اونچائی پر پرواز کر رہے ہیں۔

غزہ شہر کے مشرق میں واقع زیتون محلے کے کچھ حصوں کے لیے بھی انخلا کی وارننگ جاری کی گئی جو کہ کئی دنوں سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی زد میں ہے، نیز شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیہ پروجیکٹ کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

مسلسل اسرائیلی بمباری نے خطے میں بڑے پیمانے پر خوف و ہراس کو جنم دیا ہے جبکہ رہائشیوں کو متاثرہ علاقوں سے انخلا پر مجبور کیا جارہا ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں کارروائیاں اور حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم