اسلام آباد(اوصاف نیوز) پاک ، بھارت کشیدگی کے بعد بھارتی گودی میڈیا اپنی ہی آگ میں‌جلنے لگا. بھارتی میڈیا اور حکمرانوں کو بری شکست ملنے کے باوجود سکون نہیں آرہا . ایک بار پھر پاکستان کے خلاف جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈے کی مہم تیز کر دی۔

مصدقہ ذرائع اور بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں نے ان دعوؤں کو سراسر بے بنیاد، من گھڑت اور بھارتی میڈیا کا اشتعال انگیز پروپیگنڈا قرار دیا ہے اور زمینی حقائق بھی ان جھوٹے دعوؤں کی تصدیق نہیں کرتے، نہ کوئی طیارہ مارا گیا، نہ کوئی نقصان ہوا۔

قبل ازیں بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی طیارے دو دن تک گراونڈ رہےیعنی بھارتی طیارے دو دن تک کوئی بھی پرواز کرنے کے قابل نہیں تھے۔

بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان کے اعترافی بیان پر بھارتی فوج کے سابق افسر اور معروف دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کے مطابق، جنرل چوہان کا یہ اعتراف کہ بھارتی فضائیہ کے طیارے دو دن تک گراؤنڈ رہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی دفاعی
قیادت نے قوم کو گمراہ کیا ہے۔ ساہنی نے مطالبہ کیا کہ مودی سرکار کو فوری طور پر نیا سی ڈی ایس اور ائر چیف مقرر کرنا چاہیے۔
بھارتی ٹی وی چینلز خصوصاً ریپبلک ٹی وی اور انڈیا ٹوڈےاور این ڈی ٹی وی اپنے عوام کو بے وقوف بنانے میں مصروف ہیں ، جھوٹی مہم کے تحت بھارتی عوام کو یہ دیکھااور بتایا جارہا ہے کہ بھارت نے 6 سے 10 مئی کے درمیان ہونے والے مبینہ فضائی تصادم میں پاکستان کے چھ لڑاکا طیارے، دو نگرانی کے طیارے، ایک C-130 ٹرانسپورٹ طیارہ، درجنوں میزائل اور کئی ڈرونز تباہ کیے ہیں۔ بھارتی چینلز نے اس کارروائی کو “آپریشن سندور” کا نام دیا ہے۔

ارنب گوسوامی کا مشکوک کردار:
ریپبلک ٹی وی کے اینکر ارنب گوسوامی، جو ماضی میں پلوامہ حملے سے متعلق لیک آڈیو کی وجہ سے پہلے ہی متنازع ہو چکے ہیں، ایک بار پھر بغیر کسی شواہد کے پاکستان کے خلاف جنگی کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ارنب قومی سلامتی جیسے حساس معاملات کو بھی سنسنی خیزی اور سیاسی مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ 2019 میں بالاکوٹ حملے کے بعد بھی 300 دہشت گردوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں عالمی اداروں اور آزاد ذرائع نے جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔

بھارت کی تاریخ اس قسم کی ناکامیوں سے بھری پڑی ہے جس کی تصدیق خود بھارتی کے دفاعی تجزیہ کار اور صحافی بھی کرتے ہیں۔ بھارتی دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی نے نامور بھارتی صحافی کرن تھاپر کو دیئے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ 27 فروری 2019 کو بوکھلاہٹ کا شکار بھارتی فضائیہ نے اپنے ہی ہیلی کاپٹر کو میزائل سے مار گرایا تھا جس میں متعدد فوجی افسران ہلاک ہوئے تاہم مودی نے اس وقت بھی 2019 کے عام انتخابات تک اس معاملے کو دبا کر رکھا اور میڈیا سمیت عوام کو اس حادثے کی خبر نہیں ہونے دی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی میڈیا کا حالیہ پروپیگنڈا عالمی و ملکی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے، انتخابی مقاصد حاصل کرنے اور قوم پرستی کے جذبات کو ابھارنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ بیانیہ مودی سرکار کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس میں میڈیا ایک آلہ کار بن چکا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کو بھارت پر اس وقت 6-0 کی واضح برتری حاصل ہے۔ جوابی کارروائی کے دوران پاک فضائیہ نے دشمن کے چار رافیل طیارے،ایک مگ 29، اور ایک ایس یو 30 کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کا جدید ایس-300 ڈیفنس سسٹم’ بھی تباہ کر دیا گیا۔ ان کارروائیوں میں دشمن کے درجنوں فوجی ٹھکانے، کئی چوکیاں اور سینکڑوں بھارتی اہلکاروں کا جانی نقصان بھی شامل ہے۔ پاکستان کی بھرپور اور مؤثر عسکری حکمتِ عملی نے دشمن کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔

پاک فضائیہ نے جوابی کاروائی میں کہاں کہاں بھارتی طیارے گرائے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک طیارہ اننت ناگ کے علاقے میں گر کر تباہ ہوا تھا، جس کے پائلٹ کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ ، تباہ ہونے والے بھارتی طیارے کی ایجکیشن سیٹ پہی گاڈول کوکرناگ کے علاقے سے برآمد ہوئی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی فضائیہ کا دوسرا طیارہ پامپور یا پلوامہ کے علاقے میں گرا گیا تھا جس کے دونوں پائلٹس شدید زخمی حالت میں سری نگر ہسپتال منتقل کئے گئے تھے۔

ایک اور لڑاکا طیارہ پنتھیال / رامسو، ضلع رام بن کے علاقے میں گرایا گیا تھا، اس طیارے کے پائلٹ فلائنگ آفیسر اقبال سنگھ کو زخمی حالت میں آرمی ہسپتال ادھم پور منتقل کیا گیا تھا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک اور طیارہ بھردہ کلاں، تحصیل اکھنور کے زرعی کھیتوں میں گرا تھا، اس حادثے میں ایجکیٹ کرنے والے دونوں پائلٹس زخمی ہوئے جنہیں اکھنور کے فوجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ کا ایک طیارہ بھٹنڈہ کے علاقے میں بھی تباہ ہوا تھا، بھارت کا ایک ہیرون ریموٹ پائلٹڈ وہیکل (Heron RPV) جموں شہر کے مشرق میں 13 ناٹیکل میل کے فاصلے پر مار گرایا گیا تھا۔
فلپائن نے جنوبی کوریا سے ایف اے 50 لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کر لیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: دفاعی تجزیہ کار بھارتی فضائیہ بھارتی طیارے کیا گیا تھا کے مطابق کہ بھارت عوام کو

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا