بھارت میں صفِ ماتم بچھی ہے، خطے میں بالادستی کے دعوے ہوا میں اُڑ گئے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے اور خطے میں بالادستی کے بھارت کے دعوے ہوا ہو چکے ہیں۔
صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بتایا کہ حالیہ دورے کے دوران چینی وزیر خارجہ کے ساتھ باہمی ملاقات ہوئی۔ اس کے علاوہ چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے ادوار بھی ہوئے۔ یہ دورہ 10 مئی کے بعد چین کا شکریہ ادا کرنے کے لیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی تنظیم کے حوالے سے ملاقات پہلے ہی طے تھی۔ 10 یا 11 مئی کی رات کو وزارت خارجہ نے اس دورے پر ٹویٹ بھی کیا جب کہ وزیر اعظم کی جانب سے پہلگام پر آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کو چینی حکام نے سراہا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹ بولا، آج بھارت میں پاکستان کی سفارتی کامیابی پر صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ عالمی برادری ہماری پوزیشن کو اچھی طرح سمجھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دوست ممالک کو آگاہ کیا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کا ہم پر الزام لگایا۔ اب پوری دنیا پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کررہی ہے۔ بھارتی جارحیت پر چین نے پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹ بولا۔ خطے میں بالادستی کے بھارتی دعوے ہوا میں اڑ گئے۔ پاکستان نے مؤثر اندز میں حقائق دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔ پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا سفارتی وفد واشنگٹن گیا ہے۔ بلاول بھٹو کی قیادت میں وفد پاکستانی مؤقف اجاگر کرنے لیے عالمی دورے پر ہے اور دنیا نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی تعریف بھی کی ہے۔ ہم نے سفارتی محاذ پر تمام ممالک کو اہمیت دی ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ روس کو بالکل نظر انداز نہیں کیا گیا۔ ایک وفد روس میں بھی موجود ہے۔دوسری طرف بھارت کا تین چار درجن پر مبنی ایک وفد بھی بھارتی موقف پیش کر رہا ہے، تاہم ہمارے موقف کی ساکھ اور صداقت بہترین ہے۔ بھارت نے ایف 16 اڑانے کا الزام لگایا، ہم نے اس الزام کی تردید کی اور دنیا نے خود اس کی حقیقت کو تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ترکیہ میں دو طرفہ ملاقاتیں بہت اچھی رہیں۔ ہم نے 23 اپریل سے 11 مئی تک دنیا کو پوزیشن واضح کی ہے۔ دنیا جانتی ہے پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں اور بھارتی جارحیت کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔
وزیر اعظم خود ترکیہ پہنچے، اس وفد میں وزرا بھی شامل تھے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اس وفد کا حصہ تھے۔ ترکیہ کا ایک روزہ دورہ تھا، جہاں تمام ملاقاتیں مفید رہیں۔ ہم نے ترکیہ کا شکریہ ادا کیا۔ ترکیہ میں صدر اِردوان، وزیر خارجہ اور ان کی پوری ٹیم تھی۔
انہوں نے بتایا کہ 6 مئی کو مجھے کال آئی کہ بھارت نے حملہ کیا ہے اور بھارتی جیٹ ہوا میں ہیں۔ سب سے پہلی کال ترکیہ کی آئی کہ ہمیں بتائیں ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہیں پتا تھا کہ یہ معاملہ اگر آگے نکلا تو بات بگڑ جاے گی۔ ترکیہ کے صدر نے اچھا کردار ادا کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ترکیہ صدر کے دورہ میں ایک نیا فورم بنایا گیا تھا جو کہ متعدد کمیٹیوں کی نگرانی کرے گا۔ ترکیہ کےبعد ایران پہنچے جہاں ایرانی صدر نے گرمجوشی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اس خطے میں تجارت بڑھانے کی بات کی۔ ای سی او پر بات ہوئی۔ اقتصادی تعاون تنظیم کا اگلا سربراہ اجلاس آذربائیجان میں ہونے جا رہا ہے، ہم اس اجلاس میں شرکت بھی کریں گے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بحرانی صورتحال میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کا دورہ کیا۔ بھارتی میڈیا نے ان کے دورہ کو منفی پیش کیا۔ ہماری ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کشمیر اور فلسطین پر کھل کر بات کی۔ ایران میں ملاقاتوں میں دونوں ممالک کا موقف یکساں تھا اور کوئی اختلاف نہیں تھا۔ انہوں نے دہشت گردی پر کہا کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی 6 جیٹ فائٹر طیارے گرے، جن میں ایک یو اے وی تھا۔ ان 6 میں 3 رافیل طیارے تھے ۔ بھارتی وزیراعظم نے پلواما کے بعد کہا تھا کہ اگر ہمارے پاس رافیل ہوتے تو میں دیکھ لیتا۔ الحمدللہ! اللہ نے ہمیں عزت دی۔ آذربائیجان میں تو عوام ہماری فتح پر سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ 28 مئی کو آذربائیجان کا یوم آزادی تھا۔ آرمینیا کے ساتھ جنگ میں انہوں نے لاچن میں ایک نیا ائیرپورٹ بنایا ہے۔ ہم اور ترکیہ کے صدر اس علاقے میں اس ائیرپورٹ پر اترنے والی پہلی پرواز تھے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں بیانیہ ناکام ہونے پر اب آپس میں چپقلش شروع ہو چکی ہے۔ اگر علاقائی سالمیت اور قومی مفاد کی بات ہو گی تو ہم سب متحد ہیں اور یہ بات ہم نے ثابت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے نے پاکستان بھارت میں کہ بھارت بھارت نے تھا کہ
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب