کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 جون ۔2025 )رواں مالی سال ڈالر کی آمد میں اضافے کے باوجود درآمد کنندگان کو غیر ملکی کرنسی تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، اور ڈالر کی قدر سرکاری شرح سے تجاوز کر گئی ہے رپورٹ کے مطابق بینکاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت صرف 20 سے 30 فیصد درآمد کنندگان کو درآمدی ادائیگیوں کے لیے ڈالر خریدنے کی اجازت مل رہی ہے، حالاں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ درآمدات پر کوئی باضابطہ پابندیاں نہیں ہیں.

(جاری ہے)

مئی کے لیے جاری کردہ سرکاری تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، درآمدات میں ماہ بہ ماہ بنیاد پر 8 فیصد کمی آئی ہے، جب کہ تجارتی خسارہ 23 فیصد کم ہوا ہے انٹربینک مارکیٹ کے کرنسی ڈیلر عاطف احمد نے کہا کہ بینکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ درآمدات کے لیے ڈالر کا بندوبست کریں، جو ایک مشکل حل ہے، کچھ بینکوں کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے عاطف احمد نے وضاحت کی کہ کچھ بینک برآمدی آمدنی کا زیادہ تر حصہ وصول کرتے ہیں اور وہی چند ادارے ہیں جو ڈالر کا بندوبست کر پاتے ہیں تاہم ڈالر کی قلت برقرار ہے جس کی وجہ سے ڈالر کی موثر قیمت سرکاری شرح سے بڑھ گئی ہے.

انہوں نے کہا کہ درآمد کنندگان انٹربینک ریٹ سے 2 سے 3 روپے زائد ادا کر رہے ہیں کچھ لوگ 285 روپے کے عوض ڈالر خرید رہے ہیں جب کہ بدھ کو اسٹیٹ بینک کا سرکاری ریٹ تقریباً 282 روپے تھا ظفر پراچہ نے اوپن مارکیٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی گھبراہٹ کے خدشات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ حج سیزن کے باعث کچھ طلب کا دباﺅہے اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدنا آسان نہیں کیوں کہ خریداروں کو دستاویزات جمع کرانا پڑتی ہیں اور تفتیشی اداروں کو مطمئن کرنا ہوتا ہے ایک خریدار آسانی سے 500 ڈالر تک حاصل کر سکتا ہے لیکن اگر وہ ایک ہزار ڈالر سے زیادہ خریدے تو ایف آئی اے کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے.

ٹریس مارک کے سی ای او فیصل مامسا نے کہا کہ روپے کی قدر پچھلے ہفتے مستحکم رہی کیوں کہ بیرونی ادائیگیوں کا دباﺅکم ہوا اگرچہ مارکیٹ میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی کی افواہیں ہیں لیکن اس کی کوئی بنیادی وجہ نظر نہیں آتی یہاں تک کہ اوپن مارکیٹ کی شرحیں بھی مستحکم ہو چکی ہیں. انہوں نے کہا کہ روپیہ آہستہ آہستہ ڈالر کے مقابلے میں گرتا جا رہا ہے ڈالر خود بین الاقوامی سطح پر کمزور ہوا ہے ڈالر انڈیکس پر تقریباً 9 فیصد کمی آئی ہے جو اسے دنیا کی مختلف کرنسیوں کے خلاف جانچتا ہے کچھ کرنسی ڈیلرز کا خیال ہے کہ روپے کی بتدریج گراوٹ ایک حقیقت پسندانہ حکمت عملی ہے تاکہ بیرونی ادائیگیوں کو سنبھالا جا سکے اگر روپے کی قدر میں تیزی سے کمی کی جائے تو برآمد کنندگان اپنی آمدنی کو بہتر شرح کے انتظار میں روک سکتے ہیں.

ایک سینئر بینکر نے کہا کہ برآمد کنندگان اب بھی اپنی آمدنی معمول کے مطابق فروخت کر رہے ہیں لیکن اگر شرح میں فرق مزید بڑھ گیا تو وہ اپنا لین دین موخرکر سکتے ہیں بینکر نے کہا کہ زیادہ رقوم کی ترسیلات زر، زرمبادلہ کی شرح کو مستحکم کرنے میں مدد دے رہی ہیں جو معیشت کے لیے استحکام کا باعث بن رہی ہے پاکستان کو مالی سال 2025 میں 38 ارب ڈالر کی ترسیلات متوقع ہیں جب کہ مالی سال 2026 کا ہدف 39 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے درآمد کنندگان نے کہا کہ ڈالر کی روپے کی کی قدر کے لیے

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ