Express News:
2026-06-03@08:31:12 GMT

ابراہیمؑ واسمٰعیلؑ مجسمِ تسلیم و رضا اے ابراہیم!

اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT

 تاریخِ اسلام کے اوراق قربانیوں کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ ان میں کچھ واقعات تو ایسے ہیں کہ جن کی مثال نہیں ملتی، بالخصوص حضرت ابراہیمؑ کا اپنے لختِ جگر حضرت اسمٰعیلؑ کی قربانی پیش کرنا، اور دوسرا حضرت امام حسینؓ کا اپنے بہتّر عزیز و اقارب کے ساتھ بارگاہِ خداوندی میں اسلام کو زندہ رکھنے کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنا۔ اور ذرا نظامِ قدرت دیکھیے کہ سن ہجری کا آغاز بھی خاندانِ نبوت ﷺ کی قربانیوں سے ہُوا اور اختتام بھی رضائے الہیٰ کے حصول کے لیے قربانی کے عظیم الشان جذبۂ ایمانی پر ہی ہوتا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیلؑ کی قربانی ربِ قدوس کی بارگاہِ مقدس میں پیش کی تھی، جو اﷲ تبارک و تعالیٰ نے قبول فرمائی، اسی خوشی میں ہم عید مناتے ہیں۔ رحمتِ عالم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپؐ نے دیکھا کہ یہود و نصاریٰ سال میں دو دن خوشی اور مسرت کے مناتے ہیں اور وہ انہیں عید کہتے ہیں وہ اس دن ہر ناجائز کام مثلا شراب، جُوا اور زنا وغیرہ کو جائز سمجھتے تھے۔

رسولِ عربیؐ نے بھی امتِ مسلمہ کے لیے دو دن خوشیاں منانے کے لیے عطا فرمائے جنہیں ہم عیدالفطر اور عیدالاضحٰی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اسلام دینِ فطرت ہے، اسلام میں خوشی اور غم ہر موقع پر گناہوں سے پر ہیز کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمان نماز ِعید ہو یا نمازِ جنازہ، پڑھ کر اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ غم ہو یا خوشی، ہم ہر حال اور ہر موقع پر اپنے پروردگارِ عالم کو یاد کرتے ہیں۔

آج سے کئی ہزار سال قبل اﷲ رب العزت کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک خواب دیکھا کہ جس میں حکم تھا: ’’اے میرے خلیل! میرے لیے قربانی پیش کرو۔‘‘ نبی کا خواب وحی الٰہی ہوتا ہے، سو آپؑ نے نے سو اونٹ ربِ قدوس کی راہ میں قربان کردیے۔ دوسری رات پھر وہی خواب دیکھا، صبح اُٹھ کر آپؑ نے پھر سو اونٹ راہِ خدا میں قربان کر دیے۔ تیسری رات پھر خواب ملاحظہ فرمایا کہ ’’اے میرے خلیل! میری راہ میں وہ چیز قربان کرو جو تمہیں سب سے زیادہ پیاری ہے۔‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام بیدار ہوئے تو سمجھ گئے کہ اﷲ تعالیٰ کی ذاتِ کریم مجھ سے میرے بیٹے حضرت اسمٰعیلؑ کی قربانی مانگ رہی ہے۔ آپؑ نے اپنی زوجہ حضرت حاجرہؓ سے فرمایا کہ میرے بیٹے اسمٰعیلؑ کو تیار کردو، میں نے اسے ایک دعوت میں لے کرجانا ہے۔ حضرت حاجرہ ؓنے اسمٰعیلؑ کو نہلا دھلا کر خوب صورت لباس پہنا کر تیار کردیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک تیز دھار دار چُھری اور رسی لی اور حضرت اسمٰعیلؑ کو لے کر دُور ایک جنگل کی طرف چل پڑے۔

دوسری طرف شیطان نے اس بات کا عزم کیا کہ میں ابراہیمؑ کو قربانی کے اس عظیم مقصد میں کام یاب نہیں ہونے دوں گا، چناں چہ سب سے پہلے شیطان حضرت حاجرہ ؓ کے پاس پہنچا اور انہیں پوری حقیقت سے آگاہ کیا۔ حضرت حاجرہؓ نے یہ سن کر فرمایا: ’’اگر اﷲ کا یہی حکم ہے تو ایک اسمٰعیل کیا، ہزاروں اسمٰعیل بھی ہوں تو اﷲ کی راہ میں قربان ہونے کے لیے حاضر ہیں، اے مُردود! تو شیطان ہے۔‘‘ حضرت حاجرہ نے لاحول پڑھی تو شیطان وہاں سے بھاگ گیا۔ پھر وہ حضرت اسمٰعیلؑ کے پاس پہنچا اور انھیں بھی پوری حقیقت سے آگاہ کیا۔

حضرت اسمٰعیلؑ نے فرمایا: ’’اگر اﷲ کی یہی منشاء ہے تو میں حاضر ہوں۔ اے مُردود تُو شیطان ہے۔‘‘ پھر حضرت اسمٰعیلؑ نے بھی لاحول پڑھی اور اُسے کنکریاں ماریں۔ پھر شیطان حضرت ابراہیم کے پاس پہنچا اور انھیں بھی ورغلانے کی خوب کوشش کی، اس موقع پر آپؑ نے بھی لاحول پڑھی اور شیطان مُردود کو کنکریاں ماریں۔ یاد رہے کہ آج بھی حجاج کرام ان تینوں جگہوں پر کنکریاں مار کر اُن کی یاد تازہ کرتے ہوئے سنتِ ابراہیمیؑ ادا کرتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے لختِ جگر حضرت اسمٰعیلؑ کو لے کر ایک پہاڑ کے قریب پہنچے اور ان سے فرمایا: ’’اے میرے پیارے بیٹے! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، بتا تیری کیا رضا ہے۔؟‘‘

سعادت مند اور فرماں بردار بیٹے نے جواب دیا: ’’اباجان! آپؑ کو جو حکم ملا ہے، اسے بلا خوف و خطر بجا لائیے، مجھے آپؑ ان شاء اﷲ صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘

جب باپ اور بیٹا دونوں ربِ کریم کی رضا پر راضی ہوگئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمٰعیلؑ کو زمین پر ماتھے کے بل لِٹا دیا۔ چھری چلانے سے پہلے بیٹے نے کہا: ’’اباجان! میری تین باتیں قبول فرمالیں، پہلی یہ کہ میرے ہاتھ پاؤں رسی سے باندھ دیں تاکہ میرے تڑپنے پر خون کا کوئی چھینٹا آپؑ کے لباس پہ نہ گرے۔ دوسری یہ کہ آپؑ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ چُھری چلاتے ہوئے میری محبت میں، آپؑ کے ہاتھ مبارک رک جائیں۔ تیسری یہ کہ میرا خون آلود کُرتا میری والدہ محترمہ کو دے دیجیے گا، وہ اس کُرتے کو دیکھ کر اپنے دل کو قدرے تسلی دے لیا کریں گی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے ہاتھ پاؤں کو رسی سے باندھ دیا اور اپنی آنکھوں پر بھی پٹی باندھ لی۔

تسلیم و رضا کا یہ حسین منظر آج تک چشمِ فلک نے نہیں دیکھا کہ ایک باپ نے اﷲ رب العزت کی خوش نُودی کے لیے اپنے لختِ جگر کے گلے پر چُھری رکھ دی۔ آپؑ نے تیزی سے چُھری چلادی۔ بعد از ذبح آپؑ نے اپنی آنکھوں سے پٹی اتاری تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی جگہ ایک ’’مینڈھا‘‘ ذبح ہوا پڑا ہے اور اس کے پاس حضرت اسماعیل علیہ السلام کھڑے تبسّم فرما رہے ہیں۔ اسی وقت غیب سے ندا آئی: ’’اے ابراہیم! تُونے اپنا خواب سچ کر دکھایا، ہم نیکوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔‘‘

ربِ غفور نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کو اس قدر پسند فرمایا کہ قیامت تک امتِ مسلمہ کے لیے قربانی کو ضروری قرار دیتے ہوئے یادگار بنا دیا۔ ہر سال پوری دنیا میں بسنے والے بے شمار مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تقلید میں جانوروں کی قربانی کا نذرانہ، بارگاہِ خداوندِ قدوس میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

احکاماتِ خداوندی کو بجا لانے میں اخلاص کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ فرمانِ مقدس کا مفہوم ہے: ’’ بے شک! اﷲ تعالیٰ تمہاری طرف اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا، بل کہ وہ تو تمہاری نیّت کو دیکھتا ہے۔‘‘

اﷲ تعالیٰ نے اپنی عظیم کتاب قرآن پاک میں ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’ اﷲ تعالیٰ کو قربانی کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا بل کہ اُسے تو صرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘

عیدِ قرباں کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر بھی وہ ’’روحِ ایمان‘‘ پیدا ہو جس کا عملی مظاہرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے ہزاروں سال قبل کیا تھا۔ لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ یہ عظیم الشان دن بھی فقط ایک تہوار بن کر رہ گیا ہے۔ کچھ اہلِ ثروت لوگ اس مقدس تہوار کے ذریعے بھی نمود و نمائش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ جس سے معاشرے کے غریب اور نادار طبقات میں اس روز احساسِ کمتری پوری شدت سے جنم لیتا ہے۔

آج امتِ مسلمہ جن مسائل اور حالات سے دوچار ہے اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اپنے دینی شعار کی اصل روح کو بھلا دیا ہے۔ دنیا کی چاہت اور دیکھا دیکھی اپنے سٹیٹس کو برقرار رکھنے کی خاطر اسلام سے کوسوں دور ہو چکے ہیں اور دنیا تو ایسی ظالم ہے کہ جس کے بارے میں اﷲ کے پیارے حبیب صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان مقدس کہ ’’دنیا ایک مُردار ہے، اور اس کا چاہنے والا کتّا ہے۔‘‘

اﷲ کریم کی بارگاہِ مقدس میں دعا ہے کہ اﷲ کریم اپنے پیارے محبوب صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے صدقے ہمیں شیطان کے شر سے بچا کر، اسلام میں پورا داخل ہو نے کی توفیق و ہمت عطا فرماتے ہوئے۔ ہمارے ایمان کی سلامتی فرمائے اور ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت نکال کر، اپنی اور رحمتِ عالم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت پیدا فرمائے۔ آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی  کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔ 

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم  دیدیا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی  کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔ 

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے  5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

مزید :

متعلقہ مضامین

  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم