پاکستان عالمی سطح پر ضابطوں اور اختراعات کے فریم ورک کی تشکیل کا بغور جائزہ لے رہا ہے، بلال بن ثاقب WhatsAppFacebookTwitter 0 6 June, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیر مملکت و وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کرپٹو و بلاک چین اور پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کے سی ای او بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ہم ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے متعلق سیکھنے، سننے اور اپنا حصہ ڈالنے کے لیے آئے ہیں پاکستان اس بات کا بغور جائزہ لے رہا ہے کہ عالمی رہنما کس طرح ضابطوں اور اختراعات کے فریم ورک کی تشکیل میں مصروف ہیں۔رپورٹ کے مطابق وزیر مملکت برائے کرپٹو و بلاک چین اور پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کے سی ای او بلال بن ثاقب نے امریکی سینیٹر بل ہیگری، سینیٹر رک اسکاٹ، سینیٹر ٹم شیہی اور سینیٹر جم جسٹس سے بھی ملاقاتیں کیں۔سینیٹر جم جسٹس کے شریک اسپانسر بھی ہیں اور حکومتی و بنیادی ڈھانچے میں بلاک چین کے استعمال کے حامی ہیں۔

اس کے علاوہ وزیرِ مملکت کی سینیٹر ٹیڈ کروز، کانگریس مین ٹرائے ڈاو?نگ، کانگریس مین ریان زنکی، کانگریس مین رک میک کورمک، اور کانگریس مین ڈیرک وین آرڈن سے بھی اہم ملاقاتیں ہوئیں۔یہ تمام افراد ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے پالیسیاں تشکیل دینے کے عمل میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں، خانگی شعبے کی نمائندہ، EdentifID کی بانی جِل کیلی بھی کانگریس مین میک کورمک کے ساتھ ملاقات میں شریک تھیں، جنہوں نے بلاک چین شناختی ٹیکنالوجی کے حوالے سے قیمتی تجاویز پیش کیں۔وزیرِ مملکت نے وائٹ ہاسس کے ایسوسی ایٹ کونسل کیون کلائن اور آگونا ایزے سے بھی ملاقات کی۔وزیرِ مملکت بلال بن ثاقب نے کہا کہ ہم یہاں سیکھنے، سننے اور شراکت کے لیے آئے ہیں، پاکستان دنیا کے رہنماں کے ریگولیشن، جدت اور مالی شمولیت سے متعلق تجربات کا بغور مطالعہ کر رہا ہے تاکہ بہترین ماڈلز کو اپنے تناظر میں ڈھالا جا سکے،

نہ کہ صرف ان کی نقل کی جائے۔دورے کے دوران پاکستان کی حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کا قیام، ورچوئل اثاثہ جات کا ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنا، اور ترسیلات زر کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اسٹیبل کوائنز کے استعمال جیسے اقدامات شامل ہیں۔ وزیرِ مملکت نے مزید کہا کہ ہم ان افراد کے ساتھ میز پر بیٹھے جو دنیا کی مالیاتی سمت کا تعین کر رہے ہیں یہ نہ صرف ایک اعزاز بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان صرف پیچھے رہ کر نہیں دیکھ رہا ہم قیادت کے لیے موجود ہیں۔پاکستان جہاں نوجوان آبادی کی اکثریت، تیزی سے بڑھتی ہوئی فری لانس معیشت اور سالانہ 36 ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلات موجود ہیں، وہاں وہ شفافیت، رسائی اور طویل مدتی اثرات پر مبنی ذمے دارانہ جدت کے لیے ایک عملی نمونہ بن سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین-کینیڈا تعلقات غیر ضروری مداخلت کا شکار ہوئے، چینی وزیر اعظم حکومت کا 2029 تک ملکی ترقی کی شرح 6 فیصد تک پہنچانے کا اعلان آئندہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نافذ کرنے کا ارادہ نہیں: خیبر پختونخوا حکومت وزیرِ اعظم، فیلڈ مارشل کی وفد کے ہمراہ عمرے کی ادائیگی، خانہ کعبہ میں نوافل ادا کیے رواں سال کتنے عازمین نے حج کی سعادت حاصل کی؟ اعداد و شمار جاری امریکہ نے نیتن یاہو کے خلاف فیصلہ دینے والے آئی سی سی ججز پر پابندی عائد کر دی کراچی میں آج بھی زلزلے کے 2 جھٹکے، مجموعی تعداد 32 ہوگئی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بلال بن ثاقب کانگریس مین بلاک چین کا بغور رہا ہے کے لیے سے بھی

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان