صیہونی فوج کو 10,000 سے زائد اہلکاروں کی کمی کا سامنا، ترجمان کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ہمیں 10 ہزار سے زیادہ فوجیوں، بشمول 6,000 لڑاکا اہلکاروں کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غاصب ریاست اسرائیل کی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ اسے 10,000 سے زائد فوجیوں کی شدید کمی کا سامنا ہے، جن میں تقریباً 6,000 لڑاکا اہلکار شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ہمیں 10 ہزار سے زیادہ فوجیوں، بشمول 6,000 لڑاکا اہلکاروں کی ضرورت ہے، یہ ایک حقیقی آپریشنل ضرورت ہے اور اسی لیے ہم تمام ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں۔ صہیونی فوج کے ترجمان نے یہ بیان قدامت پسند یہودیوں کی فوج میں شمولیت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں دیا ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل میں یہ معاملہ طویل عرصے سے متنازع بنا ہوا ہے، کیونکہ قدامت پسند یہودیوں کو فوج میں شمولیت سے استثنیٰ حاصل ہے۔ اسرائیلی حکومت اور عدالتیں اب قدامت پسند یہودیوں کو فوج میں بھرتیوں کے دائرے میں لانے پر غور کر رہی ہیں، تاکہ موجودہ جنگی حالات کے پیشِ نظر فوجی قوت کو برقرار رکھا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
باب المندب سب کیلیے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے؛ ترجمان حوثی
یمن کے حوثی (انصار اللہ) گروپ نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ باب المندب جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار حوثیوں کے چیف مذاکرات کار اور ترجمان محمد عبدالسلام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کیا۔
انھوں نے آبنائے کی مکمل بندش کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ بحری ناکہ بندی صرف سعودی عرب کے خلاف ہیں۔ بقیہ تمام جہازوں کے لیے بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو مکمل طورکھلی ہوئی ہے۔
حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے بتایا کہ سعودی عرب کی ناکہ بندی یمن کے محاصرے اور ایسے منصفانہ حل کو قبول نہ کرنے کے ردعمل میں کی گئی ہے جو یمنی عوام کی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کی ضمانت دے۔
ترجمان محمد عبدالسلام نے زور دیا کہ حوثیوں کی کارروائیوں کا مقصد عالمی بحری تجارت کو روکنا نہیں بلکہ سعودی عرب پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ یمن کے بحران کے حل کے لیے پیش رفت ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ انصار اللہ، جنہیں عام طور پر حوثی تحریک کہا جاتا ہے۔ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اکتوبر 2023 کے بعد سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں لیکن اب سعودی ناکہ بندی بھی کردی گئی۔