پاکستان کی عدالتی اور سیاسی تاریخ ایک دوسرے کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے اور عام طور پر عدلیہ خاص طور پر سپریم کورٹ سے صادر ہونے والے فیصلے ملک کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے گزشتہ سال 26 اکتوبر کو اپنے عہدے کا حلف لیا اور اب تک وہ 7 ماہ سے زیادہ عرصے سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔ اُنہوں نے اپنے 7 ماہ کے عرصے میں بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ خود کو سیاسی معاملات سے الگ کر کے انتظامی معاملات پر زیادہ توّجہ مرکوز کی ہے اور انتظامی سطح پر کچھ ایسے اقدامات کیے ہیں جیسا کہ کیس مینجمنٹ سسٹم میں تبدیلی، جیل اصلاحات، فوجداری مقدمات کی جلد شنوائی وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں سپریم کورٹ میں عوامی سہولت مرکز کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ترجیحات کا اگر جائزہ لیا جائے تو اُس میں سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد میں خاطر خواہ کمی، عدالتی نظام کی جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ منسلکی، پیپر لیس عدالتی نظام، عدالتی اصلاحات کے حوالے سے وسیع پیمانے پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت، لا اینڈ جسٹس کمیشن میں غیر سرکاری اراکین کے طور پر ریٹائرڈ ججز کے ساتھ ساتھ وکلا کی نمائندگی، عدلیہ میں احتساب کا نظام اور جیل اصلاحات شامل ہیں۔

کچھ حلقوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ بدلاؤ ایک اچھا فیصلہ ہے جب کہ کچھ حلقے اس امر پر شاکی نظر آتے ہیں کہ سیاسی حوالوں سے اہم مقدمات جو کہیں نہ کہیں عدالتی فیصلوں کے ذریعے ملک میں بے چینی کی فضا کو ختم کرنے کے لیے لازمی ہیں، اُن پر توجہ دیے جانے کی ضرورت ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آئینی نوعیت کے سیاسی اثرات کے حامل مقدمات اب سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے پاس زیرِ سماعت آتے ہیں اور اُن کے فیصلوں میں براہِ راست چیف جسٹس کا عمل دخل نہیں ہوتا۔

26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سے جسٹس یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا اور پھر چیف جسٹس نے 26 ویں آئینی ترمیم میں دیے گئے آئینی بینچ کی تشکیل کی جس نے 14 نومبر 2024 سے باقاعدہ سماعتوں کا آغاز کیا۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی عدالتی اصلاحات کتنی کارگر؟

21 مئی کو جاری کیے گئے سپریم کورٹ اعلامیے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے 7 ماہ میں 52 فیصد سزائے موت کے مقدمات نمٹا دیے اور چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی قیادت میں سپریم کورٹ نے اس تیزی سے کام کیا ہے جس کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی۔

چیف جسٹس کے 28 اکتوبر 2024 سے لے کر 21 مئی 2025 تک لگ بھگ 7 ماہ کے اندر عدالت عظمیٰ نے سزائے موت کے 238 مقدمات کے فیصلے کیے ہیں جو 454 زیر التوا مقدمات کا 52 فیصد بنتے ہیں۔

جب چیف جسٹس نے حلف لیا تو سزائے موت کی 410 اپیلیں زیر التوا تھیں، بعد میں 44 اور دائر ہوئیں لیکن جلد فیصلوں کی بدولت اس وقت زیر التوا اپیلوں کی تعداد 216 ہے۔

’چیف جسٹس کے پہلے 100 دن‘

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے پہلے 100 دنوں کے اندر عدالتی نظام کو سہل بنانے کے لیے جو سب سے اہم کام کیا وہ الیکٹرانک بیان حلفی یا ای ’ایفی ڈیوٹ‘ کا اجرا اور فوری مصدقہ نقل کا حصول تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے احتساب کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کے لیے علیحدہ سیکریٹریٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے اپنے پہلے 100 دن میں زیر التوا مقدمات میں تین ہزار کی بڑی کمی کی۔ سپریم کورٹ نے 8 ہزار ایک سو چوہتر (8174) مقدمات کا فیصلہ کیا جبکہ چار ہزار نو سو تریسٹھ (4963) نئے مقدمات کا اندراج ہوا۔

’سپریم کورٹ کے اب تک اہم فیصلے‘

اپنے اثرات کے اعتبار سے سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اس وقت تک جو سب سے اہم فیصلہ کیا ہے وہ سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق ہے جس کو آئینی بینچ نے درست قرار دیا ہے۔ 7 مئی 2025 کو یہ فیصلہ جاری کیا گیا۔

اسی طرح سے نورمقدم کے قاتل ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے اہم تھا۔ 20 مئی کو سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں اس مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے ظاہر جعفر کی قتل کے مقدمے میں سزائے موت برقرار جبکہ اغوا کے مقدمے میں سزائے موت کو عمر قید سے تبدیل کردیا۔

’سپریم کورٹ رولز 2025 کا ڈرافٹ تیار‘

13 مارچ کو سپریم کورٹ نے 1980 سے چلے آ رہے سپریم کورٹ رولز میں ترمیم کا مسودہ تیار کیا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ رولز 1980 پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ کے 4 ججز پر مشتمل کمیٹی قائم کی تھی جس نے سپریم کورٹ رولز 2025 کا ڈرافٹ تیار کرلیا ہے۔

کمیٹی جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل ہے، سپریم کورٹ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ رولز پر مکمل نظرثانی کا مقصد عدالتی کارروائی کو مزید فعال، مؤثر اور شفاف بنانا تھا۔

ابتدائی طور پر اس کمیٹی نے سپریم کورٹ ججز، سپریم کورٹ رجسٹرار، بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز سے اس سلسلے میں تجاویز طلب کیں۔ اس کے بعد اس کمیٹی کے کئی اجلاس ہوئے جس میں سپریم کورٹ رولز کو جدید زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر مشاورت کی گئی۔

’چیف جسٹس کی غیر ملکی وفود سے ملاقاتیں‘

11 فروری کو آئی ایم ایف وفد نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی جو کہ ملکی تاریخ کے تناظر میں ایک نیا واقعہ تھا کیونکہ اس سے قبل کسی چیف جسٹس نے کبھی آئی ایم ایف وفد سے ملاقات نہیں کی۔ ملاقات کے بعد چیف جسٹس نے صحافیوں سے ملاقات کے دوران بتایا کہ آئی ایم وفد نے کچھ قوانین کے حوالے سے اُن سے بات چیت کی۔ بعد ازاں آئی ایم ایف وفد نے ایک بار پھر چیف جسٹس سے ملاقات بھی کی، اور اُس کے بعد 14 فروری کو اس وفد نے پاکستان بار کونسل سے بھی ملاقات کی۔

17 فروری کو چیف جسٹس نے اٹلی کی سفیر سے ملاقات کی، اس کے بعد 14 اپریل کو ایران اور ترکیے کے سفیروں نے بھی چیف جسٹس سے ملاقات کی۔ 28 اپریل کو چیف جسٹس سے ایک امریکی وفد نے بھی ملاقات کی۔

چیف جسٹس یحیٰی آفریدی 26 اپریل کو ترکیے اور چین کے دورے بھی مکمل کرکے واپس آئے۔

31 جنوری کو چیف جسٹس نے یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی انسانی حقوق سے ملاقات کی، جس میں جوڈیشل بیک لاگ کے ساتھ ساتھ عدلیہ کی سالمیت اور آزادی کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

’جیل اصلاحات اور فوجداری قوانین میں اصلاحات‘

چیف جسٹس نے گزشتہ ماہ 16 مئی کو بنوں کی ضلعی عدلیہ اور بنوں جیل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے قیدیوں سے ملاقاتیں کیں، ان کے مسائل دریافت کیے اور اس سے قبل وہ پشاور ہائیکورٹ بنوں بینچ بھی گئے۔

اس سے قبل گزشتہ برس دسمبر میں چیف جسٹس نے رحیم یار خان جیل کا دورہ بھی کیا، چیف جسٹس اب تک جیل اصلاحات کے حوالے سے کمیٹیاں قائم کر چکے ہیں اور گزشتہ برس نومبر میں چیف جسٹس نے پنجاب میں جیل اصلاحات کے حوالے سے ایک مشاورتی اجلاس کی صدارت کی جس میں جیل اصلاحات کے حوالے سے ایک کمیٹی قائم کی گئی جس میں 9 مئی مقدمات میں ضمانت پر رہا خدیجہ شاہ کو بھی بطور رکن شامل کیا گیا۔

جیل اصلاحات اور فوجداری قوانین میں اصلاحات کے حوالے سے چیف جسٹس نے چاروں صوبوں میں کمیٹیاں قائم کر رکھی ہیں جن کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد اقدامات کا جائزہ لیا جائےگا۔

’چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے دور کے تنازعات‘

موجودہ چیف جسٹس کے 7 ماہ سے زیادہ عرصے میں سامنے آنے والے تنازعات کا تعلق زیادہ تر 26ویں آئینی ترمیم سے ہے، وہ چاہے بینچز دائرہ اختیار کا معاملہ ہو یا مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر کیے جانے کا معاملہ، اس پر تنازعات سامنے آئے۔

ایسا ہی ایک معاملہ 21 جنوری کو سامنے آیا جب جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سماعت کرنے والے ایک بینچ کے سامنے کسٹم ایکٹ کا ایک معاملہ زیرسماعت آیا تو اُس پر سرکاری وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ یہ مقدمہ آئینی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جانا چاہیے تھا۔ اُس کے بعد مقدمے کو جسٹس منصور علی شاہ کے بینچ سے ہٹا دیا گیا تو سوال اُٹھا کہ بینچ کی منظوری کے بغیر یہ اقدام کیسے کیا گیا جس پر ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذرعباس کو معطل کر کے اُن کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی بھی کی گئی لیکن بعد ازاں 28 جنوری کو اُن کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی واپس لیتے ہوئے اُنہیں بحال کردیا گیا۔

اسی طرح سے 10 فروری کو وکلا نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا اور یہ مطالبہ کیاکہ 26 ویں آئینی ترمیم مقدمے کے فیصلے تک جوڈیشل کمیشن ججز کی تقرری کے عمل کو روک دے۔ لیکن وکلا احتجاج کے باوجود جوڈیشل کمیشن نے چاروں صوبائی ہائیکورٹس میں ججز کو تعینات کیا۔

24 فروری کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں پاکستان بار کونسل کے نمائندہ اختر حسین نے عدلیہ میں ہونے والی تقرریوں پر احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔

26 اپریل کو بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے چیف جسٹس کے نام ایک خط میں اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں پرایکشن لینے کی استدعا کی۔ خط پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا نے چیف جسٹس کے چیمبر میں پہنچایا۔ اس موقع پر عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور دیگر قیادت بھی ان کے ہمراہ تھی۔

’سپریم کورٹ اب مرکز نگاہ نہیں‘

سپریم کورٹ آف پاکستان کبھی تمام پاکستانی میڈیا کا مرکز نگاہ ہوتی تھی اور ملکی میڈیا کی زیادہ تر ہیڈلائنز وہیں سے آتی تھیں۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ عملی طور پر 2 حصوں میں بٹ چکی ہے۔ عام نوعیت کے مقدمات سپریم کورٹ جبکہ آئینی نوعیت کے مقدمات اب آئینی بینچ سماعت کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں سپریم کورٹ نے 7 ماہ میں سزائے موت کے 52 فیصد مقدمات نمٹا دیے

اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو اس وقت موجودہ چیف جسٹس، جسٹس یحییٰ آفریدی اُس طرح سے مرکز نگاہ نہیں جس طرح ان کے پیشرو چیف جسٹسز ہوا کرتے تھے۔ اُن کے پیشرو چیف جسٹس صاحبان کے زمانے تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر وقت سپریم کورٹ کی جانب دیکھتی تھیں کہ نجانے کب کون سا فیصلہ آ جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

26 ویں آئینی ترمیم wenews جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس سپریم کورٹ سیاسی تاریخ عدالتی اصلاحات عدالتی تاریخ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 26 ویں ا ئینی ترمیم جسٹس یحیی ا فریدی چیف جسٹس سپریم کورٹ سیاسی تاریخ عدالتی اصلاحات عدالتی تاریخ وی نیوز اصلاحات کے حوالے سے ویں ا ئینی ترمیم سپریم کورٹ رولز میں سپریم کورٹ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحیی سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ ا سے ملاقات کی جیل اصلاحات چیف جسٹس نے چیف جسٹس کے سزائے موت زیر التوا کا فیصلہ اپریل کو فریدی کی فروری کو نوعیت کے س کے بعد ا ئی ایم کیا گیا نے والے کے ساتھ کی گئی وفد نے کے لیے سے اہم

پڑھیں:

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے  باہمی  ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟

حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

عالمی ردعمل

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

قانونی ماہرین کی رائے

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس