راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن )راولپنڈی میں زیادتی کے دو افسوسناک واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں ایک ملزم نے قربانی کا گوشت دینے کے بہانے گھر میں داخل ہو کر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا جبکہ دوسرے میں میٹرک کی طالبہ کیساتھ بھی مبینہ زیادتی ہوئی، ملزمان ویڈیو بنا کر بلیک میل بھی کرتے رہے۔ 

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں قربانی کا گوشت دینے کے بہانے گھر داخل ہونے والے شخص کی خاتون سے زیادتی کے معاملے پر متاثرہ خاتون کی مدعیت میں تھانہ مورگاہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔متن مقدمہ کے مطابق ملزم چوہدری طارق سے دو کروڑ مالیت کا گھر خریدا، مجموعی طور پر 1 کروڑ 70 لاکھ روپے ادا کرنے پر ملزم نے گھر کا قبضہ دیا۔متن مقدمہ کے مطابق ملزم کو بقایا 30 لاکھ بھی ادا کر دیے، لیکن رجسٹری کروانے میں ٹال مٹول کرتا رہا، ملزم نے پوری رقم وصول کرنے پر گھر پر قبضہ کی کوشش کی، جس پر عدالت سے سٹے لے لیا۔

بجٹ میں کن چیزوں پر چھوٹ اور کن پر ٹیکس عائد؟ تفصیلات سامنے آگئیں

متاثرہ خاتون کی مدعیت میں درج مقدمے میں کہا گیا کہ گزشتہ سہہ پہر ساڑھے تین بجے میں ملزم چوہدری طارق گوشت دینے کے بہانے گھر داخل ہوا، ملزم نے مجھے اکیلے دیکھ کر زبردستی زیادتی کی، 15 پر کال کرنے پر پولیس موقع پر آئی۔

دوسری جانب راولپنڈی میں میٹرک کی طالبہ کیساتھ بھی مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے، ملزمان طالبہ کی ویڈیو بنا کر بلیک میل بھی کرتے رہے۔ متاثرہ طالبہ کے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا گیا، ایک ملزم گرفتار ہے۔مقدمے کے مطابق متاثرہ طالبہ کی سہیلی نے بھائی سے ملاقاتیں کرواتی تھی، ملزم نقاش نے شادی کا جھانسہ دیکر متعدد بار زیادتی کی، ویڈیو بھی بنالی۔ ملزم نقاش کا کزن باسط بھی تعلقات قائم کے لئے کال کرتا تھا۔متن مقدمہ کے مطابق ڈیمانڈ پوری نہ ہونے پر ملزمان نے بیٹی کی ویڈیو وائرل کی۔ تھانہ صدر بیرونی میں 6 جون کو مقدمہ درج ہوا۔

بینک ڈیپازٹس اور بچت سکیموں پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: راولپنڈی میں طالبہ کی کے مطابق نے گھر

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت کرنیوالے لڑکے کا صاف اور قابلِ شناخت چہرا سامنے آ گیا
  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا