Express News:
2026-07-24@06:41:40 GMT

بجٹ کی کہانی اور عوامی مفادات

اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT

عمومی طور پر ہمارے جیسے ملک کے بجٹ میں کئی طرح کے مغالطے پائے جاتے ہیں اور ہمیں کئی طرح کے سوالات کا چیلنج درپیش رہتا ہے۔حکومت کسی کی بھی ہو، اس کے لیے بجٹ عوام دوست اور ملکی ترقی کا ضامن ہوتاہے ۔اسی طرح حزب اختلاف کوئی بھی ہو، اس کی نظر میں بجٹ عوام دشمن اور ملکی ترقی یا عوامی مفادات کے برعکس ہوتا ہے۔

حکومت اور حزب اختلاف کے مقابلے میں معاشرے کے دیگر طبقات بھی ہوتے ہیں، ان کی نظر میں بھی بجٹ خوش کن نہیں ہوتا ۔عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ بجٹ کی کہانی طاقت ور طبقات کے مفادات کے گرد ہی گھومتی ہے اور محروم طبقہ کے مفادات کی قربانی دے کر نظام کو چلایا جاتا ہے۔

ایک دور میں بجٹ سالانہ بنیادوں پر جاری ہوتا تھا ، طاقت ور طبقات پر بڑا بوجھ ڈال کر کمزور طبقات کو ہی ریلیف دیا جاتا تھا ،مگر اب کہانی مختلف ہے اور طاقت ور طبقات کے مفادات کو باقاعدہ تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ جب طاقت ور اور کاروباری طبقات خود حکومت کا حصہ ہوں توو ہ کیسے خود کو قانون کے دائرہ کار میں لائیں گے۔  اس لیے ریاست اور حکومت کا طاقت ور طبقات کے ساتھ باہمی گٹھ جوڑ ایک منصفانہ اور شفاف بجٹ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اسی طرح ایک بنیادی سوال معاشی فیصلوں اور معیشت کی خود مختاری کا ہے جو ہمیں اپنے نظام میں بہت کمزور نظر آتی ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ بجٹ کی تیاری میں عوامی مفادات کے مقابلے میں آئی ایم ایف سے کیے گئے بڑے وعدے اور ترجیحات کا تعین دیکھنے کو ملتا ہے۔ بجٹ میں حکومت اور حزب اختلاف یا پارلیمنٹ کا کردار محدود اور آئی ایم ایف کے نمائندے جو خود حکومت کا حصہ ہوتے ہیں ان کی بالادستی کا پہلو زیادہ مضبوط نظر آتا ہے ۔

ایک دلچسپ لطیفہ جو آج کل سوشل میڈیا پر موجود ہے کہ اس حکومت کی اہم اتحادی پیپلز پارٹی نے حکومت اور وزیر اعظم سے گلہ کیا کہ ہمیں بجٹ مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا اور سارے فیصلے خود ہی کرلیے گئے ہیں۔اس پر وزیر اعظم نے کہا کہ پریشان نہ ہوں ہم تو خود بجٹ مشاورت کا حصہ نہیں تھے اور ہماری حیثیت بھی بس بجٹ کو پیش کرنے کی تھی اور ہم بھی آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

عوامی مسائل کو سمجھنا ہے تو یہ چار مسائل سمجھنے ہوںگے۔اول، عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 44.

07  فیصدافراد خط غربت سے نیچے کی زندگی گزاررہے ہیں اور یہ ملک کے 12کروڑ افراد ہیں۔ دوئم،اسی برس ملک سے نو لاکھ نوجوانوںنے ہجرت کی ، ان میں سب سے زیادہ تعداد پنجاب سے اور پڑھے لکھے افراد کی ہے۔جو لوگ برسر روزگار ہیں اور اعلی عہدوں پر ہیں وہ بھی ملک چھوڑ چکے ہیں یا چھوڑنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ادارہ شماریات کے بقول ملک میں لوگوں کی قوت خرید میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔

سوئم، اقتصادی سروے کے مطابق اس برس ہم نے تعلیم پر جی ڈی پی کا 0.08 فیصد اور صحت پر ہم نے 0.09فیصد خرچ کیا ہے جو تاریخ کی سب سے کم شرح ہے۔ حکومت کا دعوی ہے کہ مہنگائی کم ہوئی ہے مگر ادارہ شماریات کے بقول اس برس پاکستان میںآٹا، گھی ،چینی ، ادویات،کوکنگ آئل،مرغی،گائے اور بکرے کے گوشت،دودھ، دہی، دالوں، انڈے، پیازسمیت دیگر روزمرہ کی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ریگولیٹ کرنے والے حکومتی ادارے بھی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میںعملاً ناکام ہوئے ہیں۔

چہارم، ایک طرف تنخواہوں میں دس فیصد اور پنشن میں سات فیصد اضافہ اور دوسری طرف اسپیکر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے چیئرمین کی تنخواہوں میں 600فیصد اضافہ اور ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں دوسو سے تین سو فیصد اضافہ، بیوروکریٹ اور طاقت ور طبقہ کی مراعات میں بے تحاشہ شاہانہ اخراجات میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم مجموعی طور پر معیشت کی شفافیت کے نظام میں کہاں کھڑے ہیں۔اسی طرح یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حکومت نے اقتصادی سروے کے نتائج پر جو اعداد وشمار پیش کیے ہیں ان کی صحت اور شفافیت پر بھی مختلف سطح پر ماہرین سوالات اٹھارہے ہیں۔

دنیا میں جس تیزی سے ای کامرس بڑھ رہی ہے اور لوگ خاص طورپر نئی نسل اس سے روزگار تلاش کررہی ہے اس پر 18فیصد ٹیکس لگادیا گیا ہے جو اس کاروبار کو متاثر کرے گا۔ہم عمومی طور پر بجٹ کی کہانی میں آئی ایم ایف پر تو بہت تنقید کرتے ہیںمگر حکومت اور ریاستی نظام پر تنقید نہیں کرتے جن کی ترجیحات ریاستی نظام اور عوام کے مفادات کے برعکس ہوتی ہیں۔ آئی ایم ایف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ویسے تو کڑی نگرانی،جوابدہی اور احتساب یا شفافیت کی بات توکرتا ہے مگر ہمارے جیسے ملکوں میں اپنے دیے گئے پیسے کی شفافیت اور عدم یا غیر منصفانہ ترجیحات پر حکمرانوں کو جوابدہ نہیں بناتا۔ ایک طرف قوم کا مسئلہ مہنگی بجلی اور بجلی کے بلوں میں اضافہ تھا۔لوگوں کو متبادل بجلی یعنی سولر کی طرف دھکیلا گیا اور اب اس بجٹ میں سولر پر 18فیصد سیلز ٹیکس لگادیا گیا ہے اور اس کا مقصد سولر کی حوصلہ شکنی اور آئی پی پی ایز کے مفادات کو زیادہ تحفظ دینا ہے۔

ایک طرف ہم زور دیتے ہیں کہ ہمیں میثاق معیشت درکار ہے مگر جب تک سیاست کی سمت اور سیاسی استحکام کو ممکن نہیں بنایا جائے گا سیاست اور معیشت میں بنیادی سطح پر تبدیلی کا عمل نئی رکاوٹوں کو جنم دے گا۔لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک کا حکمران طبقہ یا طاقت ور طبقات اپنے مفادات کی عملا قربانی دینے کے لیے تیار ہیںتواس کا جواب نفی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔پاکستان میں سیاست سمیت معیشت کی درستگی کے لیے ہمیں ایک بڑی مزاحمتی تحریک درکار ہے مگر ملک کے کمزور سیاسی نظام اور کمزور حکومت میںیا کمزور سطح کی سیاسی جماعتوں اور قیادت کی موجودگی یا سمجھوتوں کی سیاست میں مزاحمتی تحریک کے امکانات بھی محدود ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: طاقت ور طبقات آئی ایم ایف کے مفادات حکومت اور مفادات کے حکومت کا ہے اور ہے مگر بجٹ کی

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش