بجٹ کی کہانی اور عوامی مفادات
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
عمومی طور پر ہمارے جیسے ملک کے بجٹ میں کئی طرح کے مغالطے پائے جاتے ہیں اور ہمیں کئی طرح کے سوالات کا چیلنج درپیش رہتا ہے۔حکومت کسی کی بھی ہو، اس کے لیے بجٹ عوام دوست اور ملکی ترقی کا ضامن ہوتاہے ۔اسی طرح حزب اختلاف کوئی بھی ہو، اس کی نظر میں بجٹ عوام دشمن اور ملکی ترقی یا عوامی مفادات کے برعکس ہوتا ہے۔
حکومت اور حزب اختلاف کے مقابلے میں معاشرے کے دیگر طبقات بھی ہوتے ہیں، ان کی نظر میں بھی بجٹ خوش کن نہیں ہوتا ۔عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ بجٹ کی کہانی طاقت ور طبقات کے مفادات کے گرد ہی گھومتی ہے اور محروم طبقہ کے مفادات کی قربانی دے کر نظام کو چلایا جاتا ہے۔
ایک دور میں بجٹ سالانہ بنیادوں پر جاری ہوتا تھا ، طاقت ور طبقات پر بڑا بوجھ ڈال کر کمزور طبقات کو ہی ریلیف دیا جاتا تھا ،مگر اب کہانی مختلف ہے اور طاقت ور طبقات کے مفادات کو باقاعدہ تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ جب طاقت ور اور کاروباری طبقات خود حکومت کا حصہ ہوں توو ہ کیسے خود کو قانون کے دائرہ کار میں لائیں گے۔ اس لیے ریاست اور حکومت کا طاقت ور طبقات کے ساتھ باہمی گٹھ جوڑ ایک منصفانہ اور شفاف بجٹ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اسی طرح ایک بنیادی سوال معاشی فیصلوں اور معیشت کی خود مختاری کا ہے جو ہمیں اپنے نظام میں بہت کمزور نظر آتی ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ بجٹ کی تیاری میں عوامی مفادات کے مقابلے میں آئی ایم ایف سے کیے گئے بڑے وعدے اور ترجیحات کا تعین دیکھنے کو ملتا ہے۔ بجٹ میں حکومت اور حزب اختلاف یا پارلیمنٹ کا کردار محدود اور آئی ایم ایف کے نمائندے جو خود حکومت کا حصہ ہوتے ہیں ان کی بالادستی کا پہلو زیادہ مضبوط نظر آتا ہے ۔
ایک دلچسپ لطیفہ جو آج کل سوشل میڈیا پر موجود ہے کہ اس حکومت کی اہم اتحادی پیپلز پارٹی نے حکومت اور وزیر اعظم سے گلہ کیا کہ ہمیں بجٹ مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا اور سارے فیصلے خود ہی کرلیے گئے ہیں۔اس پر وزیر اعظم نے کہا کہ پریشان نہ ہوں ہم تو خود بجٹ مشاورت کا حصہ نہیں تھے اور ہماری حیثیت بھی بس بجٹ کو پیش کرنے کی تھی اور ہم بھی آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
عوامی مسائل کو سمجھنا ہے تو یہ چار مسائل سمجھنے ہوںگے۔اول، عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 44.
سوئم، اقتصادی سروے کے مطابق اس برس ہم نے تعلیم پر جی ڈی پی کا 0.08 فیصد اور صحت پر ہم نے 0.09فیصد خرچ کیا ہے جو تاریخ کی سب سے کم شرح ہے۔ حکومت کا دعوی ہے کہ مہنگائی کم ہوئی ہے مگر ادارہ شماریات کے بقول اس برس پاکستان میںآٹا، گھی ،چینی ، ادویات،کوکنگ آئل،مرغی،گائے اور بکرے کے گوشت،دودھ، دہی، دالوں، انڈے، پیازسمیت دیگر روزمرہ کی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ریگولیٹ کرنے والے حکومتی ادارے بھی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میںعملاً ناکام ہوئے ہیں۔
چہارم، ایک طرف تنخواہوں میں دس فیصد اور پنشن میں سات فیصد اضافہ اور دوسری طرف اسپیکر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے چیئرمین کی تنخواہوں میں 600فیصد اضافہ اور ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں دوسو سے تین سو فیصد اضافہ، بیوروکریٹ اور طاقت ور طبقہ کی مراعات میں بے تحاشہ شاہانہ اخراجات میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم مجموعی طور پر معیشت کی شفافیت کے نظام میں کہاں کھڑے ہیں۔اسی طرح یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حکومت نے اقتصادی سروے کے نتائج پر جو اعداد وشمار پیش کیے ہیں ان کی صحت اور شفافیت پر بھی مختلف سطح پر ماہرین سوالات اٹھارہے ہیں۔
دنیا میں جس تیزی سے ای کامرس بڑھ رہی ہے اور لوگ خاص طورپر نئی نسل اس سے روزگار تلاش کررہی ہے اس پر 18فیصد ٹیکس لگادیا گیا ہے جو اس کاروبار کو متاثر کرے گا۔ہم عمومی طور پر بجٹ کی کہانی میں آئی ایم ایف پر تو بہت تنقید کرتے ہیںمگر حکومت اور ریاستی نظام پر تنقید نہیں کرتے جن کی ترجیحات ریاستی نظام اور عوام کے مفادات کے برعکس ہوتی ہیں۔ آئی ایم ایف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ویسے تو کڑی نگرانی،جوابدہی اور احتساب یا شفافیت کی بات توکرتا ہے مگر ہمارے جیسے ملکوں میں اپنے دیے گئے پیسے کی شفافیت اور عدم یا غیر منصفانہ ترجیحات پر حکمرانوں کو جوابدہ نہیں بناتا۔ ایک طرف قوم کا مسئلہ مہنگی بجلی اور بجلی کے بلوں میں اضافہ تھا۔لوگوں کو متبادل بجلی یعنی سولر کی طرف دھکیلا گیا اور اب اس بجٹ میں سولر پر 18فیصد سیلز ٹیکس لگادیا گیا ہے اور اس کا مقصد سولر کی حوصلہ شکنی اور آئی پی پی ایز کے مفادات کو زیادہ تحفظ دینا ہے۔
ایک طرف ہم زور دیتے ہیں کہ ہمیں میثاق معیشت درکار ہے مگر جب تک سیاست کی سمت اور سیاسی استحکام کو ممکن نہیں بنایا جائے گا سیاست اور معیشت میں بنیادی سطح پر تبدیلی کا عمل نئی رکاوٹوں کو جنم دے گا۔لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک کا حکمران طبقہ یا طاقت ور طبقات اپنے مفادات کی عملا قربانی دینے کے لیے تیار ہیںتواس کا جواب نفی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔پاکستان میں سیاست سمیت معیشت کی درستگی کے لیے ہمیں ایک بڑی مزاحمتی تحریک درکار ہے مگر ملک کے کمزور سیاسی نظام اور کمزور حکومت میںیا کمزور سطح کی سیاسی جماعتوں اور قیادت کی موجودگی یا سمجھوتوں کی سیاست میں مزاحمتی تحریک کے امکانات بھی محدود ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: طاقت ور طبقات آئی ایم ایف کے مفادات حکومت اور مفادات کے حکومت کا ہے اور ہے مگر بجٹ کی
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔