یاسر حسین کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کیا ہے؟ اداکار کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
پاکستان شوبز کے اداکار و ہدایتکار یاسر حسین کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ان کی اہلیہ اقرا عزیز ہیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں یاسر حسین نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ایک صارف نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس آدمی کی سب سے بڑی کامیابی اسکی بیوی ہے‘۔
یاسر نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ میری سب سے بڑی کامیابی میری بیوی ہے اور میں اس بات کو سچ مانتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ اقرا ہی میری سب سے بڑی طاقت ہے کیونکہ جب میں کوئی بھی کام کرتا ہوں تو وہ اس ہی لیے ممکن ہوپاتا ہے کہ اقرا گھر اور بچے کو سنبھالتی ہیں۔
https://www.instagram.com/p/DKzsi_ci6g3/
یاسر حسین نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ہر مرد کی بڑی کامیابی اس کی بیوی ہی ہونی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر مرد اپنی بیگمات کی قربانیوں کی قدر نہیں کرتے ان کی قدر نہیں کرتے مگر دراصل ان کی ہی وجہ سے سب کام ہوتے ہیں وہی آدمی کا اصل سہارا ہیں۔
سوشل میڈیا پر یاسر حسین کا اپنی اہلیہ اداکارہ اقرا عزیز سے متعلق یہ بیان تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سب سے بڑی کامیابی یاسر حسین
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :