دشمن نے میلی آنکھ سے دیکھا توپاک فوج کے شانہ بشانہ میدان میں اتریں گے،کامران ایوب
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
دشمن نے میلی آنکھ سے دیکھا توپاک فوج کے شانہ بشانہ میدان میں اتریں گے،کامران ایوب WhatsAppFacebookTwitter 0 14 June, 2025 سب نیوز
سدھونتی : معروف سیاسی و سماجی شخصیت کامران ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہمارا فخر اور ہماری پہچان ہیں۔ کشمیر کا ہر گھر شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین ہے، اور جب بھی دشمن نے میلی آنکھ سے ہماری دھرتی کی طرف دیکھا، ہم پاک فوج کے شانہ بشانہ میدان میں اتریں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دھرتی ہماری ماں ہے اور ہم اس کی حرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ کامران ایوب نے آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن نے بھارت کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے اور دشمن کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔
یہ جذباتی اور پُرعزم خطاب انہوں نے ایک مقامی کرکٹ ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کامران ایوب نے کہا کہ مودی کے ایجنٹوں اور پاکستان دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ ہم ہر محاذ پر پاکستان کا دفاع کریں گے، چاہے وہ سرحد ہو یا نظریاتی جنگ کا میدان۔
انہوں نے علاقے کی ترقی و بہبود کے لیے کئی اہم اعلانات بھی کیے، جن میں سدھونتی میں نئی سڑک کی تعمیر، جدید کرکٹ گراؤنڈ، جنازہ گاہ اور قبرستان کے قیام کا وعدہ شامل ہے۔ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ان کی اصل طاقت ہیں اور انہیں چاہیے کہ علاقے کی بہتری کے لیے ان کا ساتھ دیں۔
کامران ایوب نے کہا کہ نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور کھیل کے میدان وہ مراکز ہیں جہاں قوموں کا مستقبل تیار ہوتا ہے۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ مستقبل میں ایسے ٹورنامنٹس کا سلسلہ مزید وسعت دی جائے گی۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے ان کے نعرے “پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد” سے فضا کو گرما دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کو ہراساں کرنے سے روک دیا مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل نہ ہوا تو خطہ ایٹمی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے: سلیم بٹ باغ: ”پاکستان زندہ باد ریلی“ بھارت کے خلاف شاندار فتح پر پاک افواج کو مبارکباد عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے، سلیم بٹ کا مطالبہ ہمارے شاہینوں نے بھارت کو اس کی دہلیز کے اندر گھس کر مارا ہے،وزیراعظم آزاد کشمیر کوٹلی میں پیپلز پارٹی کی پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تاریخی ریلی پاک فوج نے بھارت کومنہ توڑ جواب دے کرمودی کے خواب چکناچورکردیے،سردارکامران ایوبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کامران ایوب نے انہوں نے پاک فوج نے کہا کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :