کراچی میں گرمی کے ستائے شہریوں کیلیے اچھی خبر
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شہرِ قائد کے شہری جہاں جھلسا دینے والی گرمی سے نڈھال ہیں، وہیں موسم کی شدت سے ریلیف کی امید پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ محکمہ موسمیات نے اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران بارش کی خوشخبری سنا دی ہے۔
محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پیر کے روز کراچی میں کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے معتدل بارش متوقع ہے، جو موسم کی شدت کو کم کر سکتی ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہونے والے مغربی ہواؤں کے سلسلے نے سندھ کے مشرقی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نم ہواؤں کا داخلہ جاری ہے۔
اسی سسٹم کے زیر اثر آج تھرپارکر اور عمرکوٹ میں بھی چند مقامات پر گرج دار بارش کے امکانات موجود ہیں، جبکہ گھوٹکی، سکھر، جیکب آباد اور قمبر شہداد کوٹ میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کے ساتھ کہیں کہیں ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ شدید گرمی میں غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، اور ممکنہ بارش کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ رپورٹ میں عندیہ دیا گیا ہے کہ متوقع بارش کے بعد درجہ حرارت میں واضح کمی اور موسم میں خوشگوار تبدیلی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔