ایران اسرائیل کشیدگی میں پاکستان قیام امن کیلیے دنیا میں قائدانہ کردار ادا کررہا ہے، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان کا کردار سفارتی، اصولی اور علاقائی امن پر مبنی مؤقف کی بنیاد پر سامنے آیا ہے اور پاکستان امن کے قیام کے لیے اس وقت دنیا میں لیڈنگ رول ادا کررہا ہے۔
دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور ایران کے عوام کے ساتھ ہمدردی ظاہر کی۔
میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان نے اسرائیل کی طرف سے ایران پر کیے گئے حملوں کو بلااشتعال، بلاجواز اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔
دفتر خاجہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ترک صدر طیب اردوان سے رابطہ کیا اور طویل بات چیت کی اور اس بات کا فیصلہ کیا کہ دونوں ممالک جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
اس کے علاوہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایران کی حمایت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے ایران کے مؤقف کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں کلیدی سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کی مذمت کی بلکہ فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی مظالم اور نسل کشی پر بھی کھل کر بات کی، جس سے اس کے اصولی مؤقف کا اعادہ ہوتا ہے۔
سلامتی کونسل میں اسرائیل کے مندوب کے جواب میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار نے جاندار موقف اختیار کیا اور ایران کی سفارتی حمایت کرتے ہوءے اسرائیل کو جارح ملک قرار دیا۔
عاصم افتخار کے خطاب کو دنیا بھر میں پزیرائی حاصل ہوئی ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے پاکستان نے عالمی طاقتوں، بالخصوص اسلامی دنیا سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر خطے کو مزید کشیدگی سے بچائیں پاکستان نے کسی بھی عسکری اتحاد یا فریق بننے سے اجتناب برتا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ امن، سفارت کاری اور قانون کی حکمرانی کا داعی ہے۔
ملکی سطح پر انسدادِ دہشتگردی، سرحدی سیکیورٹی، اور داخلی استحکام پر توجہ برقرار رکھی گئی ہے تاکہ کسی ممکنہ بیرونی اثرات کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ ایران اسرائیل کشیدگی میں پاکستان کا کردار غیرجانبدارانہ مگر اصولی مؤقف پر مبنی ہے، جو ایک طرف اسلامی یکجہتی کی نمائندگی کرتا ہے اور دوسری جانب علاقائی توازن اور سفارتی وقار کا خیال بھی رکھتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں پر کھل کر تنقید اور ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی نے پاکستان کو مسلم دنیا میں ایک مؤثر آواز کے طور پر پیش کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان نے دفتر خارجہ ایران کے کے لیے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
حاصل مطالعہ
عبدالرحیم
ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭