اسرائیل بدمست ہاتھی بن کر عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے، حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ صہیونی افواج کے غزہ میں انسانی تاریخ کے بدترین مظالم جاری ہیں اور اس کیساتھ ہی اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے پورے خطے میں آگ اور خون کے کھیل کا آغاز کر دیا ہے، اسرائیل بذات خود کچھ بھی نہیں اگر اسے امریکہ کی آشیر باد حاصل نہ ہو، واشنگٹن اسرائیلی دہشتگرد کی مکمل پشت پناہی کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے اسرائیل کے ایران پر حملہ کو کھلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے ایران اور ایرانی قوم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جماعت اسلامی اور پوری پاکستانی قوم ان کیساتھ ہے۔ منصورہ لاہور سے جاری ویڈیو پیغام میں امیر جماعت نے کہا کہ اسرائیل بدمست ہاتھی بن کر عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ صہیونی افواج کے غزہ میں انسانی تاریخ کے بدترین مظالم جاری ہیں اور اس کیساتھ ہی اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے پورے خطے میں آگ اور خون کے کھیل کا آغاز کر دیا ہے، اسرائیل بذات خود کچھ بھی نہیں اگر اسے امریکہ کی آشیر باد حاصل نہ ہو، واشنگٹن اسرائیلی دہشتگرد کی مکمل پشت پناہی کر رہا ہے۔ پاکستان کی حکومت پر زور دیا کہ وہ خطے کو آگ سے بچانے کیلئے کردار ادا کرے حکومت کو امریکہ کے دباؤ میں آنے اور اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر اسرائیل کو نہ روکا گیا تو بدامنی کی لہر پورے مشرقِ وسطی اور جنوبی ایشیا میں پھیل جائیگی۔
انہوں نے اسلامی اور امن دوست ممالک کے حکمرانوں سے اپیل کی وہ متحد ہو جائیں، امریکہ پر دباؤ بڑھائیں، اسے تنہا کریں اور اس کیخلاف احتجاج کیا جائے کہ اسرائیلی دہشتگردی کو لگام دے۔ قبل ازیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ بدترین دہشتگردی ہے، اسرائیل کی دہشتگردی کا دائرہ بڑھ رہا ہے، امریکی سرپرستی میں اسرائیل کا آگ اور خون کا کھیل جاری ہے، اسلامی ممالک جان لیں اسرائیل کے قدم نہ روکے گئے تو پھر کسی کا نمبر بھی آسکتا ہے، امریکہ کی منافقانہ تاریخ گواہ ہے کہ یہ کسی کو نہیں بچائے گا، امریکہ نسل کشی کرنیوالے اسرائیل کیساتھ کھڑا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران پر حملہ اور اس رہا ہے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔