مشیر اوورسیز پاکستانی غلام مصطفیٰ ملک کا خال، لوئر دیر کا دورہ، نوجوانوں اور عمائدین سے اہم ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
مشیر اوورسیز پاکستانی غلام مصطفیٰ ملک کا خال، لوئر دیر کا دورہ، نوجوانوں اور عمائدین سے اہم ملاقاتیں WhatsAppFacebookTwitter 0 15 June, 2025 سب نیوز
خال: پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور وزارت اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسوس ڈویلپمنٹ کے مشیر/ فوکل پرسن غلام مصطفیٰ ملک کی نجی دورے پر خال لوئردیر آمد،تفصیلات کے مطابق دیر پہنچنے پر مصطفیٰ ملک کےقریبی اور نوجوان ساتھی سہلان فاروق نے شاندار استقبال کیا، مصطفیٰ ملک نے سہلان فاروق کی رہائش گاہ پر ظہرانہ میں شرکت کی اور عمائدین سے ملاقات کی ،مصطفیٰ ملک لوئر دیر کے ممتاز قبائلی مشر ملک عبد الحمید خان سے خصوصی ملاقات کے لیے بھی تشریف لے گئے جہاں انہوں انکے عوامی ہجرہ میں نوجوانوں کے ایک۔وفد سے ملاقات کی۔
مصطفیٰ ملک نے نوجوانوں کو ملک کا قیمتی اثاثہ قرار دیا ، اس موقع پر یوتھ پارلیمنٹ کے سابق نگران وزیراعلٰی اور ممتاز یوتھ لیڈر ،سماجی شخصیت ملک فرقان الدین کو باقاعدہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر آمادہ کیا اور انہیں اپنی جماعت میں شمولیت کی باقاعدہ دعوت دی، جس پر ملک فرقان الدین نے کہا کہ وہ اپنے اپنے مشران سے مشاورت کے بعد باقاعدہ شمولیت کے بارے میں فیصلہ کریں گے ، انہوں نے مصطفیٰ ملک کی خصوصی آمد اور پارٹی میں شمولیت کی دعوت پر شکریہ ادا کیا، وازرت امور سمندر پار پاکستانیز کے مشیر مصطفیٰ ملک نے سابق صوبائی وزیر ملک جہانزیب کے فرزند، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے کوآرڈینیٹر اور فوکل پرسن فیڈرل گورنمنٹ سابقہ امیدوار پی کے 14 ملک نعمان یوسفزئی سے بھی ملاقات کی اور انکے خاندان کی دیر کے عوام کے لیے خدمات کو سراہا۔
مصطفیٰ ملک نے کہا کہ ملک نعمان یوسفزئی متحرک سیاسی شخصیت ہیں اور یوتھ کے لیے انکی خدمات قابل قدر ییں، وزارت اوورسیز پاکستانیز کے مشیر اور فوکل پرسن مصطفیٰ ملک نے امریکہ میں مقیم ممتاز پاکستانی مسلم راہنماء ،سر فاؤنڈیشن کے صدر سر رحیم شاہ خان اخونخیل کی رہائش گاہ پر عشائیہ میں بھی شرکت کی،اس موقع پر عمائدین دیر و باجوڑ کی بڑی تعداد بھی موجود تھی، سر رحیم شاہ اخونخیل نے مصطفیٰ ملک کی دیر آمد پر شکریہ ادا اور انہیں دورہ امریکہ کی دعوت دی، سر فاونڈیشن دیر میں تعلیم ، صحت اور روزگار کی فراہمی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دے رہی ہے،جبکہ یتیم بچوں ، بیواوں اور بزرگ شہریوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جس کے تمام اخراجات سر رحیم شاہ خود ادا کرتے ہیں ۔
مصطفیٰ ملک نے سر رحیم شاہ کی سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے رول ماڈل قرار دیا، انہوں نے دیر میں انٹرنیٹ کی بہتر سیولیات کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت ،سیلولر کمپنیوں اور متعلقہ حکام سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی،انہوں نے کہا کہ جب پاکستان میں آئی ٹی کا انقلاب دستک دے رہا ہےچاس دور میں دیرمیں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی بہت بڑا المیہ اور عوامی نمائندوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ،وفاقی حکومت کی توجہ دلاوں گا، انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی سہولتیں دیر کے عوام کاحق ہے جس کے لیے نوجوانوں کو آواز اٹھانا ہوگی، مصطفیٰ ملک نے بہترین ممہان نوازی پر مشران، اہلیاں دیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اہلیان دیر کی محبتیں یمیشہ میرا اثاثہ رہیں گی ۔
بھارت: زائرین کو لیجانے والا ہیلی کاپٹرگرکر تباہ، پائلٹ سمیت 7 افراد ہلاک
https://dailysubnews.
بھارت میں زائرین کو لے جانے والاہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہیلی کاپٹر گرنےکا واقعہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں پیش آیا، جس میں ایک بچے سمیت 6 زائرین سوار تھے۔
اس حوالے سے ڈیزاسٹر ریسپانس اہلکار نندن سنگھ راجوار نے بتایاکہ ہیلی کاپٹر ریاست اتراکھنڈ میں کیدارناتھ مندر سے زائرین کو لے کر اڑا تھا جو گر کر تباہ ہوگیا، جس کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو عمل شروع کردیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام کی جانب سے ہیلی کاپٹر کے گرنے کی وجہ موسم کی خرابی بتائی جارہی ہے، کیدارناتھ مندر ہمالیہ کے پہاڑوں پر 11 ہزار 759 فٹ کی بلندی پر قائم ہے جہاں زائرین رخ کرتے ہیں۔
واضح رہے رواں ہفتے بھارت کے شہر احمدآباد کے رہائشی علاقے میں بھی بھارتی ائیرلائن کا ایک مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں 279 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ گزشتہ ماہ بھی مندر کے راستے کے دوران ہیلی کاپٹر گرنے سے 6 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت: زائرین کو لیجانے والا ہیلی کاپٹرگرکر تباہ، پائلٹ سمیت 7 افراد ہلاک آئی ایف سی کا ریکوڈک منصوبے کے لیے 400 ملین ڈالر کی مالی معاونت کا اعلان اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کو ہراساں کرنے سے روک دیا گریڈ 20 اور 21 کے افسران سے گاڑیاں واپس لینے کا حکم اسرائیلی جارحیت ناقابل قبول، ایران کو دفاع کا پورا حق حاصل ہے: پاکستان وزیراعظم کے معاون خصوصی مبارک زیب کے گھر پر راکٹ حملہ سندھ کا 34 کھرب 51 ارب روپے کا بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ شاہ رحیم الحسینی نے اپنے سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران گلگت بلتستان اور چترال میں مریدوں سے اہم ملاقات کی ہیں تاہم ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہوا جب گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
شہزادہ شاہ رحیم الحسینی امامت سنبھالنے کے بعد پہلی بار 20 مئی کی شام اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پر پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری اور خاتونِ اوّل نے نور خان ایئر بیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا اور ایوانِ صدر میں ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا جبکہ اگلی صبح وزیراعظم نے انہیں ناشتے پر مدعو کیا۔ پرنس شاہ رحیم 22 مئی کو گلگت بلتستان پہنچے اور مریدوں سے ملاقات اور دیدار کا سلسلہ شروع ہوا۔
پرنس شاہ رحیم کا دورہ اور گلگت بلتستان الیکشناسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا کا امامت سنبھالنے کے بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ ان کے دورے کا باضابطہ اعلان ہوتے ہی گلگت بلتستان اور چترال میں ان کے مریدوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جشن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
پرنس رحیم نے ایک ایسے وقت میں گلگت بلتستان میں اپنے مریدوں سے ملاقات کی جب وہاں عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع تھی۔ اسماعیلی برادری کے دورے کا سیاست اور الیکشن سے کوئی تعلق ہے نہ ہی انہوں نے سیاست پر کوئی بات کی۔ انہوں نے اپنے مریدوں سے خطاب میں تعلیم، معاشیات، ہنر، موسمیاتی تبدیلی اور جدید دور کے تقاضوں پر بات کی، تاہم اس کے باوجود کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ان کے دورے کا الیکشن پر کچھ حد تک بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔
مریدوں کا جھکاؤ کس طرف ہو گا؟آغا خان کے دورے اور گلگت بلتستان الیکشن پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر آغا خان پنجم کے دورے کا الیکشن پر کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق آغا خان کا خاندان غیر سیاسی ہے اور کبھی انہوں نے کسی ملک کی سیاست یا انتخابات پر بات کی ہے نہ ہی اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ دورے کے دوران بھی انہوں نے کہیں بھی سیاست پر بات نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں:پرنس رحیم آغا خان کا پہلا سرکاری دورۂ پاکستان مکمل، خیرسگالی اور یکجہتی کا پیغام
نوجوان صحافی کامران علی جنہوں نے آغا خان پنجم کے دورے کی کوریج کی، کا کہنا ہے کہ پرنس رحیم نے اپنے مریدوں سے خطاب میں سیاست پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ آغا خان نے سیاست پر بات نہیں کی، لیکن جن رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا اور عزت دی، ان کا گراف مریدوں کی نظر میں بلند ہو گیا۔ ’گلگت بلتستان میں اسماعیلی برادری کی خاصی آبادی ہے اور ان کے ووٹ کسی کی بھی جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں‘۔
کامران علی کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اپنی بیٹی اور خاتونِ اول کے ساتھ خود نور خان ایئر بیس گئے اور آغا خان کا استقبال کیا۔ جب وہ ایوانِ صدر پہنچے تو بلاول بھٹو زرداری نے بھی ان کا خیر مقدم کیا۔
کامران علی نے بتایا کہ جب آغا خان شاہ رحیم الحسینی کے والد شاہ کریم الحسینی کا انتقال ہوا تھا تو اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری تعزیت کے لیے پرتگال گئے تھے۔ ’اگرچہ آغا خان کا سرکاری سطح پر استقبال کیا جاتا ہے، لیکن آصف علی زرداری کی اہمیت مریدوں کی نظر میں بڑھ گئی ہے‘۔
کامران نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا، لیکن مرید سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور امام کی عزت و وقار کے لیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن میں کس کا پلہ بھاری ہے؟
ان کاکہنا ہے کہ ’میرے خیال میں اگر آغا خان کے دورے کا سیاسی سطح پر کوئی فائدہ ہوا تو وہ پیپلز پارٹی کو ہو گا، کیونکہ انہوں نے اس دورے کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ وفاق میں صدر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے گورنرز نے ان کا بھرپور استقبال کیا‘۔
آغا خان کے دورے کا فائدہ کس حد تک ہو گا؟اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اس دورے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ذاکر خان کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور وہ اپنے امام کے دیدار کے لیے کراچی سے گئے تھے، نے بتایا کہ اس دورے کے دوران کہیں بھی انہوں نے سیاست پر بات نہیں کی۔
ذاکر کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے جس طرح آغا خان کا استقبال کیا اور عزت دی، اس سے ان کی نظروں میں ان کی اہمیت بڑھ گئی۔
ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے ابھی تک اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا۔ ذاکر کا خیال ہے کہ اس دورے سے وہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہوں نے دورے کے دوران پیش پیش رہ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہو۔ ’اسماعیلی برادری کے لوگ تعلیم یافتہ ہیں، وہ میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اور ووٹ بھی میرٹ پر ہی دیتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی طرف جھکاؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن دیگر جماعتوں سے بھی اسماعیلی امیدوار میدان میں ہیں۔ ’اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے امیدوار جماعت کے دفاتر یا دیگر نجی ملاقاتوں میں اس دورے کا ذکر کرتے ہیں اور اپنی جماعت کی طرف سے امام کو دیے گئے عزت و احترام کو ووٹرز کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں‘۔
یہ بھی پڑھیں:تعلیم، برداشت اور اخلاقی رویوں سے انسانیت کی خدمت کی جائے، پرنس رحیم آغا خان کا گلگت میں خطاب
انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری الیکشن مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جبکہ نواز شریف بھی وہاں پہنچے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے آغا خان کو بہت عزت دی، لیکن الیکشن مہم میں اس کا ابھی تک براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ جس جماعت نے امام کو عزت دی ہے، اس کا گراف اسماعیلی برادری میں بلند ہو گیا ہے تاہم یہ مقامی امیدواروں پر ہے کہ وہ اسے کیسے کیش کرتے ہیں‘۔
ذاکر نے بتایا کہ اس دورے کو سیاست کے ساتھ منسلک کرنے سے سیاسی امیدواروں اور جماعتوں کو نقصان کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسماعیلی برادری کے لوگ مذہب کو سیاست سے الگ رکھتے ہیں اور موقع پرستوں کو پسند نہیں کرتے۔
سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تمام امیدواروں کے لیے نیک خواہشاتاسماعیلی کونسل گلگت کی امورِ عامہ و سیکیورٹی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ کونسل ایک غیرسیاسی اور غیرجانبدار ادارہ ہے اور گلگت بلتستان اسمبلی کی جاری انتخابی مہم میں کسی سیاسی جماعت، امیدوار یا انتخابی گروپ کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتی۔
مقامی نیوز ویب سائٹ پامیر ٹائمز کے مطابق انتخابات سے قبل جاری بیان میں کمیٹی نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور آزاد امیدوار پورے خطے میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اسماعیلی کونسل ایک امامت کا ادارہ ہے جو سیاسی معاملات میں سخت غیرجانبداری برقرار رکھتی ہے اور کسی امیدوار یا جماعت کی توثیق نہیں کرتی۔
اسماعیلی کونسل نے یہ بیان اس وقت جاری کیا جب اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شاہ رحیم الحسینی گلگت بلتستان کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہو گئے۔
بیان میں کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں، ان کے نمائندوں اور آزاد امیدواروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتخابی عمل جمہوری اقدار، باہمی احترام، قانون کی حکمرانی اور پرامن ماحول کے مطابق ہوگا۔
مزید پڑھیں:وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پرنس رحیم آغا خان کی ملاقات، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کو وسعت دینے پر زور
بیان میں مزید زور دیا گیا کہ ہر اسماعیلی ووٹر اپنے ضمیر، سیاسی سمجھ بوجھ اور ذاتی رائے کے مطابق آئینی حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے آزاد ہے۔ اس پر زور دیا گیا کہ کونسل کسی فرد یا گروہ کو کسی خاص سیاسی جماعت یا امیدوار کی حمایت یا مخالفت کی ہدایت نہیں دیتی۔
اسماعیلی کونسل نے کمیونٹی کے افراد پر زور دیا کہ وہ انتخابی مدت کے دوران احترام، اتحاد، رواداری اور ذمہ دارانہ رویہ برقرار رکھیں، سیاسی وابستگیوں کو ذاتی معاملہ سمجھیں اور کمیونٹی کے اتحاد کو ترجیح دیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف علی زرداری آصفہ بھٹو آغا الیکشن بلتستان پرنس پرنس رحیم آغا پیپلز پارٹی دورہ پاکستان رحیم عام انتخابات گلگت