Express News:
2026-07-24@16:18:29 GMT

پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیاں ایندھن کی بچت سے زیادہ مہنگی

اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT

کراچی:

پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیاں صارفین کو ایندھن کی بچت سے زیادہ مہنگی پڑنے لگیں۔

گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی صارفین نے80لاکھ روپے سے زائد قیمت والی 35,000 سے زائد SUV گاڑیاں خریدیں، جن میں سے 50 فیصد نے ایندھن کی بچت کے لیے ہائبرڈ گاڑیوں کو ترجیح دی، تاہم پاکستانی صارفین جو ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیاں (HEV) SUV خرید رہے ہیں، وہ عام پٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہیں۔

اس بات کا انکشاف ایم جی (MG) پاکستان کے جنرل منیجر مارکیٹنگ ڈویژن سید آصف احمد نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک پاکستان میں ایم جی کی 16,000 سے زائد گاڑیاں فروخت ہو چکی ہیں، جن میں سے تقریباً 2,000 گاڑیاں پلگ اِن ہائبرڈ ای وہیکل (PHEV) تھیں۔ آصف احمد نے کہا کہ پاکستانی صارفین اب PHEV گاڑیوں کے اصل معاشی فوائد کو سمجھنے لگے ہیں، جو شہری علاقوں میں روزمرہ سفر کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ HEV کے مقابلے میں PHEV جدید اور مؤثر ٹیکنالوجی کی حامل ہے، تاہم پاکستان میں صارفین کے پاس صرف MG HS PHEV کی صورت میں صرف ایک ہی انتخاب ہے ۔

انہوں نے کہاکہ آج مارکیٹ میں موجود دیگر کار ساز ادارے وہی عالمی معیارات اپنا رہے ہیں، جو ایم جی نے MG HS کے CBU اور CKD ماڈلز میں متعارف کروائے۔ پاکستان میں ایم جی کی گاڑیاں 2021 سے اب تک تقریباً 35 کروڑ میل کا فاصلہ طے کر چکی ہیں اور MG HS کو مقامی ایندھن، سڑکوں اور موسمی حالات میں مکمل کامیابی سے آزمایا جا چکا ہے۔

آصف احمد کے مطابق پاکستان میں گاڑیاں اب بھی بہت مہنگی ہیں۔ دنیا بھر میں ہائبرڈ گاڑی اسی وقت مالی طور پر فائدہ مند ہوتی ہے جب اس کی قیمت عام پیٹرول گاڑی سے صرف 10 فیصد زیادہ ہو،مگر پاکستان میں یہ فرق اوسطاً 45 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔یوں پہلا خریدار اپنی ملکیت کے عرصے میں یہ اضافی رقم واپس حاصل نہیں کر پاتا، جو پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیوں کی افادیت پر سوال اٹھاتا ہے۔

آصف احمد نے بتایا کہ ہائبرڈ گاڑیوں کی مرمت کا خرچ بھی پیٹرول گاڑی کے برابر ہوتا ہے، مگر خریداری لاگت زیادہ ہونے کے باعث مجموعی ملکیت کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ ہائبرڈ گاڑی صرف اس صورت میں فائدہ مند ہے جب اس کی اضافی قیمت 3 سال سے کم عرصے میں ایندھن کی بچت سے پوری ہو جائے۔

اگرچہ ہائبرڈ گاڑیاں عام پٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں فی لیٹر 8سے 10کلومیٹر زیادہ ایندھن بچت فراہم کرتی ہیں جس سے فی کلو میٹر تقریباً35روپے کی لاگت کی بچت ہوتی ہے لیکن اس اضافی لاگت کا کی واپسی کا دورانیہ خاصہ طویل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مکمل الیکٹرک گاڑیاں (EVs) ایندھن سے مکمل طور پر آزاد ہیں تاہم ان کی زیادہ قیمت اور چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی بڑے پیمانے پر ان کے استعمال میں رکاوٹ ہے۔

عالمی رجحانات کے مطابق فی الوقت پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں (PHEV) سب سے بہتر انتخاب ہیں، جن میں بجلی پر چلنے کی سہولت کے ساتھ ساتھ ہائبرڈ موڈ بھی موجود ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں ہائبرڈ گاڑی ہائبرڈ گاڑیاں ایندھن کی بچت پاکستان میں ایم جی

پڑھیں:

ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ

اسلام آباد:

رواں ہفتے ملک میں مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں0.91 فیصد اضافہ ہوگیا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار 9.66 فیصد رہی، حالیہ ایک ہفتے میں 22 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں، 8 اشیاء سستی اور 21 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کے بارے میں ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی، وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ہفتے آلو 3.70اور انڈے 7.31فیصد مہنگے ہوگئے جبکہ ٹماٹر کی قیمت میں 39.92 فیصد، لہسن کی قیمتوں میں0.41 فیصد، سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں 0.45 فیصد، چائے کی پتی کی قیمتوں میں 0.59 فیصد، واشنگ سوپ کی قیمتوں میں 0.21فیصد، پٹرول کی قیمت میں5.23 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15.87فیصد اور ایل پی جی کی قیمتوں میں0.91 فیصد اضافہ ہوا۔

ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں چینی کی قیمتوں میں 0.09فیصد،کیلوں کی قیمتوں میں 1.72 فیصد جبکہ چکن کی قیمتوں میں 4.66فیصد،ایری سکس چاول کی قیمت میں0.52 فیصد، دال چنے کی قیمتوں میں 0.03فیصد،دال مسور کی قیمتوں میں0.40 فیصد، دال مونگ 1.08 اور دال ماش1.07 فیصد سستی ہوئی۔

اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار087فیصداضافے کے ساتھ 10.23فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.89فیصداضافے کے ساتھ10.76فیصد رہی۔

اسی طرح 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.80 فیصداضافے کے ساتھ9.27فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.86فیصداضافے کے ساتھ9.23فیصد رہی جبکہ44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.98 فیصداضافے کے ساتھ 9.11فیصدرہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
  • ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ
  • پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
  • دُنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ