پاکستان اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے، پاکستانی مستقل مندوب
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار : فوٹو اسکرین گریپ
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ پاکستان اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان امن کو ایک موقع اور دینا چاہتا ہے، اسرائیل اور ایران تنازع کا پر امن چاہتے ہیں۔
سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوئتریس نے کہا کہ سلامتی کونسل سے آج امن کا واضح پیغام جانا چاہیے، ایران اسرائیل تنازع مزید بڑھا تو پھر کسی کے کنٹرول میں نہیں رہے گا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت اور غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتا ہے، سیکیورٹی کونسل اپنا کردار ادا کرے اور ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرے، سیکیورٹی کونسل سیز فائر کیلئے اپنا کردار ادا کرے، سفارتکاری کو ایک موقع اور دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایرانی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اسرائیل کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے خطے کے امن کو خطرہ ہے، اسرائیل ایران کی خود مختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ چین اسرائیل اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، یورپی ممالک اور ایران کے درمیان جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسرائیلی جارحیت اقوام متحدہ اور ایران نے کہا کہ کرتا ہے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔