مقررین نے کہا کہ اسرائیل نے صرف ایران پر نہیں پورے عالم اسلام پر حملہ کیا ہے۔ ایران کا دفاع کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اگر آج ہم نے سستی دکھائی اور خدانخواستہ ایران کو کچھ ہوا گیا تو مکہ مدینہ اور پاکستان بھی نہیں بچے گا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
گلگت میں تحریک بیداری کے زیر اہتمام یکجہتی ایران ریلی
اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کی ایران پر جارحیت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ تحریک بیداری کے زیر اہتمام نکالی گئی ریلی میں اہلسنت عمائدین اور اکابرین بھی شریک ہوئے۔ مرکزی جامع مسجد سے گھڑی باغ تک نکالی گئی ریلی میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی، اس موقع پر امریکہ اور اسرائیل کیخلاف فلک شگاف نعرے بھی لگائے گئے۔ گھڑی باغ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے رہنما محمد جہانزیب، ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی ترجمان غلام عباس اور معروف عالم دین سید ذیشان الحسینی نے کہا کہ اسرائیل نے صرف ایران پر نہیں پورے عالم اسلام پر حملہ کیا ہے۔ ایران کا دفاع کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اگر آج ہم نے سستی دکھائی اور خدانخواستہ ایران کو کچھ ہوا گیا تو مکہ مدینہ اور پاکستان بھی نہیں بچے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔