ایران کا جوہری پروگرام ختم کرکے وعدہ پورا کردیا: اسرائیلی وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب: ایران کےجوہری تنصیبات پر امریکی حملےکے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ حملے اسرائیل سے مکمل رابطےکے ساتھ کیےگئے۔
اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا ایران کاجوہری پروگرام اسرائیل کے وجود کےلیےخطرہ تھا اور اس سے ایرانی جوہری پروگرام سےدنیا کے امن کوخطرہ لاحق تھا،صدر ٹرمپ نے آپریشن مکمل ہونےکےفوری بعد مجھے فون کیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ایران کاجوہری پروگرام ختم کرنےکاوعدہ پورا ہوگیا، ایران خطے میں دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے۔ امریکا نے بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کرکے نا صرف اپنے اتحادیوں بلکہ پوری دنیا کو ایک واضح پیغام دیا ہے۔
اس کے علاوہ اپنے بیان میں اسرائیل کے وزیر اعظم نےصدر ٹرمپ کو اسرائیل کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا اور کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے ایران کے خلاف مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔