Jasarat News:
2026-06-03@06:58:20 GMT

بجٹ 2025ء اور ابن آدم کی ٹوٹی کمر

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مجھے آج سے 40 سال پہلے کا بجٹ بھی یاد ہے جب جون کے مہینے میں تمام عوام کو بجٹ کا بے چینی سے انتظار رہتا تھا۔ سرمایہ دار بجٹ سے پہلے اُن اشیا پر سرمایہ لگاتا تھا جس کا اُس کو اندازہ ہوتا کہ آنے والے بجٹ میں اس اشیا پر پیسے بڑھیں گے۔ سرکاری ملازم کو انتظار ہوتا کہ اُس کی تنخواہ بڑھنے والی ہے، پنشنرز کو انتظار ہوتا کہ اُس کی پنشن میں اضافہ ہوگا۔ اُس زمانے میں اتنے ٹیکس بھی نہیں ہوتے تھے آج تو عوام ٹیکس پر ٹیکس ادا کررہی ہے۔ KE کے خلاف عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کو اللہ کی مخلوق نے ایک درخواست پیش کی جس میں تحریر ہے کہ کے ای سمیت ملک بھر میں تمام الیکٹرک سپلائز کمپنیز سے درج ذیل 13 نکاتی ٹیکسز کی وضاحت طلب کی جائے۔
-1 بجلی کی قیمت ادا کردی تو اس پر کون سا ٹیکس؟
-2 کون سے فیول پر کون سی ایڈجسٹمنٹ کا ٹیکس؟
-3 کس پرائس پر الیکٹر سٹی پر کون سی ڈیوٹی؟
-4 کون سے فیول کی کس پرائس پر ایڈجسٹمنٹ؟
-5 بجلی کے یونٹس کی قیمت ’’جو ہم ادا کرچکے‘‘ پر کون سی ڈیوٹی اور کیوں؟
-6 ٹی وی کی کون سی فیس، جبکہ ہم الگ سے پیسے دے کر کیبل استعمال کرتے ہیں؟
-7 جب ماہانہ بل ادا کیا جاتا ہے تو یہ کواٹرلی ایڈجسٹمنٹ کیا ہے؟
-8 کون سی فنانس کی کاسٹ چارجنگ؟
-9 جب استعمال شدہ یونٹس کا بل ادا کررہے ہیں تو کس چیز کے ایکسٹرا چارجز؟
-10 کس چیز کے اور کون سے Further ’’اگلے‘‘ چارجز؟
-11 ودہولڈنگ چارجز کس شے کے؟
-12 میٹر تو ہم نے خود خریدا تھا اس کا کرایہ کیوں؟
-13 بجلی کا کون سا انکم ٹیکس؟
-14 اگر گزشتہ 6 ماہ میں ایک دفعہ بھی آپ کے یونٹ 200 کو ٹچ کرجائیں تو اگلے 6 ماہ آپ کے یونٹ کا ریٹ پہلے 200 یونٹ والا ہی ہوگا۔ جبکہ ہر مہینے ادائیگی کرنے پر بار بار ادائیگیاں۔ یہ کون سا ظلم کا فارمولا ہے۔ اس کے علاوہ ہر 100 یونٹ کے بعد ایک سلیب الگ بنا رکھا ہے۔ اتنے ظالمانہ ٹیکس لینے کے بعد بھی ہوس نہیں بھری تو ہر 100 یونٹ کے بعد 500 کا بھتا الگ رہتا ہے۔ یہ ظلم کا ایسا نظام ہے جو ہمارے ملک کے سوا کسی اور ملک میں رائج نہیں، مگر شاباش ہے حکومت اور حکومتی اداروں کو جن کو یہ ظلم نظر نہیں آتا۔ اس کے علاوہ غیر قانونی لوڈشیڈنگ الگ۔ ابن آدم سوچ رہا تھا کہ شاید موجودہ حکومت کو اپنے عوام پر ترس آجائے مگر بجٹ 2025ء نے ابن آدم کی اس سوچ کو تبدیل کردیا، موجودہ بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جس کو صرف حکومت نے پیش کیا ہے۔
پاکستان میں ٹیکسوں کا نظام، ان کی تعداد، شرح اور انہیں جمع کرنے کا طریقہ کار ہمیشہ سے حکومت اور صنعتی و تجارتی حلقوں کے درمیان تنازعات کا باعث رہا۔ فی الواقع کاروباری برادری ٹیکس دینا چاہتی ہے، فکس ٹیکس دینے کو تیار ہیں لیکن اکثر لوگ نظام سے خوفزدہ ہیں۔ صرف ایک بجلی کے بل پر کئی کئی مدوں میں ٹیکس لاگو ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ ملک کا ٹیکس نظام عوام دوست بنایا جائے مگر حکومت اس میں ناکام نظر آتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہر سال کا پیش کردہ وفاقی بجٹ کبھی بھی عوامی خواہشات کے مطابق نہیں ہوتا لیکن اس سال کا وفاقی بجٹ تو سرے سے ہی عوام توقعات اور خواہشات سے مطابقت نہیں رکھا۔ دنیا بھر کے ممالک عوام کو ریلیف دینے کے بجٹ میں اقدامات اٹھاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ہر دفعہ بجٹ میں غریب عوام سے قربانی مانگ کر ملک کے 15 فی صد اشرافیہ کو ریلیف دینے کے لیے بجٹ آتا ہے۔
حالیہ بجٹ بھی پہلے بجٹ کی طرح ایک گورکھ دھندا نظر آتا ہے۔ اس مرتبہ حکومت نے سرکاری ملازمین کو ہری جھنڈی دیکھا دی کہ آئی ایم ایف بجٹ میں سرکاری ملازمین کو ریلیف دینے کو تیار نہیں تو دوسری طرح بجٹ کے اعلان سے پہلے ہی ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی وفاقی و صوبائی وزرا مشیران اسپیکر قومی اسمبلی و چیئرمین سینیٹ اور ارکان سینیٹ کی تنخواہوں اور الائونس میں تقریباً 300 سے بھی کہیں زیادہ اضافہ کرتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا کہ حکومت صرف اپنا پیٹ بھر رہی ہے اُسے ملک کے غریب عوام سے کوئی دلچسپی، مجھے محمود خان اچکزئی کی تجویز بہت پسند آئی کہ جو حکومتوں میں رہے ان کی وسائل سے زیادہ جائدادیں ضبط کرکے آئی ایم ایف کا قرضہ ادا کیا جائے۔ بات ہے بھی سچ اس وقت اگر صرف 3 سیاسی پارٹیوں کے وزرا، مشیر، ایم این اے، ایم پی اے کو اگر دیکھیں تو ان کے پاس اتنی دولت ہے کہ پاکستان کا سارا قرضہ باآسانی اُتر سکتا ہے۔ اول جماعت پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم پاکستان آج یہ سب ارب پتی بن چکے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان میں تو اختیارات کی رسا کشی آج بھی جاری مگر اتنی ہمت کرے گا کون کیونکہ ان کو تو عوام لے کر آئے نہیں ہیں ان کی تو راتوں رات لاٹری نکل آئی جو شخص علاقے کے کونسلر کے قابل نہیں تھا وہ اسمبلیوں میں جا کر بیٹھ گیا، ملک میں حکومت عوام کی منتخب کردہ نہیں ہے لہٰذا ان کو عوام سے کوئی ہمدردی نہیں ہے بس اداروں کو فروخت کرنے کی تیاری میں لگے ہیں۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ اوپر والے نہیں چاہتے کہ اس قوم کی حالت بدلے، واحد جماعت اسلامی ہے جو عوام کا درد رکھتی ہے باقی تو ملک کو تباہ کرنے والی کمپنی کے ملازم ہیں۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے مطابق اگر آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کی جائے تو بجلی کی فی یونٹ قیمت آدھی ہوسکتی ہے۔ مگر حکومت نے آپ کے دھرنے پر وعدہ کیا تھا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا آپ کو دوبارہ سے میدان میں آنا ہوگا عوام کی نظریں آپ پر لگی ہوئی ہیں۔ امیر نے کہا کہ جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت پر خاموش نہیں رہ سکتی، آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرنا اداروں کے اپنے مفاد میں ہے۔ بجٹ میں مراعات یافتہ طبقہ پر مزید مراعات کی بوچھاڑ کی گئی ہے۔ تنخواہ دار، کسان، مزدور اور عام آدمی کے لیے بجٹ میں رتی برابر سہولت نہیں، حکومت اشیا ضروریہ بجلی، گیس، پٹرول کی قیمتوں میں کمی کرکے عام آدمی کو سہولت دے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنی جدوجہد سے ملک میں موجود قیادت کے خلا کو پُر کرسکتی ہے۔ عوامی حقوق کی جدوجہد سے جماعت اسلامی کے قدم آگے بڑھے ہیں، یہ چومکھی جدوجہد ہے جو جماعت کے کارکن کو کرنی ہے اور معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد رکھنی ہے۔ ہم نے رائے عامہ کو بہترین حکمت عملی سے تبدیل کرکے اپنا حامی بنانا ہے۔ معاشرے میں موجود ظالمانہ نظام کا خاتمہ کرکے منصفانہ نظام قائم کرنا ہے، کارکن اللہ سے تعلق کو مضبوط کریں کامیابی ضرور ملے گی۔
ابن آدم کہتا ہے آج کے پرآشوب دور میں فلسفہ انسانیت کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے جو آپ کو جماعت اسلامی کے اندر نظر آتا ہے آخر میں فیس بک کی اس پوسٹ کے ساتھ کالم ختم کرتا ہوں۔ بجٹ میں صحت کے لیے ’’ہوالشافی‘‘، تعلیم کے لیے ’’ربّ زدِنی علما‘‘ اور روزگار کے لیے ’’واللہ خیر الرزاقین‘‘ کے وطائف مختص کیے ہیں، حکومت کی اعلیٰ ظرفی قابل تحسین ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پر کون کون سی کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم