UrduPoint:
2026-07-24@09:57:46 GMT

ترکوں کی جرمن شہریت کے لیے درخواستیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

ترکوں کی جرمن شہریت کے لیے درخواستیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 29 جون 2025ء) ترکوں کے لیے جرمنی، چاہے وہ زندگی، کام یا تعلیم کے لیے ہو، تیزی سے پرکشش بنتا جا رہا ہے۔ امیگریشن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سن 2024 میں کل 22,525 ترک شہریوں کو جرمن پاسپورٹ ملے، جو 2023 کے مقابلے میں 110 فیصد اضافہ ہے۔

اب ترکی، شام کے بعد دوسرے نمبر پر ہے، جہاں کے سب سے زیادہ شہریوں کو جرمن پاسپورٹ مل رہے ہیں۔

علاز سمیر ان لوگوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے شہریت کے لیے درخواست دی تھی۔ وہ تقریباً آٹھ سال پہلے جرمنی میں اپنی ماسٹر ڈگری کے لیے آئے تھے۔ اب وہ برلن میں ایک وکیل کے طور پر ایک این جی او کے لیے کام کرتے ہیں اور آئینی قانون میں ڈاکٹریٹ مکمل کر رہے ہیں۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ شہریت حاصل کرنا ہر تارک وطن کا مقصد ہوتا ہے کیونکہ یہ زیادہ عملی ہے، ''ورنہ آپ ہمیشہ بیوروکریسی سے نمٹتے رہتے ہیں اور یہاں یہ بہت پیچیدہ ہے۔

(جاری ہے)

صرف رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنا عذاب بن سکتا ہے۔‘‘

بوراک کیچیلی، جو استنبول کی معروف بوغازیچی یونیورسٹی سے گریجویٹ آئی ٹی ماہر ہیں، سن 2016 میں کیریئر کے مواقع کے لیے جرمنی آئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ کئی سال نجی شعبے میں کام کر چکے ہیں اور آج بھی برلن میں رہتے ہیں۔

اپنی ماضی کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ''میں برسوں سے جرمنی میں رہ رہا ہوں اور روانی سے جرمن بولتا ہوں۔

اتنا وقت گزرنے کے بعد میں سیاسی طور پر اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ جرمن پاسپورٹ کی طاقت بھی ایک اہم عنصر تھی… اس کے ساتھ، میں دنیا کے کئی ممالک میں بغیر ویزہ کے سفر کر سکتا ہوں۔‘‘

سن 2025 کے گلوبل پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق، جو پاسپورٹس کی ویزہ فری ممالک کی تعداد کے لحاظ سے درجہ بندی کرتا ہے، متحدہ عرب امارات، اسپین، سنگاپور اور فرانس کے بعد جرمنی دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔

جرمن پاسپورٹ کے ساتھ دنیا کے 131 ممالک میں ویزہ فری انٹری حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ ترک پاسپورٹ صرف 75 ممالک تک رسائی دیتا ہے۔

دوہری شہریت ایک بڑی ترغیب

جرمنی کی جون 2024ء کی شہریت اصلاحات نے اس رجحان کو بڑھاوا دیا، جس میں دوہری شہریت تارکین وطن کے لیے دوسرا پاسپورٹ حاصل کرنے کی ایک بڑی ترغیب بنا۔

مثال کے طور پر علاز سمیر کہتے ہیں کہ وہ ترک شہریت چھوڑنے کے خواہشمند نہیں تھے، ''میں اپنے ووٹ کے حق سے محروم نہیں ہونا چاہتا تھا‘‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ترک پاسپورٹ کا فائدہ ان ممالک میں ہے، جہاں ترکی کے جرمنی سے بہتر تعلقات ہیں۔ بوراک کیچیلی بھی دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ وہ دو پاسپورٹس رکھنے کے امکان کو ''بہت مثبت‘‘ قرار دیتے ہیں۔

جرمنی کی گزشتہ حکومت نے شہریت حاصل کرنے کے لیے رہائش کی مدت کو آٹھ سے کم کر کے پانچ سال کر دیا تھا اور ان لوگوں کے لیے تین سال، جو غیر معمولی انضمام کا مظاہرہ کر سکتے تھے۔

تاہم اب نئی حکومت نے مئی 2025ء میں تین سالہ قانون کو ختم کر دیا ہے۔ لیکن نئی حکومت نے دوہری شہریت کے ماڈل کو برقرار رکھا ہے، یعنی تارکین وطن اپنا اصل پاسپورٹ بھی رکھ سکتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہت اہم ہے جو کہیں اور سے جرمنی آئے ہیں۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے تک تمام تارکین وطن، سوئس اور یورپی یونین کے رکن ممالک کے پاسپورٹ ہولڈرز کے علاوہ، کے لیے ضروری تھا کہ وہ جرمن پاسپورٹ حاصل کرنے سے پہلے اپنی سابقہ شہریت ترک کریں۔

اس قانون نے بہت سے لوگوں کو جرمن شہریت حاصل کرنے سے روک رکھا تھا کیونکہ ان کی اپنے آبائی ملک سے جذباتی، خاندانی اور کاروباری روابط تھے۔ یہ بات جرمنی میں رہنے والے تقریباً 30 لاکھ ترکوں پر بھی صادق آتی تھی۔ ترکی میں سیاسی جبر اور آسمان کو چھوتی مہنگائی

ترکی کی سیاسی، سماجی اور معاشی صورتحال بھی امیگریشن کی ایک بڑی وجہ رہی ہے۔

علاز سمیر کہتے ہیں، ''میں ایک اکیڈمک بننا چاہتا تھا لیکن مجھے یقین نہیں تھا کہ ترکی میں یہ آزادانہ طور پر ممکن ہے۔ جب حالات خراب ہوئے، میں نے ترکی چھوڑ دیا۔‘‘

کیچیلی کہتے ہیں کہ وہ ترکی میں '' ایک اچھی زندگی‘‘ نہیں گزار سکتے تھے، ''اگر میں نے جرمنی کے علاوہ کسی اور ملک کا انتخاب کیا ہوتا، تو شاید میں وہاں کی شہریت کے لیے بھی درخواست دیتا۔

‘‘

ترکی کا سیاسی ماحول کئی برسوں سے بگڑتا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں باقاعدگی سے حکومت کی طرف سے آزادی رائے اور پریس کی خلاف ورزیوں کی اطلاع دیتی ہیں۔ مارچ میں صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت نے اپنے سب سے مضبوط انتخابی چیلنجر اور استنبول کے میئر امام اوغلو کو گرفتار کیا۔

مزید برآں یہ ملک کئی برسوں سے معاشی طور پر مشکلات کا شکار ہے۔

سن 2015 میں ایک یورو کی قدر تقریباً 2.

3 ترک لیرا کے برابر تھی اور اب یہ تقریباً 46 لیرا کے برابر ہے۔ ترکی ہمیشہ 'گھر‘ رہے گا

جرمنی میں انضمام اور برسوں کی زندگی گزارنے کے باوجود، یہاں بہت سے ترک اب بھی اپنی پرانی ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں اور ترکی کو اپنا اصل گھر کہتے ہیں۔

علاز سمیر کہتے ہیں، ''جرمنی کبھی میرے لیے گھر نہیں بنا۔

میں خود کو جرمن نہیں کہوں گا۔ لیکن اگر میں نے ایسا کیا تو جرمن مجھ پر ہنسیں گے اور ٹھیک ہی کریں گے۔‘‘

وہ کہتے ہیں کہ وہ جرمنی میں زندگی سے ''زیادہ لطف اندوز‘‘ ہوتے ہیں لیکن تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں واقعی یہاں کا ہونے کا احساس نہیں ہوتا، ''میں نہیں سمجھتا کہ جرمن پاسپورٹ ملنے سے آپ فوری طور پر معاشرے میں قبول کر لیے جاتے ہیں، میرے ساتھ تو یقیناً ایسا نہیں تھا۔

‘‘

وہ پھر ان تجربات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو دوسرے تارکین وطن کے ساتھ ملتے جلتے ہیں: ''میرے لیے واضح ہے کہ میں صرف کاغذ پر جرمن ہوں۔ یہاں تک کہ اگر آپ جرمن معیار کے مطابق ڈھل بھی جائیں اور رہیں، آپ پھر بھی ہمیشہ ایک تارک وطن ہی رہتے ہیں۔‘‘

وہ جرمنی میں روزمرہ کے امتیازی سلوک کے لمحات کو یاد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے شہریت ملنے کے بعد اپارٹمنٹ تلاش کیا تو ان کے اصلی نام سے آن لائن درخواستوں کا کوئی جواب نہیں آیا۔ جب انہوں نے جعلی نام استعمال کیا تو یہ رویہ بدل گیا، ''اگر آپ کا نام جرمن نہیں ہے تو جرمن پاسپورٹ بھی آپ کے زیادہ زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔‘‘

ادارت: افسر اعوان

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کہتے ہیں کہ وہ جرمن پاسپورٹ دوہری شہریت تارکین وطن علاز سمیر حکومت نے کرتے ہیں شہریت کے کو جرمن ہیں اور کے لیے کے بعد

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی